مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور ان کی اولاد نے ایمان کے ہمراہ ان کی پیروی کی “
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَيَرْفَعُ ذُرِّيَّةَ الْمُؤْمِنِ إِلَيْهِ فِي دَرَجَتِهِ وَإِنْ كَانُوا دُونَهُ فِي الْعَمَلِ لِتَقَرَّ بِهِمْ عَيْنُهُ " ، ثُمَّ قَرَأَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ الْآيَةَ ، ثُمَّ قَالَ : " وَمَا نَقَصْنَا الْآبَاءَ بِمَا أَعْطَيْنَا الْبَنِينَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالٰی مومن کی اولاد کو ، اس کے درجہ میں اس کے پاس بلند کر کے لائے گا ، اگرچہ اس اولاد کا مرتبہ عمل کے اعتبار سے مومن سے کم ہو گا ، اس کی وجہ یہ ہو گی ، تاکہ اس کے ذریعے اس مومن کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی ذریت نے ایمان کے ہمراہ اُن کی پیروی کی “ ۔ پھر آپ نے فرمایا : ” ہم بیٹوں کو جو دیں گے ، اس کی وجہ سے آباء میں کوئی کمی نہیں کریں گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔