کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور ان کی اولاد نے ایمان کے ہمراہ ان کی پیروی کی “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ الْجَنَّةَ سَأَلَ عَنْ أَبَوَيْهِ وَزَوْجَتِهِ وَوَلَدِهِ ، فَيُقَالُ : إِنَّهُمْ لَمْ يَبْلُغُوا دَرَجَتَكَ وَعَمَلَكَ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ قَدْ عَمِلْتُ لِي وَلَهُمْ ، فَيُؤْمَرُ بِإِلْحَاقِهِمْ " . وَقَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ الْآيَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَزْوَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب آدمی جنت میں داخل ہو جائے گا ، تو وہ اپنے ماں باپ اپنی بیوی بچوں کے بارے میں دریافت کرے گا تو اسے بتایا جائے گا : کہ وہ تمہارے درجہ اور تمہارے عمل تک نہیں پہنچ سکے ، تو وہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے لئے اور ان لوگوں کے لئے عمل کیا تھا ، تو حکم دیا جائے گا کہ ان لوگوں کو اس کے ساتھ ملا دیا جائے ۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت کی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی ذریت نے ایمان کے ہمراہ ان کی پیروی کی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن غزوان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11369
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (640)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَيَرْفَعُ ذُرِّيَّةَ الْمُؤْمِنِ إِلَيْهِ فِي دَرَجَتِهِ وَإِنْ كَانُوا دُونَهُ فِي الْعَمَلِ لِتَقَرَّ بِهِمْ عَيْنُهُ " ، ثُمَّ قَرَأَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ الْآيَةَ ، ثُمَّ قَالَ : " وَمَا نَقَصْنَا الْآبَاءَ بِمَا أَعْطَيْنَا الْبَنِينَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالٰی مومن کی اولاد کو ، اس کے درجہ میں اس کے پاس بلند کر کے لائے گا ، اگرچہ اس اولاد کا مرتبہ عمل کے اعتبار سے مومن سے کم ہو گا ، اس کی وجہ یہ ہو گی ، تاکہ اس کے ذریعے اس مومن کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی ذریت نے ایمان کے ہمراہ اُن کی پیروی کی “ ۔ پھر آپ نے فرمایا : ” ہم بیٹوں کو جو دیں گے ، اس کی وجہ سے آباء میں کوئی کمی نہیں کریں گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11370
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2260)»