عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ : جَاءَ أَصْبَغُ التَّمِيمِيُّ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَخْبِرْنِي عَنِ ( الذَّارِيَاتِ ذَرْوًا ) قَالَ : هِيَ الرِّيَاحُ ، وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُهُ مَا قُلْتُهُ . قَالَ : فَأَخْبِرْنِي عَنِ ( الْحَامِلَاتِ وِقْرًا ) قَالَ : هِيَ السَّحَابُ ، وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُهُ مَا قُلْتُهُ . قَالَ : فَأَخْبِرْنِي عَنِ ( الْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا ) قَالَ : هِيَ الْمَلَائِكَةُ ، وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُهُ مَا قُلْتُهُ . قَالَ : فَأَخْبِرْنِي عَنِ ( الْجَارِيَاتِ يُسْرًا ) قَالَ : هِيَ السُّفُنُ ، وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُهُ مَا قُلْتُهُ . ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَضُرِبَ مِائَةً وَجُعِلَ فِي بَيْتٍ ، فَلَمَّا بَرَأَ دَعَاهُ فَضَرَبَهُ مِائَةً أُخْرَى ، وَحَمَلَهُ عَلَى قَتَبٍ ، وَكَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ : امْنَعِ النَّاسَ مِنْ مُجَالَسَتِهِ . فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى أَتَى أَبَا مُوسَى فَحَلَفَ لَهُ بِالْأَيْمَانِ الْمُغَلَّظَةِ مَا يَجِدُ فِي نَفْسِهِ مِمَّا كَانَ يَجِدُ شَيْئًا ، فَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى عُمَرَ ، فَكَتَبَ عُمَرُ مَا أَخَالُهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ ، فَخَلِّ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ مُجَالَسَةِ النَّاسِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : اصبغ تمیمی ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: اے امیر المؤمنین ! آپ مجھے اس آیت کے بارے میں بتائیے : ” اور اڑا کر بکھیر دینے والیوں کی قسم ہے “ ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس سے مراد ہوائیں ہیں ، اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا ، تو میں نے یہ بات بیان نہیں کرنی تھی ۔ اس نے کہا: آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیے : ” بوجھ اٹھانے والیوں کی قسم ہے “ ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس سے مراد بادل ہیں ، اگر یہ بات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا ، تو میں نے یہ بات نہیں کہنی تھی ۔ اس نے کہا: آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیے : ” اور کام تقسیم کرنے والوں کی قسم ہے “ ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس سے مراد فرشتے ہیں ، اگر میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا ، تو میں نے یہ بات بیان نہیں کرنی تھی ۔ اس نے کہا: آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیے : آرام سے چلنے والیوں کی قسم ہے “ ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس سے مراد کشتیاں ہیں ، اگر میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا ، تو میں نے یہ بات بیان نہیں کرنی تھی ۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں حکم دیا اسے ایک سو کوڑے لگائے گئے ، پھر ایک گھر میں رکھا گیا ، جب وہ ٹھیک ہوا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے بلوایا پھر اسے ایک سو کوڑے مزید لگوائے اور اسے ایک پالان پر سوار کروایا اور پھر سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف یہ مکتوب بھیجا کہ لوگوں کو اس کے پاس بیٹھنے سے منع کر دو ، وہ شخص اسی حالت میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے سامنے بھرپور قسم اٹھائی کہ پہلے اُسے اپنے من میں جو محسوس ہوتا تھا ، اب اس طرح کی کوئی بات اس کے من میں نہیں ہے سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جوابی خط میں لکھا کہ اس کے بارے میں میرا یہ خیال نہیں ہے کہ اس نے غلط بیانی کی ہو گی ، تو اب تم اسے لوگوں کے پاس اٹھنے بیٹھنے دو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابوسبرہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابوسبرہ ہے اور وہ متروک ہے ۔