کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور تم ان لوگوں کے سامنے اس شخص کی خبر بیان کرو جسے ہم نے اپنی نشانیاں دی تھیں “
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ : ( وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا ) قَالَ : هُوَ بُلْعُمٌ ، أَوْ قَالَ : بَلْعَامُ بْنُ بَاعَوْرَاءَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور تم ان لوگوں کے سامنے اس شخص کی خبر بیان کرو جس کو ہم نے آیات عطا کی تھیں“ ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد بلعم ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) بلعام بن باعوراء ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ[وَ] قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي أُمِّيَّةَ بْنِ أَبِي السَّلْطِ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت امیہ بن ابوسلط کے بارے میں نازل ہوئی تھی ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ” وہ شخص جسے ہم نے اپنی آیات عطا کیں اور وہ ان کو چھوڑ گیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔