کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک شراب اور جوا “
حدیث نمبر: 10985
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ فِي قَبِيلَتَيْنِ مِنْ قَبَائِلِ الْأَنْصَارِ شَرِبُوا حَتَّى إِذَا ثَمِلُوا ، عَبَثَ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ ، فَلَمَّا صَحَوْا جَعَلَ الرَّجُلُ يَرَى الْأَثَرَ بِوَجْهِهِ وَبِرَأْسِهِ وَبِلِحْيَتِهِ يَقُولُ : فَعَلَ هَذَا أَخِي فُلَانٌ ، وَاللَّهِ لَوْ كَانَ بِي رَؤُوفًا رَحِيمًا مَا فَعَلَ هَذَا بِي . وَقَالَ : كَانُوا إِخْوَةً لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ضَغَائِنُ ، فَوَقَعَتْ فِي قُلُوبِهِمُ الضَّغَائِنُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى - إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ . ¤ فَقَالَ نَاسٌ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ : هِيَ رِجْسٌ ، وَهِيَ فِي بَطْنِ فُلَانٍ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ ، وَفُلَانٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى - : ( لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا ) - الْآيَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْأَشْرِبَةِ نَحْوُ هَذَا فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : شراب کی حرمت کا حکم انصار کے قبائل میں سے دو قبیلوں کے بارے میں نازل ہوا انہوں نے شراب پی جب وہ نشے میں دھت ہو گئے تو ایک دوسرے کے ساتھ فضول حرکتیں کرنے لگے جب انہیں ہوش آیا ، تو ایک شخص نے دیکھا کہ اس کے چہرے پر اور سر پر اور داڑھی پر نشان موجود ہیں تو اس نے کہا: میرے فلاں بھائی نے ایسا کیا ہے اللہ کی قسم ! اگر وہ میرے بارے میں مہربان اور رحم کرنے والا ہوتا تو وہ میرے ساتھ ایسا نہ کرتا ۔ راوی کہتے ہیں : وہ آپس میں بھائی بھائی تھے ان کے دلوں میں کوئی دشمنی نہیں تھی لیکن پھر ان کے دلوں میں اختلافات آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” بے شک شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر شیطان کے عمل سے تعلق رکھنے والی ناپاک چیزیں ہیں تو تم ان سے اجتناب کرو تاکہ تم کامیابی حاصل کرو کیونکہ شیطان یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے حوالے سے تمہارے درمیان عداوت اور دشمنی پیدا کر دے اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے ، تو کیا تم ( شراب اور جوئے وغیرہ سے ) باز آنے والے ہو “ ۔ تو کچھ لوگوں نے یہ کہا: یہ تو نا پاک چیز ہے ، اور یہ فلاں شخص کے پیٹ میں بھی موجود تھی جو غزوہ بدر کے دن شہید ہو گیا تھا اور فلاں شخص کے پیٹ میں بھی موجود تھی ، جو فلاں غزوہ کے موقع پر شہید ہو گیا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان پر اس حوالے سے کوئی گناہ نہیں ہو گا جو وہ پہلے کھا چکے ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے مشروبات سے متعلق باب میں اس نوعیت کی حدیث شراب کی حرمت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10985
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12459)»
حدیث نمبر: 10986
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ قَالَتِ الْيَهُودُ : أَلَيْسَ إِخْوَانُكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا كَانُوا يَشْرَبُونَهَا ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى - لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَقِيلَ لِي : أَنْتَ مِنْهُمْ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو یہودیوں نے کہا: کیا تمہارے وہ بھائی جو فوت ہو چکے ہیں تو کیا وہ شراب نہیں پیا کرتے تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ، تو انہوں نے جو کچھ کھایا ہے اس کے حوالے سے ان پر کوئی گناہ نہیں ہو گا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو مجھ سے کہا: گیا : تم ان میں سے ایک ہو ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10986
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10011)»
حدیث نمبر: 10987
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْقُرْآنِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ قَالَ : هِيَ فِي التَّوْرَاةِ : إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْزَلَ الْحَقَّ لِيُذْهِبَ بِهِ الْبَاطِلَ ، وَيُبْطِلَ بِهِ اللَّعِبَ وَالْكِنَّارَاتِ وَالزَّمَّارَاتِ وَالزِّفْنَ وَالْمَعَازِفَ وَالْمَزَاهِرَ وَالسِّعْرَ ، وَأَقْسَمَ رَبِّي بِيَمِينٍ لَا يَشْرَبُهَا عَبْدٌ بَعْدَ مَا حَرَّمْتُهَا إِلَّا أَعْطَشَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يَدَعُهَا بَعْدَ مَا حَرَّمْتُهَا إِلَّا سَقَيْتُهُ بِحَظِيرِ الْقُدْسِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي آخِرِ حَدِيثٍ صَحِيحٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ آیت قرآن میں موجود ہے ۔ ” اے ایمان والو ! بے شک شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر شیطان کے عمل سے تعلق رکھنے والی ناپاک چیزیں ہیں تم ان سے اجتناب کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت تورات میں بھی تھی اللہ تعالیٰ نے حق کو نازل کیا تاکہ اس کے ذریعے باطل کو ختم کر دے اور اس کے ذریعے لعب ، کنارات ( طنبورہ یا کھیلنے کی لکڑیاں ) مزامیر ، رقص ، آلات موسیقی ، شاعری کو کالعدم قرار دے دیں اور میرے پروردگار نے یہ قسم اٹھائی ہے کہ میں نے جب ان کو حرام قرار دے دیا تو اس کے بعد جو بھی بندہ اس کو پیئے گا ، تو میں اس کو پیاسا رکھوں گا اور جب میں نے اسے حرام قرار دے دیا تو اس کے بعد جو بھی بندہ اسے ترک کیے رکھے گا ۔ میں اسے حظیرة القدس میں سے پلاؤں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے صحیح حدیث کے آخر میں نقل کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ہے ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ” بے شک ہم نے تمہیں گواہ بنا کے بھیجا ہے “ ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10987
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح