کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: سورت فاطر کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اُن میں سے کچھ لوگ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور کچھ لوگ میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں “
حدیث نمبر: 11289
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ قَالَ : الَّذِينَ سَبَقُوا فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَأَمَّا الَّذِينَ اقْتَصَدُوا فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يُحَاسَبُونَ حِسَابًا يَسِيرًا ، وَأَمَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فِي طُولِ الْمَحْشَرِ ، ثُمَّ هُمُ الَّذِينَ يَتَلَقَّاهُمُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِرَحْمَتِهِ فَهُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ رِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ وَهِيَ هَذِهِ إِنْ كَانَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيُّ سَمِعَ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ فَإِنَّهُ تَابِعِيٌّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” ان میں سے کچھ لوگ ، اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں ، اور ان میں سے کچھ لوگ میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں ، اور ان میں سے کچھ لوگ ، اللہ کے اذن کے تحت بھلائی میں سبقت لے جانے والے ہیں “ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) جہاں تک اُن لوگوں کا تعلق ہے ، جو سبقت لے جانے والے ہیں ، تو یہ وہ لوگ ہیں ، جو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے ، جو میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں ، تو یہ وہ لوگ ہیں ، جن سے معمولی سا حساب لیا جائے گا ، اور جہاں تک اُن لوگوں کا تعلق ہے ، جو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں ، تو یہ وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ، یہ میدان محشر میں موجود رہیں گے ، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ساتھ ان سے ملاقات کرے گا اور یہی وہ لوگ ہیں جو یہ کہیں گے : ” ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے ہم سے پریشانی کو دور کر دیا ، بے شک ہمارا پروردگار مغفرت کرنے والا ، شکر کو قبول کرنے والا ہے ، جس نے اپنے فضل کے تحت ، قیام کی جگہ کو ہمارے لئے حلال قرار دیا ، جہاں ہمیں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی اور کوئی شور غوغا نہیں ہوتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اور وہ یہی روایت ہے ، اگر علی بن عبداللہ ازدی نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہو ، ویسے وہ شخص تابعی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اور وہ یہی روایت ہے ، اگر علی بن عبداللہ ازدی نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہو ، ویسے وہ شخص تابعی ہے ۔
حدیث نمبر: 11290
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيِّ عَنِ الشَّامِيِّ نَفْسِهِ أَنَّهُ دَخَلَ مَسْجِدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ] وَقَالَ : اللَّهُمَّ آنِسْ وَحْشَتِي وَارْحَمْ غُرْبَتِي وَصِلْ وَحْدَتِي وَائْتِنِي بِرَجُلٍ صَالِحٍ تَنْفَعُنِي بِهِ . فَإِذَا رَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ فَلَمَّا أَنْ فَرَغَ قَالَ الشَّامِيُّ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَبُو الدَّرْدَاءِ ، مَا هَاجَكَ عَلَى مَا أَرَى ؟ فَأَخْبَرَهُ بِدُعَائِهِ ، فَقَالَ : لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَأَنَا أَسْعَدُ بِدُعَائِكَ مِنْكَ ، أَفَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا أُتْحِفُكَ بِهِ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَأَمَّا الَّذِينَ سَبَقُوا فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ثَابِتٍ أَوْ أَبِي ثَابِتٍ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِاخْتِصَارٍ ، وَلَمْ يَقُلْ فِيهِ عَنِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، وَثَابِتُ بْنُ عُبَيْدٍ وَمَنْ قَبْلَهُ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ رَجُلٌ غَيْرُ مُسَمًّى . ¤
محمد محی الدین
علی بن عبدالله ازدی نے ، شامی نامی راوی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں داخل ہوئے اور وہاں انہوں نے دو رکعت ادا کیں اور یہ دعا کی : ” اے اللہ ! میری وحشت میں غمخوار دیدے ، میری غریب الوطنی پر رحم فرما ، اور میرے اکیلے پن کے ساتھ کسی کو ملا دے اور مجھے ایسا نیک شخص عطا فرما دے ، جس کے ذریعے تو مجھے نفع دے “ ۔ تو اُس شخص کے پہلو میں ایک صاحب موجود تھے ، جب وہ شخص دعا کر کے فارغ ہوا ، تو اس شامی نے کہا: آپ کون ہیں ؟ تو ان صاحب نے کہا: ابودرداء ، انہوں نے کہا: میں نے جو چیز دیکھی ہے تم نے ایسا کیوں کیا ؟ تو انہوں نے اپنی دعا کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : اگر تم سچے ہو ، تو میں تمہاری دعا کے حوالے سے تم سے زیادہ سعادت مند ہوں ، کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ بیان کروں ؟ جو میں تمہیں تحفے کے طور پر دوں گا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” پھر ہم نے کتاب کا وارث اُن لوگوں کو بنایا ، جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کر لیا تھا “ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) وہ لوگ جو سبقت لے جانے والے ہیں ، تو یہ وہ لوگ ہیں ، جو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور انہوں نے یہ کہا: ہے : یہ اعمش کے حوالے سے ثابت ، یا ابوثابت سے منقول ہے : ” ایک شخص مسجد میں ، یعنی مسجد دمشق میں داخل ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث اختصار کے ساتھ نقل کی ہے انہوں نے اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بھی کچھ منقول ہے اور اس میں ایک راوی ثابت بن عبید ہے ، اس سے پہلے کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور انہوں نے یہ کہا: ہے : یہ اعمش کے حوالے سے ثابت ، یا ابوثابت سے منقول ہے : ” ایک شخص مسجد میں ، یعنی مسجد دمشق میں داخل ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث اختصار کے ساتھ نقل کی ہے انہوں نے اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بھی کچھ منقول ہے اور اس میں ایک راوی ثابت بن عبید ہے ، اس سے پہلے کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 11291
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ قَالَ : " السَّابِقُ بِالْخَيْرَاتِ وَالْمُقْتَصِدُ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَالظَّالِمُ لِنَفْسِهِ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ثُمَّ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ رَجُلٍ سَمَّاهُ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ ثَابِتَ بْنَ عُمَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّ كَمَا تَقَّدَمَ عِنْدَ أَحْمَدَ فَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ” اور ان میں سے کچھ لوگ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں ، اور ان میں سے کچھ میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں ، اور ان میں سے کچھ بھلائی کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بھلائی کی طرف سبقت لے جانے والے اور میانہ روی اختیار کرنے والے لوگ ، کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، اور اپنے اوپر ظلم کرنے والوں سے معمولی سا حساب لیا جائے گا ، اور پھر انہیں بھی جنت میں داخل کر دیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اعمش کے حوالے سے ایک شخص سے نقل کی ہے ، جس کا نام انہوں نے بیان کیا تھا ، اگر وہ ثابت بن عمیر انصاری ہے ، جیسا کہ امام أحمد کے حوالے سے پہلے گزر چکا ہے ، تو پھر امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اعمش کے حوالے سے ایک شخص سے نقل کی ہے ، جس کا نام انہوں نے بیان کیا تھا ، اگر وہ ثابت بن عمیر انصاری ہے ، جیسا کہ امام أحمد کے حوالے سے پہلے گزر چکا ہے ، تو پھر امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11292
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُمَّتِي ثَلَاثَةُ أَثْلَاثٍ فَثُلُثٌ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَثُلُثٌ يُحَاسَبُونَ حِسَابًا يَسِيرًا ثُمَّ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، وَثُلُثٌ يُمَحَّصُونَ وَيُكْشَفُونَ ثُمَّ تَأْتِي الْمَلَائِكَةُ فَيَقُولُونَ : وَجَدْنَاهُمْ يَقُولُونَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ ، فَيَقُولُ : صَدَقُوا ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا ، أَدْخِلُوهُمُ الْجَنَّةَ بِقَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ ، وَاحْمِلُوا خَطَايَاهُمْ عَلَى أَهْلِ التَّكْذِيبِ فَهِيَ الَّتِي قَالَ اللَّهُ : وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ وَتَصْدِيقُهَا فِي الَّتِي ذُكِرَ فِيهَا الْمَلَائِكَةُ ، قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَجَعَلَهُمْ ثَلَاثَةَ أَفْوَاجٍ وَهُمْ أَصْنَافٌ كُلُّهُمْ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ فَهَذَا الَّذِي يُكْشَفُ وَيُمَحَّصُ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَهُوَ الَّذِي يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ فَهُوَ الَّذِي يَلِجُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ بِإِذْنِ اللَّهِ يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا لَمْ يُفَرَّقْ بَيْنَهُمْ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مَنْ ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَى عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِهَا كَذَلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری امت تین قسم کی ہو گی ، ایک تہائی لوگ جنت میں کسی حساب کے بغیر داخل ہوں گے ، ایک تہائی لوگوں سے معمولی حساب لیا جائے گا ، پھر وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ، اور ایک تہائی لوگ وہ ہوں گے جن کی تحقیق اور تفتیش کی جائے گی ، پھر فرشتے آئیں گے ، اور یہ کہیں گے : کہ ہم نے ان لوگوں کو پایا ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ لوگ کیا کہتے ہیں ، میرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تم لوگ انہیں جنت میں داخل کر دو ! جو ان کے یہ کہنے کی وجہ سے ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی معبود ہے اور تم لوگ اُن کی خطائیں ، جھٹلانے والوں کے ذمہ ڈال دو ، ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اسی بات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں کیا ہے : ” اور وہ لوگ ضرور اپنا بوجھ اٹھائیں گے اور ( ان کے ) اپنے بوجھ کے ہمراہ مزید بوجھ بھی ہو گا “ ۔ اور اس کی تصدیق اس چیز میں ہوتی ہے ، جس میں فرشتوں کا ذکر کیا گیا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ” پھر ہم نے کتاب کا وارث ان لوگوں کو کر دیا ، جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کیا تھا “ ۔ تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو تین حصوں میں بنا دے گا اور وہ حصے یہ ہوں گے : ” ان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں ، جو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں “ تو یہ وہ قسم ہے جن سے تحقیق اور تفتیش کی جائے گی ۔ ” اور ان میں سے کچھ لوگ میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں “ ۔ یہ وہ لوگ ہیں ، جن سے آسانی سے حساب لیا جائے گا ۔ ” اور ان میں سے کچھ لوگ ، بھلائی کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں “ ۔ تو یہ وہ لوگ ہیں ، جو کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔ ” اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت “ ۔ یعنی وہ سب لوگ ، اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت جنت میں داخل ہوں گے ، اُن کے درمیان کوئی فرق نہیں ہو گا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اس ( جنت ) میں انہیں سونے اور موتیوں سے بنے ہوئے کنگن پہنائے جائیں گے اور اُس ( جنت ) میں ان کا لباس ریشم کا ہو گا اور وہ یہ کہیں گے : ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے ہم سے پریشانی کو دور کر دیا ہے ، بے شک ہمارا پروردگار ، مغفرت کرنے والا اور شکر کو قبول کرنے والا ہے ، جس نے اپنے فضل کے تحت ( دائمی ) قیام کے مقام میں ، ہمیں ٹھہرایا ہے جہاں ہمیں کوئی تھکاوٹ اور تکلیف لاحق نہیں ہو گی ، اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے جہنم کی آگ ہو گی اُن کے بارے میں فیصلہ نہیں دیا جائے گا کہ وہ مر جائیں ، اور اُن کے عذاب میں تخفیف بھی نہیں ہو گی ، اسی طرح ہم ہر منکر کو جزا دیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلامہ بن روح ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلامہ بن روح ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11293
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ - الْآيَةَ وَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّهُمْ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” ان میں سے کچھ لوگ ، اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگ میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ان سب لوگوں کا تعلق ، اس امت سے ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔
حدیث نمبر: 11294
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ - تَعَالَى - ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ - الْآيَةَ ؟ قَالَتْ : أَمَّا السَّابِقُ فَقَدْ مَضَى فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَشَهِدَ لَهُ بِالْجَنَّةِ ، وَأَمَّا الْمُقْتَصِدُ فَمَنِ اتَّبَعَ آثَارَهُمْ فَعَمِلَ مِثْلَ أَعْمَالِهِمْ حَتَّى يَلْحَقَ بِهِمْ ، وَأَمَّا الظَّالِمُ لِنَفْسِهِ فَمِثْلِي وَمِثَلُكَ وَمَنِ اتَّبَعَنَا ، وَكُلُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
عقبہ بن صہبان بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گزارش کی ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ ” پھر ہم نے کتاب کا وارث ، اُن لوگوں کو بنا دیا ، جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کیا تھا ، ان میں سے کچھ لوگ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں ، ان میں سے کچھ لوگ میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں ، ان میں سے کچھ لوگ اللہ کے حکم کے تحت بھلائی کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں “ ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جہاں تک سبقت لے جانے والوں کا تعلق ہے ، تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں گزر چکے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے حق میں جنت کی گواہی دی ہے ۔ جہاں تک میانہ روی اختیار کرنے والوں کا تعلق ہے تو یہ وہ لوگ ہیں ، جو ان حضرات کی پیروی کریں گے اور اُن کے اعمال کی مانند عمل کر کے اُن لوگوں کے ساتھ مل جائیں گے ۔ اور جہاں تک اپنے اوپر ظلم کرنے والوں کا تعلق ہے ، تو وہ میرے تمہارے جیسے اور ہمارے پیرو کار قسم کے لوگ ہیں ، لیکن یہ سب جنت میں جائیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صلت بن دینار ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صلت بن دینار ہے اور وہ متروک ہے ۔