کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور ہم انہیں ضرور قریبی ( یعنی دنیاوی ) عذاب کا ذائقہ چکھائیں گے “
حدیث نمبر: 11268
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - فِي قَوْلِهِ : ( وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ) قَالَ : مَنْ يَبْقَى مِنْهُمْ أَوْ يَتُوبُ فَيَرْجِعُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور ہم انہیں ( آخرت کے ) بڑے عذاب سے پہلے قریبی ( یعنی دنیاوی ) عذاب ضرور چکھائیں گے تاکہ وہ لوگ رجوع کر لیں “ ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ ان میں سے باقی رہ گئے ہیں یا پھر یہ ہے کہ وہ توبہ کر کے رجوع کر لیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعد بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11268
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9038)»