مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ طاق کی مانند ہے جس میں چراغ موجود ہو “
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي قَوْلِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ قَالَ : جَوْفُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، الزُّجَاجَةُ قَلْبُهُ ، وَالْمِصْبَاحُ النُّورُ الَّذِي فِي قَلْبِهِ تُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ الشَّجَرَةُ إِبْرَاهِيمُ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ لَا يَهُودِيَّةٍ وَلَا نَصْرَانِيَّةٍ ، [ ثُمَّ قَرَأَ " مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا " ] وَلَكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” طاق کی مانند ہے ، جس میں چراغ موجود ہو “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک ہے ، اور شیشے سے مراد ، آپ کا قلب مبارک ہے اور چراغ سے مراد ، وہ نور ہے ، جو آپ کے قلب مبارک میں موجود ہے ۔ ” اسے مبارک درخت سے جلایا گیا ہے “ یہاں درخت سے مراد ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ ” جو زیتون کا ہے ، نہ مشرقی ہے ، نہ مغربی ہے “ یعنی نہ یہودی ہے ، نہ عیسائی ہے ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” ابراہیم یہودی ، یا عیسائی نہیں تھا ، بلکہ وہ راہ راست پر چلنے والا مسلمان تھا اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی وازع ہے اور وہ متروک ہے ۔