کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے حوالے سے منع نہیں کرتا جنہوں نے دین کے بارے میں ، تمہارے ساتھ جنگ نہیں کی “
حدیث نمبر: 11411
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : قَدِمَتْ قُتَيْلَةُ ابْنَةُ الْعُزَّى بْنِ عَبْدِ أَسْعَدَ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَسَلٍ عَلَى ابْنَتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ بِهَدَايَا ضِبَابٍ وَأَقِطٍ وَسَمْنٍ ، وَهِيَ مُشْرِكَةٌ ، فَأَبَتْ أَسْمَاءُ أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قتیلہ بنت عزی بن عبداسعد ، جن کا تعلق بنو مالک بن حسل سے ہے ، وہ اپنی صاحبزادی سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے پاس تحائف لے کر آئیں ، جن میں گوہ تھی ، پنیر تھا اور گھی تھا ، وہ خاتون مشرک تھیں ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے اُن کے تحائف قبول کرنے اور انہیں اپنے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اللہ تعالیٰ ، اُن لوگوں کے حوالے سے تمہیں منع نہیں کرتا ، جنہوں نے تمہارے ساتھ دین کے بارے میں ، تمہارے ساتھ جنگ نہیں کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ وہ اس خاتون کے تحائف قبول کر لیں اور انہیں اپنے گھر میں آنے دیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11411
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (4/4)»