کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ کیا تم نے لات اور عزیٰ کے بارے میں غور کیا ہے “
حدیث نمبر: 11376
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - فِيمَا يَحْسَبُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ بِمَكَّةَ ، فَقَرَأَ سُورَةَ وَالنَّجْمِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى فَجَرَى عَلَى لِسَانِهِ : تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى الشَّفَاعَةُ مِنْهُمْ تُرْتَجَى . قَالَ : فَسَمِعَ بِذَلِكَ مُشْرِكُو أَهْلِ مَكَّةَ فَسُرُّوا بِذَلِكَ ، فَاشْتَدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ . رَوَاهُ [ الْبَزَّارُ ] وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَزَادَ إِلَى قَوْلِهِ ( عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيمٍ ) يَوْمِ بَدْرٍ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ فِي سُورَةِ الْحَجِّ أَطْوَلُ مِنْ هَذَا ، وَلَكِنَّهُ ضَعِيفُ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن جبیر کے بیان کے مطابق سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں موجود تھے ، آپ نے سورت نجم کی تلاوت کی یہاں تک کہ آپ اس مقام پر پہنچے : ” کیا تم نے لات اور عزی کے بارے میں غور کیا ہے اور منات کے بارے میں ، جو تیسری ہے “ ۔ تو وہاں یہ آواز آئی : «”تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى الشَّفَاعَةُ مِنْهُمْ تُرْتَجِي“» راوی بیان کرتے ہیں : اہل مکہ کے مشرکین نے یہ بات سنی ، تو وہ اس پر خوش ہوئے ، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزری ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اور ہم نے تم سے پہلے ، جس بھی نبی اور رسول کو مبعوث کیا ، جب اس نے تلاوت کی ، تو شیطان نے اس کی تلاوت کے درمیان رخنہ ڈالا ، تو شیطان کی ڈالی ہوئی چیز کو اللہ تعالیٰ ختم کر دیتا ہے اور پھر اپنی آیات کو مضبوط کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں یہ آیت یہاں تک ہے : ” برباد کرنے والے دن کا عذاب “ ۔ اس سے مراد غزوہ بدر کا دن ہے ۔ ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی نے یہ بات کہی ہے : میرے علم کے مطابق
یہ روایت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ، اس سے پہلے سورت حج میں ایک ” مرسل “ روایت گزر چکی ہے جو اس سے زیادہ طویل ہے ، لیکن سند کے اعتبار سے ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں یہ آیت یہاں تک ہے : ” برباد کرنے والے دن کا عذاب “ ۔ اس سے مراد غزوہ بدر کا دن ہے ۔ ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی نے یہ بات کہی ہے : میرے علم کے مطابق
یہ روایت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ، اس سے پہلے سورت حج میں ایک ” مرسل “ روایت گزر چکی ہے جو اس سے زیادہ طویل ہے ، لیکن سند کے اعتبار سے ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11377
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [ قَالَ ] أَنَّ الْعُزَّى كَانَتْ بِبَطْنِ نَخْلَةَ ، وَأَنَّ اللَّاتَ كَانَتْ بِالطَّائِفِ ، وَأَنَّ مَنَاةَ كَانَتْ بِقُدَيْدٍ . قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ : بَطْنُ نَخْلَةَ هُوَ بُسْتَانُ بَنِي عَامِرٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں عزی نامی بت ’ بطن نخلہ ، کے نشیبی حصے میں تھا اور لات“ نامی بت ” طائف “ میں تھا اور منات نامی بت ” قدید “ میں تھا ۔ علی بن جعد کہتے ہیں : بطن نخلہ “ بنو عامر کا باغ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔