کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ایمان والو ! جو مومن خواتین تمہارے پاس آئیں “
حدیث نمبر: 11412
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ قَالَ : كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا جَاءَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَلَّفَهَا عُمَرُ بِاللَّهِ مَا خَرَجَتْ رَغْبَةً بِأَرْضٍ عَنْ أَرْضٍ ، وَبِاللَّهِ مَا خَرَجَتِ الْتِمَاسَ دُنْيَا ، وَبِاللَّهِ مَا خَرَجَتْ إِلَّا حُبًّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جب مومن خواتین ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں ، تو تم اُن کا امتحان ہو ! اللہ تعالیٰ اُن کے ایمان کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب ( ایسی کوئی خاتون ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتی تھی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سے اللہ کے نام کا حلف لیتے تھے کہ وہ محض ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف منتقل ہونے کے لئے نہیں آئی ہے اور اللہ کی قسم ! وہ کسی دنیاوی مقصد کے حصول کے لئے نہیں آئی ، اللہ کی قسم ! وہ صرف اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی خاطر ( اپنے علاقے سے ) نکلی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11412
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2272)»
حدیث نمبر: 11413
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَحْمَدَ قَالَ : هَاجَرَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فِي الْهُدْنَةِ ، فَخَرَجَ أَخَوَاهَا عُمَارَةُ وَالْوَلِيدُ ابْنَا عُقْبَةَ حَتَّى قَدِمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَلَّمَاهُ فِي أُمِّ كُلْثُومٍ أَنْ يَرُدَّهَا إِلَيْهِمَا ، فَنَقَضَ اللَّهُ الْعَهْدَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ ، خَاصَّةً فِي النِّسَاءِ ، وَمَنَعَهُنَّ أَنْ يُرْدَدْنَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - آيَةَ الِامْتِحَانِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابو أحمد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ام کلثوم بنت عقبہ بن ابومعیط ، جنگ کے بعد مصالحت کے عرصے کے دوران ، ہجرت کر کے آئی ، تو اُس کے دو بھائی عمارہ اور ولید ، جو دونوں عقبہ کے بیٹے ہیں ، وہ دونوں بھی نکلے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے ام کلثوم کے بارے میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس خاتون کو ان دونوں کو واپس کر دیں ، تو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان خواتین کے بارے میں عہد کو کالعدم قرار دیا اور خواتین کے بارے میں اس بات سے منع کر دیا کہ انہیں مشرکین کی طرف واپس بھیجا جائے ، پھر اللہ تعالیٰ نے امتحان کے حکم سے متعلق آیات نازل کیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11413
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف