حدیث نمبر: 11383
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : مَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ إِلَّا فِي أَهْلِ الْقَدَرِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت صرف قدریہ فرقہ کے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے : ” بے شک مجرم لوگ گمراہی اور دیوانگی میں ہیں ، جس دن انہیں جہنم میں منہ کے بل ڈالا جائے گا اور ( یہ کہا: جائے گا : ) تم جہنم کی تپش کا مزہ چکھو ! بے شک ہم نے ہر چیز کو مخصوص حساب کے مطابق پیدا کیا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یونس بن حارث ہے ، اسے یحییٰ بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11383
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2265)»