کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ “
حدیث نمبر: 11245
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ صَاحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ : " يَا آلَ عَبْدِ مَنَافٍ إِنِّي نَذِيرٌ " . فَجَاءَتْهُ قُرَيْشٌ ، فَحَذَّرَهُمْ وَأَنْذَرَهُمْ ، قَالُوا : تَزْعُمُ أَنَّكَ نَبِيٌّ يُوحَى إِلَيْكَ ، وَأَنَّ سُلَيْمَانَ سُخِّرَ لَهُ الرِّيحُ وَالْجِبَالُ ، وَأَنَّ مُوسَى سُخِّرَ لَهُ الْبَحْرُ ، وَأَنَّ عِيسَى كَانَ يُحْيِي الْمَوْتَى ، فَادْعُ اللَّهُ أَنْ يُسَيِّرَ عَنَّا هَذِهِ الْجِبَالَ ، وَيُفَجِّرَ لَنَا أَنْهَارًا فَنَتَّخِذَهَا مَحَارِثًا فَنَزْرَعُ وَنَأْكُلُ ، وَإِلَّا فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحْيِيَ لَنَا مَوْتَانَا ، وَإِلَّا فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُصَيِّرَ هَذِهِ الصَّخْرَةَ الَّتِي تَحْتَكَ ذَهَبًا فَنَنْحِتُ مِنْهَا وَتُغْنِينَا عَنْ رِحْلَةِ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ ، فَإِنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّكَ كَهَيْئَتِهِمْ . فَبَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَهُ إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ أَعْطَانِي مَا سَأَلْتُمْ ، وَلَوْ شِئْتُ لَكَانَ ، وَلَكِنَّهُ خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ تَدْخُلُوا بَابَ الرَّحْمَةِ فَيُؤْمِنَ مُؤْمِنُكُمْ ، وَبَيْنَ أَنْ يَكِلَكُمْ إِلَى مَا اخْتَرْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَتَضِلُّوا عَنْ بَابِ الرَّحْمَةِ وَلَا يُؤْمِنُ مُؤْمِنُكُمْ ، فَاخْتَرْتُ بَابَ الرَّحْمَةِ فَيُؤْمِنُ مُؤْمِنُكُمْ ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ إِنْ أَعْطَاكُمْ ذَلِكَ ثُمَّ كَفَرْتُمْ أَنَّهُ مُعَذِّبُكُمْ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ " . فَنَزَلَتْ وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ حَتَّى قَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ ، وَنَزَلَتْ وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى - الْآيَةَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ عُمَرَ الْأَيْلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِلَاهُمَا وُثِّقَ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُمَا الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ ! “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبل ابوقبیس پر کھڑے ہو کر یہ کہا: اے آل عبدمناف ! بے شک میں ڈرانے والا ہوں ، قریش آپ کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تلقین کی اور انہیں ڈرایا ، تو ان لوگوں نے کہا: آپ کا یہ کہنا ہے کہ آپ نبی ہیں اور آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے ، سیدنا سلیمان علیہ السلام کے لئے ہوا اور پہاڑوں کو مسخر کیا گیا تھا ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے لئے سمندر کو مسخر کیا گیا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ، مردوں کو زندہ کر دیتے تھے ، تو آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ ہمارے لئے ان پہاڑوں کو چلا دے اور ہمارے لئے نہریں بہا دے ، تاکہ ہم کھیتی باڑی شروع کریں ، ہم کھیتی باڑی کر کے کھایا پیا کریں گے ، یا پھر یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ ہمارے مردوں کو ہمارے لئے زندہ کر دے ، یا پھر یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ آپ کے نیچے جو چٹان موجود ہے ، وہ سونے کی ہو جائے ، تو ہم اس میں سے سونا نکال لیں گے اور پھر ہمیں سردی اور گرمی کے تجارتی قافلوں کی ضرورت نہیں رہے گی ، اگر آپ کا یہ کہنا ہے کہ آپ بھی ان لوگوں کی طرح ( نبی ہیں ) اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ، جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے درست قدرت میں میری جان ہے ، اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ چیز عطا کر دی ہے ، جو تم کہتے ہو ، اگر میں چاہوں تو ایسا ہو سکتا ہے لیکن میرے پروردگار نے مجھے اس بات کے بارے میں اختیار دیا ہے کہ یا تو تم رحمت والے دروازے سے داخل ہو اور تمہارے مومن لوگ ایمان لے آئیں ، یا پھر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس چیز کے حال پر چھوڑ دے ، جسے تم نے اپنے لئے اختیار کیا ہے ، ایسی صورت میں تم رحمت کے دروازے سے بھٹک جاؤ گے اور تمہارے مومن لوگ ایمان نہیں لائیں گے ، تو میں نے رحمت والے دروازے کو اختیار کر لیا ، تاکہ تمہارے مومن لوگ ایمان لے آئیں ، اور پروردگار نے مجھے یہ بتایا ہے کہ اگر وہ تمہیں یہ چیزیں عطا کر دے اور پھر تم کفر کرو ، تو وہ تم لوگوں کو ایسا عذاب دے گا ، جو تمام جہانوں میں کسی کو بھی نہیں دے گا“ پھر یہ آیت نازل ہوئی : ” اور ہمیں نشانیاں بھیجنے سے ، صرف اس بات نے روکا کہ پہلے لوگوں نے بھی ان ( نشانیوں ) کو جھٹلایا تھا “ ۔ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید تین آیات تلاوت کیں اور اس بارے میں یہ آیت بھی نازل ہوئی : ” اگر یہ قرآن ایسا ہو کہ اس کے ساتھ پہاڑ چلیں ، یا اس کے ذریعے زمین کو چیر دیا جائے ، یا اس کی وجہ سے مردوں کے ساتھ بات چیت ہونے لگے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عبدالجبار بن عمر ایلی کے حوالے سے عبداللہ بن عطاء بن ابراہیم کے حوالے سے نقل کی ہے اور ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ، جمہور نے ان دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11245
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (679)»
حدیث نمبر: 11246
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنِي هَاشِمٍ فَأَجْلَسَهُمْ عَلَى الْبَابِ ، وَجَمَعَ نِسَاءَهُ وَأَهْلَهُ فَأَجْلَسَهُمْ فِي الْبَيْتِ ، ثُمَّ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " يَا بَنِي هَاشِمٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، وَأَوْسِعُوا فِي فِكَاكِ رِقَابِكُمْ ، وَافْتَكُّوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَإِنِّي لَا أُمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا " . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَيَا حَفْصَةُ بِنْتَ عُمَرَ وَيَا أُمَّ سَلَمَةَ وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ وَيَا أُمَّ الزُّبَيْرِ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، وَأَوْسِعُوا فِي فِكَاكِ رِقَابِكُمْ ، وَافْتَكُّوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَلَا أُغْنِي " . فَبَكَتْ عَائِشَةُ وَقَالَتْ : أَيْ حِبِّي ، هَلْ يَكُونُ ذَلِكَ يَوْمَ لَا تُغْنِي عَنَّا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فِي ثَلَاثِ مَوَاطِنَ يَقُولُ اللَّهُ - تَعَالَى - : ( وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ ) فَعِنْدَ ذَلِكَ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَلَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، وَعِنْدَ النُّورِ مَنْ شَاءَ أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ نُورَهُ وَمَنْ شَاءَ أَكَنَّهُ فِي الظُّلُمَاتِ يَغُمُّهُ فِيهَا ، فَلَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَلَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، وَعِنْدَ الصِّرَاطِ مَنْ شَاءَ سَلَّمَهُ وَأَجَازَهُ وَمَنْ شَاءَ كَبْكَبَهُ فِي النَّارِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ : أَيْ حِبِّي ، قَدْ عَلِمْتُ الْمَوَازِينَ هِيَ الْكِفَّتَانِ فَيُوضَعُ فِي هَذِهِ فَتُرَجَّحُ إِحْدَاهُمَا وَتَخِفُّ الْأُخْرَى ، وَقَدْ عَلِمْنَا مَا النُّورُ وَمَا الظُّلْمَةُ ، فَمَا الصِّرَاطُ ؟ قَالَ : " طَرِيقٌ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ يَجُوزُ النَّاسُ عَلَيْهَا وَهُوَ مِثْلُ حَدِّ الْمُوسَى ، وَالْمَلَائِكَةُ صَافَّةٌ يَمِينًا وَشِمَالًا يَخْطَفُونَهُمْ بِالْكَلَالِيبِ مِثْلَ شَوْكِ السَّعْدَانِ وَهُمْ يَقُولُونَ : رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ ، وَأَفْئِدَتُهُمْ هَوَاءٌ ، فَمَنْ شَاءَ اللَّهُ سَلَّمَ وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ كَبْكَبَهُ فِيهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ ! “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ہاشم کو اکٹھا کیا ، آپ نے ان کو دروازے کے باہر بٹھایا ، آپ نے اپنے گھر کی خواتین کو اکٹھا کیا اور انہیں گھر کے اندر بٹھایا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے بنو ہاشم ! جہنم سے بچاؤ کے لئے اپنی ذات کا سودا کر لو ، اور اپنی گردنوں کو چھٹروانے کے لئے گنجائش اختیار کرو ، اور اللہ تعالیٰ سے اپنی ذات کو آزاد کروا لو ، کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ، تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل بیت کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے عائشہ بنت ابوبکر ! اے حفصہ بنت عمر ! اے ام سلمہ ! اے فاطمہ بنت محمد ! اے ام زبیر ! جو اللہ کے رسول کی پھوپھی ہیں ، تم لوگ جہنم سے بچنے کے لئے اپنے آپ کا سودا کر لو ، اور اپنی گردنیں چھڑوانے کے لئے گنجائش اختیار کرو ، اور اللہ تعالیٰ سے اپنی ذات کو محفوظ کروا لو ، کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ، تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں اور تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا “ ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں ، انہوں نے عرض کی : اے میرے محبوب ! کیا وہ ایسا دن ہو گا کہ جب اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ، کوئی چیز ہمارے کام نہیں آئے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تین مقامات پر ایسا ہو گا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” اور ہم قیامت کے دن ، ترازو کو انصاف کے ساتھ رکھیں گے “ ۔ تو اس وقت ، میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ، تمہارے کسی کام نہیں آ سکوں گا ، اور میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے حق میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوؤں گا اور دوسری چیز نور کے وقت ، کہ جسے اللہ تعالیٰ چاہے گا اس کے نور کو مکمل کر دے گا اور جس کو چاہے گا اس کے نور کو تاریکیوں میں ڈال دے گا ، جو اسے ڈھانپ لیں گی ، تو میں ، اس وقت اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوؤں گا ، اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکوں گا اور پل صراط کے قریب ، جس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے گا ، اُسے سلامتی سے گزار دے گا اور جس شخص کے بارے میں وہ چاہے گا اسے جہنم میں گرا دے گا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اے میرے محبوب ! میزان کے بارے میں تو مجھے پتہ ہے کہ اس کے دو پلڑے ہوں گے اور ان میں ( نیکیاں اور برائیاں ) رکھی جائیں گی اور ایک پلڑا بھاری ہو جائے گا اور دوسرا ہلکا ہو گا ، اور نور کیا ہے ؟ یہ بھی ہمیں پتہ ہے اور تاریکی کیا ہے ؟ یہ بھی پتہ ہے ، لیکن یہ پل کیا چیز ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ جنت اور جہنم کے درمیان ایک راستہ ہے ، جس پر سے لوگ گزریں گے اور وہ اُسترے کی دھار کی طرح تیز ہو گا فرشتوں نے اس کے دائیں اور بائیں طرف صفیں بنائی ہوئی ہوں گی اور وہ آنکٹروں کے ذریعے لوگوں کو پکڑیں گے ، جو آنکڑے سعدان نامی پھول کے کانٹوں جیسے ہوں گے ، اور لوگ یہ کہیں گے : اے ہمارے پرودگار ! سلامتی عطا فرما ! سلامتی عطا فرما ! اُن لوگوں کے دل اُڑے ہوئے ہوں گے ، تو جس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے گا ، وہ سلامت رہے گا اور جس شخص کے بارے میں ، اللہ تعالیٰ چاہے گا ، وہ شخص اُس میں گر جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11246
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7890)»