کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جب موسیٰ نے متعین مدت پوری کر لی “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَأَلْتُ جِبْرِيلَ : أَيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى ؟ قَالَ : أَكْمَلَهُمَا وَأَتَمَّهُمَا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ الْحَاكِمِ بْنِ أَبَانٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے جبرائیل سے دریافت کیا : سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دو مدتوں میں سے کون سی مکمل کی تھی ؟ تو انہوں نے فرمایا : وہ جو زیادہ مکمل اور زیادہ پوری تھی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حاکم بن ابان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ،
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حاکم بن ابان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ،
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا ۔
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ النُّدَّرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ : أَيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى ؟ قَالَ : " أَبَرَّهُمَا وَأَوْفَاهُمَا " . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمَّا أَرَادَ مُوسَى فِرَاقَ شُعَيْبٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ - أَمَرَ امْرَأَتَهُ أَنْ تَسْأَلَ أَبَاهَا أَنْ يُعْطِيَهَا مِنْ غَنَمِهِ مَا يَعِيشُونَ بِهِ ، فَأَعْطَاهَا مَا وَلَدَتْ غَنَمُهُ فِي ذَلِكَ الْعَامِ مِنْ قَالَبِ لَوْنٍ " . قَالَ : " فَمَا مَرَّتْ شَاةٌ إِلَّا ضَرَبَ مُوسَى جَنْبَهَا بِعَصَاهُ فَوَلَدَتْ قَوَالِبَ أَلْوَانِهَا كُلِّهَا وَوَلَدَتْ ثِنْتَيْنِ وَثَلَاثِينَ ، كُلُّ شَاةٍ لَيْسَ فِيهَا فَشُوشٌ وَلَا ضَبُوبٌ وَلَا كَمْشَةٌ تَفُوتُ الْكَفَّ وَلَا ثَعُولٌ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا افْتَتَحْتُمُ الشَّامَ فَإِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ بَقَايَا مِنْهَا وَهِيَ السَّامِرِيَّةُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَلَمَّا وَرَدَتِ الْغَنَمُ الْحَوْضَ وَقَفَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِزَاءِ الْحَوْضِ فَلَمْ يَصْدُرْ مِنْهَا شَيْءٌ إِلَّا ضَرَبَ جَنْبَهَا ، فَحَمَلَتْ فَنَتَجَتْ كُلُّهَا قَوَالِبَ لَوْنٍ وَاحِدٍ لَيْسَ فِيهَا فَشُوشٌ وَلَا ضَبُوبٌ وَلَا ثَعُولٌ وَلَا كَمْشَةٌ تَفُوتُ الْكَفَّ ، فَإِنِ افْتَتَحْتُمُ الشَّامَ وَجَدْتُمْ بَقَايَا مِنْهَا فَاتَّخِذُوهَا وَهِيَ السَّامِرِيَّةُ " . قَالَ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ : قَالَ : الْفَشُوشُ : الَّتِي يَنْفُشُ لَبَنُهَا عِنْدَ الْحَلْبِ ، وَالضَّبُوبُ : الَّتِي يَضِبُّ ضَرْعُهَا عِنْدَ الْحَلْبِ ، وَالْكَمْشَةُ : الَّتِي تَعْتَاصُ عِنْدَ الْحَلْبِ . وَفِي إِسْنَادِهِمَا ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ يُحَسَّنُ حَدِيثُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن ندر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دو قسم کی مدتوں میں سے کون سی مدت پوری کی تھی ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو زیادہ نیکی والی اور زیادہ پوری ہونے والی تھی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے سیدنا شعیب علیہ السلام سے رخصت ہونے کا ارادہ کیا ، تو انہوں نے اپنی اہلیہ سے یہ کہا: کہ وہ اپنے والد سے یہ فرمائش کریں کہ ان کے والد اپنی بکریوں میں سے کچھ بکریاں دے دیں ، جن کے ذریعے ان کی گزر بسر ہو سکے ، تو سیدنا شعیب علیہ السلام نے اس خاتون کو یہ چیز عطا کی کہ اس سال ان کی بکریاں جن ایسی بکریوں کو جنم دیں گی جن کی رنگت ( ان کی بکریوں کی ماؤں ) سے مختلف ہو ، وہ بکریاں انہیں مل جائیں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جو بھی بکری پاس سے گزرتی تھی سیدنا موسیٰ علیہ السلام ، اس کے پہلو پر اپنا عصا مارتے تھے ، تو وہ مختلف رنگ والی بکری کو جنم دیتی تھی ، انہوں نے بتیس بچوں کو جنم دیا ، ان میں سے کوئی بھی بکری ایسی نہیں تھی ، جو فشوش ، یا ضبوب ، یا کمشہ ، جو تھیلی کو فوت کر دے ، یا ثعول ہو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم لوگ شام فتح کرو گے ، تو وہاں تمہیں اُن بکریوں کی بقایا جات مل جائیں گی اور وہ سامریہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” بکریاں حوض پر آئیں ، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام حوض کے مقابل کھڑے ہو گئے اور ان میں سے جو بھی بکری وہاں سے واپس جاتی تھی ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام اس کے پہلو پر مارتے تھے اور وہ حاملہ ہو جاتی تھی اور پھر ان تمام بکریوں نے ایسے بچوں کو جنم دیا جن کی رنگت ان کی ماؤں سے مختلف تھی ، ان میں سے کوئی بھی بکری ایسی نہیں تھی ، جو فشوش ، یا ضبوب ، یا ثعول ہو ، یا کمشہ ہو ، جو ہتھیلی کو فوت کر دے ، جب تم لوگ شام فتح کرو گے ، تو تمہیں ان کی بقایا جات مل جائیں گی ، تم انہیں حاصل کرنا ، وہ سامریہ ہیں “ ۔ یحیی بن بکیر کہتے ہیں : فشوش اس کو کہتے ہیں ، جس کے تھن کا سوراخ بڑا ہو اور اس کا دودھ ٹپکتا رہے ، ضبوب اس کو کہتے ہیں : جو دودھ دوہنے کے وقت اپنے تھن کو سکیڑ لے ، کمشہ اس کو کہتے ہیں : جو دودھ دوہنے کے وقت دشوار کر دے ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” بکریاں حوض پر آئیں ، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام حوض کے مقابل کھڑے ہو گئے اور ان میں سے جو بھی بکری وہاں سے واپس جاتی تھی ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام اس کے پہلو پر مارتے تھے اور وہ حاملہ ہو جاتی تھی اور پھر ان تمام بکریوں نے ایسے بچوں کو جنم دیا جن کی رنگت ان کی ماؤں سے مختلف تھی ، ان میں سے کوئی بھی بکری ایسی نہیں تھی ، جو فشوش ، یا ضبوب ، یا ثعول ہو ، یا کمشہ ہو ، جو ہتھیلی کو فوت کر دے ، جب تم لوگ شام فتح کرو گے ، تو تمہیں ان کی بقایا جات مل جائیں گی ، تم انہیں حاصل کرنا ، وہ سامریہ ہیں “ ۔ یحیی بن بکیر کہتے ہیں : فشوش اس کو کہتے ہیں ، جس کے تھن کا سوراخ بڑا ہو اور اس کا دودھ ٹپکتا رہے ، ضبوب اس کو کہتے ہیں : جو دودھ دوہنے کے وقت اپنے تھن کو سکیڑ لے ، کمشہ اس کو کہتے ہیں : جو دودھ دوہنے کے وقت دشوار کر دے ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ : أَيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى ؟ قَالَ : " أَوْفَاهُمَا وَأَبَرُّهُمَا " . قَالَ : " وَإِنْ سُئِلْتَ أَيُّ الْمَرْأَتَيْنِ تَزَوَّجَ ؟ فَقُلِ : الصُّغْرَى مِنْهُمَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ أَطْوَلَ مِنْ هَذَا وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . وَيَأْتِي فِي ذِكْرِ مُوسَى الْكَلِيمِ هُوَ وَحَدِيثُ جَابِرٍ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : سیدنا موسیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی مدتوں میں سے کونسی مدت پوری تھی ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو زیادہ پوری ہونے والی اور زیادہ نیکی والی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم سے یہ سوال کیا جائے کہ دونوں خواتین میں سے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی شادی کس کے ساتھ ہوئی تھی ؟ تو تم یہ کہنا کہ جو اُن دونوں میں کم عمر تھیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس ہے اور وہ متروک ہے ، امام طبرانی نے یہ روایت معجم صغیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جو اس سے زیادہ طویل روایت ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ سیدنا موسیٰ کلیم اللہ کے ذکر میں
یہ روایت آگے آئے گی اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ حدیث بھی انہوں نے ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس ہے اور وہ متروک ہے ، امام طبرانی نے یہ روایت معجم صغیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جو اس سے زیادہ طویل روایت ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ سیدنا موسیٰ کلیم اللہ کے ذکر میں
یہ روایت آگے آئے گی اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ حدیث بھی انہوں نے ذکر کی ہے ۔