کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: سورت حجرات کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ایمان والو ! تم اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے بلند نہ کرو “
حدیث نمبر: 11349
عَنْ أَبِي بَكْرٍ - يَعْنِي الصِّدِّيقَ - قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُكَ إِلَّا كَأَخِي السِّرَارِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حُصَيْنُ بْنُ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اے ایمان والو ! اپنی آوازوں کو ، نبی کی آواز سے بلند نہ کرو “ ۔ تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! اب میں آپ کے ساتھ جب بھی بات کروں گا ، تو یوں کروں گا ، جیسے سرگوشی میں بات کی جاتی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حصین بن عمرو احمسی ہے اور وہ متروک ہے ، عجلی نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حصین بن عمرو احمسی ہے اور وہ متروک ہے ، عجلی نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔