کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ ان کی مخصوص نشانی ان کے چہروں پر موجود سجدے کے نشان ہیں “
حدیث نمبر: 11347
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ قَالَ : " النُّورُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کیا ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” ان کی مخصوص نشانی ، ان کے چہروں پر موجود سجدے کا نشان ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس سے مراد قیامت کے دن نور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رؤاد بن جراح ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رؤاد بن جراح ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 11348
وَعَنِ الْجُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ إِذْ جَاءَ الزُّبَيْرُ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَفِي وَجْهِهِ أَثَرُ السُّجُودِ ، فَلَمَّا رَآهُ قَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قِيلَ الزُّبَيْرُ ، قَالَ : لَقَدْ أَفْسَدَ هَذَا وَجْهَهُ ، أَمَا وَاللَّهِ مَا هِيَ السِّيمَاءِ الَّتِي سَمَّاهَا اللَّهُ ، وَلَقَدْ صَلَّيْتُ عَلَى وَجْهِي مُنْذُ ثَمَانِينَ سَنَةً مَا أَثَّرَ السُّجُودُ بَيْنَ عَيْنَيَّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
جعید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : میں سائب بن یزید کے پاس موجود تھا ، اسی دوران زبیر بن سہیل بن عبدالرحمن بن عوف تشریف لائے ، ان کے چہرے پر سجدے کا نشان موجود تھا ، جب سائب نے انہیں دیکھا تو دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ انہیں بتایا گیا یہ زبیر ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : اس نے اپنے چہرے کو خراب کر لیا ہے ، اللہ کی قسم ! جس نشان کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ، اُس سے مراد یہ والا نشان نہیں ہے ، میں اسی سال سے نماز پڑھ رہا ہوں ، لیکن میری دونوں آنکھوں کے درمیان تو کوئی نشان نہیں بنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔