کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جب تم ہدایت یافتہ ہو ، تو جو گمراہ ہے وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا “
حدیث نمبر: 10988
عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : كَانَ قَتْلُ رَجُلٍ مِنْهُمْ بِأَوْطَاسٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا غَيَّرْتَ يَا أَبَا عَامِرٍ " ، فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " أَيْنَ ذَهَبْتُمْ ؟ إِنَّمَا هِيَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ مِنَ الْكُفَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَلَفْظُهُ عَنْ أَبِي عَامِرٍ أَنَّهُ كَانَ فِيهِمْ شَيْءٌ ، فَاحْتَبَسَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا حَبَسَكَ ؟ " . قَالَ : قَرَأْتُ هَذِهِ الْآيَةَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ مِنَ الْكُفَّارِ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ " . وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ لِعَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ سَمَاعًا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان لوگوں میں سے ایک شخص اوطاس میں قتل ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے ابوعامر ! کیا تم نے اسے تبدیل نہیں کیا ؟ سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ یہ آیت تلاوت کی : ” اے ایمان والو ! تم پر اپنا خیال رکھنا لازم ہے جب تم ہدایت یافتہ ہو ، تو جو گمراہ ہو وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ کہاں جا رہے رہو ؟ اس سے مراد یہ ہے : اے ایمان والو ! تم پر اپنا خیال رکھنا لازم ہے کفار میں سے جو شخص گمراہ ہو جائے وہ تمہیں نقصان نہیں دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان کے نقل کردہ الفاظ یہ ہیں : سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان لوگوں میں کوئی چیز تھی جس کی وجہ سے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں آ سکے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تم لوگوں کو کس چیز نے روکا ؟ وہ کہتے ہیں : میں نے یہ آیت تلاوت کر دی : ” اے ایمان والو ! تم پر اپنا خیال رکھنا لازم ہے جب تم ہدایت یافتہ ہو جو گمراہ ہے وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا “ ۔ تو نبی اکرم سر صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : کفار سے تعلق رکھنے والا جو گمراہ ہو وہ تمہیں نقصان نہیں دے گا جبکہ تم ہدایت یافتہ ہو ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں البتہ میں نے علی بن مدرک کے صحابہ کرام میں سے کسی ایک سے سماع کے بارے میں کوئی روایت نہیں پائی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10988
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطيراني فى المعجم الكبير (317/24) اخرجه احمد فى المسند (201/4)»
حدیث نمبر: 10989
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ - تَعَالَى عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ قَالَ : لَيْسَ أَوَانُهَا هَذَا ، قُولُوهَا مَا قُبِلَتْ مِنْكُمْ ، فَإِذَا رُدَّتْ عَلَيْكُمْ فَعَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ الْحَسَنَ الْبَصْرِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تم پر اپنا خیال رکھنا لازم ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ اس کا وقت نہیں ہے ، تم وہ بات کہو تم سے جو بات قبول کر لی جاتی ہے ، تو ٹھیک ہے ، اگر وہ مسترد کر دی جاتی ہے ، تو تم پر اپنا خیال رکھنا لازم ہے جو شخص گمراہ ہو ، وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ حسن بصری نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10989
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع