کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک متعین حساب سے پیدا کیا ہے “
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : مَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ إِلَّا فِي أَهْلِ الْقَدَرِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت صرف قدریہ فرقہ کے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے : ” بے شک مجرم لوگ گمراہی اور دیوانگی میں ہیں ، جس دن انہیں جہنم میں منہ کے بل ڈالا جائے گا اور ( یہ کہا: جائے گا : ) تم جہنم کی تپش کا مزہ چکھو ! بے شک ہم نے ہر چیز کو مخصوص حساب کے مطابق پیدا کیا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یونس بن حارث ہے ، اسے یحییٰ بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11383
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2265)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْقَدَرِيَّةِ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ مُجَاهِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہ آیت قدریہ فرقے کے بارے میں نازل ہوئی تھی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جس دن انہیں جہنم میں منہ کے بل ڈالا جائے گا اور ( یہ کہا: جائے گا : ) تم جہنم کی تپش کا مزہ چکھو ! بے شک ہم نے ہر چیز کو مخصوص حساب کے مطابق پیدا کیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن مجاہد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11384
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11163)»
وَعَنْ زُرَارَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ قَالَ : " نَزَلَتْ فِي أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ يُكَذِّبُونَ بِقَدَرِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زرارہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” یہ کہا: جائے گا : ) تم جہنم کی تپش کا مزہ چکھو ! بے شک ہم نے ہر چیز کو خصوص حساب کے مطابق پیدا کیا ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ آیت میری امت کے کچھ افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، جو بعد کے زمانے میں آئیں گے ، جو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ تقدیر کو جھٹلائیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11385
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5316)»