کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: سورت زمر کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ پھر تم لوگ قیامت کے دن اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا کرو گے “
حدیث نمبر: 11310
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَقَدْ غَشِيَتْنَا بُرْهَةٌ مِنْ دَهْرِنَا وَنَحْنُ نَرَى أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِينَا وَفِي أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ قَبْلِنَا إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ الْآيَةَ ، قُلْنَا : كَيْفَ نَخْتَصِمُ وَنَبِيُّنَا وَاحِدٌ وَكِتَابُنَا وَاحِدٌ ؟ حَتَّى رَأَيْتُ بَعْضَنَا يَضْرِبُ وُجُوهَ بَعْضٍ بِالسَّيْفِ فَعَرَفْتُ أَنَّهَا فِينَا نَزَلَتْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک عرصے تک ہم یہی سمجھتے رہے اور یہی سوچتے رہے کہ یہ آیت ہمارے بارے میں اور اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، جو ہم سے پہلے تھے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” بے شک تم بھی میت ہو اور وہ لوگ بھی میت ہیں ، اور پھر قیامت کے دن تم لوگ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ، ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا کرو گے “ ۔ ہم یہ سوچا کرتے تھے کہ ہم کیسے جھگڑا کریں گے ؟ جبکہ ہمارا نبی ایک ہے ، اور ہماری کتاب ایک ہے ، یہاں تک کہ ہم نے یہ صورت حال دیکھی کہ ہم میں سے لوگ ایک دوسرے کے مقابلے میں تلواریں لے کے آ گئے ، تو اس سے مجھے پتہ چل گیا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11311
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ قَالَ الزُّبَيْرُ : أَفَيُكَرَّرُ عَلَيْنَا مَا كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ لَيُكَرَّرُ حَتَّى يُؤَدَّى إِلَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقُّهُ " ، قَالَ الزُّبَيْرُ : وَاللَّهِ إِنَّ الْأَمْرَ لَشَدِيدٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی : ” بے شک تم میت ہو اور وہ بھی میت ہیں ، پھر بے شک تم لوگ قیامت کے دن ، اللہ کی بارگاہ میں ، ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا کرو گے “ ۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : کیا دنیا میں ہمارے درمیان جو ( اختلافی ) چیز پائی جاتی ہے ، وہ ہم پر دوبارہ آئے گی ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! وہ ( اختلافی چیز ) تم پر دوبارہ آئے گی ، یہاں تک کہ ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا جائے گا ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! پھر تو معاملہ بہت مشکل ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔