مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 29 - سُورَةُ الْقَصَصِ قَوْلُهُ تَعَالَى : فَلَمَّا قَضَى مُوسَى الْأَجَلَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جب موسیٰ نے متعین مدت پوری کر لی “
حدیث نمبر: 11250
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَأَلْتُ جِبْرِيلَ : أَيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى ؟ قَالَ : أَكْمَلَهُمَا وَأَتَمَّهُمَا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ الْحَاكِمِ بْنِ أَبَانٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے جبرائیل سے دریافت کیا : سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دو مدتوں میں سے کون سی مکمل کی تھی ؟ تو انہوں نے فرمایا : وہ جو زیادہ مکمل اور زیادہ پوری تھی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حاکم بن ابان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا ۔