کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تحقیق اس نے اپنے پروردگار کی بڑی نشانیوں کو دیکھا “
حدیث نمبر: 11374
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَأَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَرَاهُ فِي صُورَتِهِ ، فَقَالَ : ادْعُ رَبَّكَ . فَدَعَا رَبَّهُ فَطَلَعَ عَلَيْهِ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ، فَجَعَلَ يَرْتَفِعُ وَيُشِيرُ ، فَلَمَّا رَآهُ صَعِقَ فَأَتَاهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكِرْمَانِيِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَإِدْرِيسُ ابْنُ بِنْتِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ يَكْتُبُ حَدِيثَهُ فِي الرِّقَاقِ كَمَا قَالَ ابْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے یہ کہا: کہ آپ انہیں اصل شکل و صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ اپنے پروردگار سے دعا کریں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے دعا کی تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام مشرق کی طرف سے آپ کے سامنے آئے ، وہ بلند ہو کے چل رہے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا ، تو آپ گر پڑے پھر وہ آپ کے پاس آئے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد محمد بن حسن کرمانی سے نقل کی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں اور ادریس ، جو وہب بن منبہ کا نواسہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث کو ، دلوں کو نرم کرنے والے موضوعات کے بارے میں نوٹ کیا جائے گا ، جیسا کہ یحیی بن معین نے یہ بات کہی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11374
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه البزار فى المسند (2261)»
حدیث نمبر: 11375
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنَّ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ قَدْ ] رَأَى رَبَّهُ . قَالَ عِكْرِمَةُ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، أَلَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ : لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَا أُمَّ لَكَ ، إِنَّمَا ذَلِكَ إِذَا تَجَلَّى بِكَيْفِيَّةٍ لَمْ يَقُمْ لَهُ بَصَرٌ . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کا دیدار کیا ہے ۔ عکرمہ نے کہا: اے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ! کیا اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی ہے ؟ ” بصارت ، اُس کا ادراک نہیں کر سکتی ، اور وہ بصارت کا ادراک کر سکتا ہے “ ۔ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تمہاری ماں نہ رہے ، مراد یہ ہے کہ جب وہ اپنی مخصوص کیفیت کے حوالے سے تجلی کرتا ہے ، تو اُس کے سامنے نگاہ ٹھہر نہیں سکتی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) ان کے حوالے سے ایک حدیث ، امام ترمذی نے بھی نقل کی ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حکم بن ابان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11375
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11619)»