کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور قوم عاد میں ( بھی ایک نشانی ہے ) جب ہم نے ان پر خشک آندھی بھیجی “
حدیث نمبر: 11366
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى عَادٍ مِنَ الرِّيحِ [ الَّتِي أُهْلِكُوا فِيهَا ] إِلَّا مِثْلَ مَوْضِعِ الْخَاتَمِ ، فَمَرَّتْ بِأَهْلِ الْبَادِيَةِ فَحَمَلَتْ مَوَاشِيَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ أَهْلُ الْحَاضِرِ قَالُوا : هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا ، فَأَلْقَتْ أَهْلَ الْبَادِيَةِ وَمَوَاشِيَهُمْ عَلَى أَهْلِ الْحَاضِرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے جب قوم عاد پر وہ ہوا بھیجی ، جس میں وہ ہلاکت کا شکار ہوئے ، تو اس کے صرف اتنے حصے کو کھولا گیا تھا ، جتنی ایک انگوٹھی کی جگہ ہوتی ہے ، وہ دیہاتی لوگوں کے پاس سے گزری ، تو اس نے ان کے جانور اور اموال ، زمین اور آسمان کے درمیان اٹھا لیے ، جب شہری لوگوں نے اس ہوا کو دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ تو بادل ہے جو ہم پر بارش نازل کرے گا تو اس ہوا نے دیہاتی لوگوں کو اور ان کے جانوروں کو شہری لوگوں پر ڈال دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11366
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13553)»
حدیث نمبر: 11367
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى عَادٍ مِنَ الرِّيحِ إِلَّا مِثْلَ مَوْضِعِ الْخَاتَمِ ، أُرْسِلَتْ عَلَيْهِمْ فَحَمَلَتِ الْبَدْوَ إِلَى الْحَضَرِ ، فَلَمَّا رَآهَا أَهْلُ الْحَضَرِ قَالُوا : هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا مُسْتَقْبِلُ أَوْدِيَتِنَا . وَكَانَ أَهْلُ الْبَوَادِي فِيهَا ، فَأُلْقِيَ أَهْلُ الْبَادِيَةِ عَلَى أَهْلِ الْحَاضِرِ حَتَّى هَلَكُوا " . قَالَ : " عَتَتْ عَلَى خُزَّانِهَا حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ خِلَالِ الْأَبْوَابِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر جو ہوا بھیجی تھی ، وہ صرف اتنی جگہ تھی ، جتنی انگوٹھی جتنی جگہ ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ ہوا بھیجی اس نے دیہاتی لوگوں کو اٹھایا اور شہر کی طرف لے آئی ، جب شہر والوں نے اس کو دیکھا ، تو انہوں نے کہا: یہ تو بادل لگتا ہے ، جو ہم پر بارش کرے گا ، جو ہماری وادیوں کی طرف آ رہا ہے ، اور اس ہوا میں دیہاتی لوگ تھے ، تو اس ہوا نے دیہاتی لوگوں کو شہری لوگوں پر ڈال دیا یہاں تک کہ وہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ہوا نے اپنے نگران فرشتوں کی نافرمانی کی ، یہاں تک کہ وہ دروازوں کے درمیان میں سے نکل آئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11367
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12416)»