حدیث نمبر: 11132
وَفِي رِوَايَةٍ : سَأَلْتُ أَبَا أُمَامَةَ عَنِ النَّافِلَةِ ، قَالَ : كَانَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَافِلَةً ، وَلَكُمْ فَضِيلَةً . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا شَهْرٌ وَفِي الْآخَرِ أَبُو غَالِبٍ ، وَقَدْ وُثِّقَا وَفِيهِمَا ضَعْفٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے اضافی کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اضافی تھی اور تمہارے لئے یہ فضیلت کا باعث ہے ( یعنی مستحب ہے ) ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی شہر ہے ، اور دوسری سند میں ایک راوی ابوغالب ہے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان دونوں میں ایسا ضعف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11132
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (255/5)»