کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ انہوں نے کہا : یہ حق ہے اور وہ بلند و برتر ، بڑا ہے “
حدیث نمبر: 11288
عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُوحِيَ بِأَمْرِهِ تَكَلَّمَ بِالْوَحْيِ ، فَإِذَا تَكَلَّمَ بِالْوَحْيِ أَخَذَتِ السَّمَاءَ رَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ مِنْ خَوْفِ اللَّهِ ، فَإِذَا سَمِعَ ذَلِكَ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ صَعِقُوا وَخَرُّوا سُجَّدًا ، فَيَكُونُ أَوَّلُهُمْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ جِبْرِيلَ ، فَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ مِنْ وَحْيِهِ بِمَا أَرَادَ فَيَنْتَهِي بِهِ جِبْرِيلُ عَلَى الْمَلَائِكَةِ ، كُلَّمَا مَرَّ بِسَمَاءٍ سَأَلَهُ أَهْلُهَا : مَاذَا قَالَ رَبُّنَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ ، فَيَقُولُ كُلُّهُمْ مِثْلَ مَا قَالَ جِبْرِيلُ ، فَيَنْتَهِي بِهِ جِبْرِيلُ حَيْثُ أُمِرَ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ يَحْيَى بْنِ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ وَقَدْ وُثِّقَ وَتَكَلَّمَ فِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ بِغَيْرِ [ قَادِحٍ مُعَيَّنٍ ] ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی حکم کے بارے میں وحی نازل کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور اس وحی کے بارے میں کلام کرتا ہے ، تو جب وہ وحی کے بارے میں کلام کرتا ہے ، تو آسمان پر شدید کپکپی طاری ہوتی ہے ، جو اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے ہوتی ہے ، جب آسمان والے اس کو سنتے ہیں ، تو وہ سجدے میں گر جاتے ہیں ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام ان میں سے سب سے پہلے سر اٹھاتے ہیں ، پھر اللہ تعالٰی اپنی وحی کے حوالے سے ان سے جو چاہتا ہے ، وہ کلام کرتا ہے ، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام اسے لے کر فرشتوں کے پاس آتے ہیں ، وہ جس بھی آسمان سے گزرتے ہیں ، تو اس آسمان والے اُن سے دریافت کرتے ہیں : اے سیدنا جبرائیل ! ہمارے پروردگار نے کیا ارشاد فرمایا ہے ؟ تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام کہتے ہیں : وہ بات حق ہے اور وہ پروردگار بلند و برتر ( اور ) بڑا ہے ، تو تمام فرشتے وہی بات کہتے ہیں ، جو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہی ہوتی ہے ، یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام اس حکم کو لے کر وہاں آ جاتے ہیں ، جہاں کے بارے میں انہیں حکم دیا گیا ہو ، خواہ اُس کا تعلق زمین سے ہو ، یا آسمان سے ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد یحیی بن عثمان بن صالح کے حوالے سے نقل کی ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بارے میں کسی متعین قدح کے بغیر کلام کیا گیا ہے اور قدح کرنے والے کا نام بھی بیان نہیں کیا گیا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11288
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن