کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: سورت سجدہ کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں “
حدیث نمبر: 11265
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ( تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا ) . قَالَ : " قِيَامُ الْعَبْدِ مِنَ اللَّيْلِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَشَهْرٌ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا وَفِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا ( یعنی آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، اور وہ خوف اور امید کے عالم میں ، اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اس سے مراد بندے کا رات کے وقت قیام کرنا ( یعنی نوافل ادا کرنا ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور شہر نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ، ویسے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور شہر نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ، ویسے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11266
وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ ( تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ ) الْآيَةَ كُنَّا نَجْلِسُ فِي الْمَجْلِسِ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلُّونَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ إِلَى الْعِشَاءِ ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ ( تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ ) . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں “ تو ہم ایک محفل میں بیٹھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب ، مغرب کے بعد سے لے کر عشاء تک ( نفل ) نماز ادا کرتے رہے ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11267
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ لِلَّذِينِ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ، وَإِنَّهُ لَفِي الْقُرْآنِ ( فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں تورات میں یہ بات مذکور ہے کہ وہ لوگ جن کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ان کے لئے وہ چیزیں ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں ہیں کسی کان نے ان کے بارے میں سنا نہیں ہے اور کسی انسان کے دل میں ان کے بارے میں خیال نہیں بھی آیا ہو گا اور قرآن میں اس بارے میں یہ الفاظ ہیں : ” کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ اس کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کے حوالے سے کیا کچھ پوشیدہ رکھا گیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔