کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور رات کے کسی حصے میں تہجد پڑھو یہ تمہارے لیے اضافی ہے “
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ : نَافِلَةً لَكَ قَالَ : إِنَّمَا كَانَتِ النَّافِلَةُ خَاصَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” تمہارے لئے اضافی ہے “ ۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص طور پر اضافی تھی ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : سَأَلْتُ أَبَا أُمَامَةَ عَنِ النَّافِلَةِ ، قَالَ : كَانَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَافِلَةً ، وَلَكُمْ فَضِيلَةً . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا شَهْرٌ وَفِي الْآخَرِ أَبُو غَالِبٍ ، وَقَدْ وُثِّقَا وَفِيهِمَا ضَعْفٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے اضافی کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اضافی تھی اور تمہارے لئے یہ فضیلت کا باعث ہے ( یعنی مستحب ہے ) ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی شہر ہے ، اور دوسری سند میں ایک راوی ابوغالب ہے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان دونوں میں ایسا ضعف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔