کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو “
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى إِضَمٍ ، فَخَرَجْتُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِيٍّ وَمُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ بْنِ قَيْسٍ ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَطْنِ إِضَمٍ مَرَّ بِنَا عَامِرُ بْنُ الْأَضْبَطِ الْأَشْجَعِيُّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ ، مَعَهُ مَتِيعٌ وَوَطْبٌ مِنْ لَبَنٍ ، فَلَمْا مَرَّ بِنَا سَلَّمَ عَلَيْنَا فَأَمْسَكْنَا عَنْهُ ، وَحَمَلَ عَلَيْهِ مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ فَقَتَلَهُ بِشَيْءٍ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ ، وَأَخَذَ بِعِيرَهُ وَمَتِيعَهُ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ نَزَلَ فِينَا الْقُرْآنُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حدرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول نے ہمیں ” اضم “ کی طرف بھیجا میں کچھ مسلمانوں سمیت روانہ ہوا ان لوگوں میں سیدنا ابوقتادہ حارث بن ربعی رضی اللہ عنہ اور سیدنا محلم بن جثامہ بن قیس رضی اللہ عنہ بھی تھے ہم لوگ نکلے جب ہم ” اضم “ کے نشیبی حصے میں پہنچے تو عامر بن اضبط اشجعی ہمارے پاس سے گزرا وہ اپنی سواری پر سوار تھا اور اس کے پاس سامان تھا اور دودھ کا برتن تھا جب وہ ہمارے پاس سے گزرا تو اس نے ہمیں سلام کیا ہم اس سے رک گئے لیکن محلم بن جثامہ نے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا جو کسی ایسی چیز کی وجہ سے تھا ، جو ان دونوں کے درمیان تھی انہوں نے اس شخص کا اونٹ اور اس کا ساز و سامان لے لیا جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو اس بارے میں بتایا ہمارے بارے میں قرآن کا یہ حکم نازل ہوا :
” اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو اور جس شخص نے تمہیں سلام کیا ہو تم اس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ یہ مومن نہیں ہے تم دنیاوی زندگی کا سامان حاصل کرنا چاہتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ کے پاس بہت زیادہ غنیمت ہے پہلے تم بھی اسی طرح تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا تو تم تحقیق کر لیا کرو بے شک تم لوگ جو عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان سے باخبر ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
” اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو اور جس شخص نے تمہیں سلام کیا ہو تم اس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ یہ مومن نہیں ہے تم دنیاوی زندگی کا سامان حاصل کرنا چاہتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ کے پاس بہت زیادہ غنیمت ہے پہلے تم بھی اسی طرح تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا تو تم تحقیق کر لیا کرو بے شک تم لوگ جو عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان سے باخبر ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً فِيهَا الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، فَلَمَّا وَجَدُوا الْقَوْمَ وَجَدُوهُمْ قَدْ تَفَرَّقُوا ، وَبَقِيَ رَجُلٌ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ لَمْ يَبْرَحْ فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ الْمِقْدَادُ فَقَتَلَهُ . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ : أَقَتَلْتَ رَجُلًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ رَجُلًا شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَتَلَهُ الْمِقْدَادُ ، فَقَالَ : " ادْعُ لِيَ الْمِقْدَادَ ، يَا مِقْدَادُ أَقَتَلْتَ رَجُلًا يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَكَيْفَ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ غَدًا ؟ " . قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ ) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْمِقْدَادِ : " كَانَ رَجُلًا مُؤْمِنًا يُخْفِي إِيمَانَهُ مَعَ قَوْمٍ كُفَّارٍ ، فَأَظْهَرَ إِيمَانَهُ فَقَتَلْتَهُ ، وَكَذَلِكَ كُنْتَ تُخْفِي إِيمَانَكَ بِمَكَّةَ مِنْ قَبْلُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی اس میں سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے جب وہ دشمن تک پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ لوگ ادھر ادھر بکھر چکے ہیں ، اور ایک شخص باقی رہ گیا ہے جس کے پاس بہت زیادہ مال ہے وہ نہیں گیا تھا اس شخص نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ اس کی طرف بڑھے اور انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔ ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے ان سے کہا: کیا تم نے ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا ہے جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے میں اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ضرور کروں گا جب وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک شخص نے اس بات کی گواہی دی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور پھر بھی سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مقداد کو میرے پاس بلا کے لاؤ ! اے مقداد ! کیا تم نے ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا جو «لا اله الا الله» پڑھ رہا تھا کل «لا اله الا الله» کے مقابلے میں تمہاری دلیل کیا ہو گی ؟
راوی کہتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو اور جو شخص تمہیں سلام کہے تو تم ( اس کو ) یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو تم لوگ دنیاوی زندگی کا ساز و سامان حاصل کرنا چاہتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ کے پاس بہت زیادہ غنیمت ہے پہلے تم بھی اسی طرح تھے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : وہ ایک مومن شخص تھا ، جو کفار کی قوم کے ساتھ رہتے ہوئے اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا پھر اس نے اپنے ایمان کا اظہار کر دیا تم نے پھر بھی اسے قتل کر دیا حالانکہ اس سے پہلے تم بھی مکہ میں اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے رہتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
راوی کہتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو اور جو شخص تمہیں سلام کہے تو تم ( اس کو ) یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو تم لوگ دنیاوی زندگی کا ساز و سامان حاصل کرنا چاہتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ کے پاس بہت زیادہ غنیمت ہے پہلے تم بھی اسی طرح تھے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : وہ ایک مومن شخص تھا ، جو کفار کی قوم کے ساتھ رہتے ہوئے اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا پھر اس نے اپنے ایمان کا اظہار کر دیا تم نے پھر بھی اسے قتل کر دیا حالانکہ اس سے پہلے تم بھی مکہ میں اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے رہتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔