کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور تم اپنی کنیزوں کو گناہ پر مجبور نہ کرو “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ جَارِيَةٌ تَزْنِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا حُرِّمَ الزِّنَا [ قَالَ : أَلَا تَزَنِينَ ] قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ لَا أَزْنِي أَبَدًا . فَنَزَلَتْ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں عبداللہ بن ابی کی ایک کنیز تھی ، جو زمانہ جاہلیت میں زنا کیا کرتی تھی ، جب زنا کو حرام قرار دے دیا گیا ، تو عبداللہ نے اس سے کہا: تم زنا کیوں نہیں کرتی ہو ؟ اس نے کہا: جی نہیں اللہ کی قسم اب میں کبھی زنا نہیں کروں گی تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” تم اپنی کنیزوں کو گناہ پر مجبور نہ کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11231
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2239) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11747)»
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَتْ جَارِيَةٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ يُقَالُ لَهَا مُعَاذَةُ يُكْرِهُهَا عَلَى الزِّنَا ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ نَزَلَتْ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِلَى قَوْلِهِ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ اللَّخْمِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں عبداللہ بن ابی کی ایک کنیز تھی جس کا نام ” معاذہ “ تھا ، عبداللہ بن ابی اسے زنا کرنے پر مجبور کرتا تھا ، جب اسلام آ گیا ، تو یہ حکم نازل ہوا : ” تم اپنی کنیزوں کو گناہ پر مجبور نہ کرو “ یہ آیت یہاں تک ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ ان کے مجبور ہونے کے بعد ، مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حجاج لخمی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11232
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2240)»