مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى :( وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا ) . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور تم ان لوگوں کے سامنے اس شخص کی خبر بیان کرو جسے ہم نے اپنی نشانیاں دی تھیں “
حدیث نمبر: 11021
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ : ( وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا ) قَالَ : هُوَ بُلْعُمٌ ، أَوْ قَالَ : بَلْعَامُ بْنُ بَاعَوْرَاءَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور تم ان لوگوں کے سامنے اس شخص کی خبر بیان کرو جس کو ہم نے آیات عطا کی تھیں“ ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد بلعم ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) بلعام بن باعوراء ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔