حدیث نمبر: 10943
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً فِيهَا الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، فَلَمَّا وَجَدُوا الْقَوْمَ وَجَدُوهُمْ قَدْ تَفَرَّقُوا ، وَبَقِيَ رَجُلٌ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ لَمْ يَبْرَحْ فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ الْمِقْدَادُ فَقَتَلَهُ . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ : أَقَتَلْتَ رَجُلًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ رَجُلًا شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَتَلَهُ الْمِقْدَادُ ، فَقَالَ : " ادْعُ لِيَ الْمِقْدَادَ ، يَا مِقْدَادُ أَقَتَلْتَ رَجُلًا يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَكَيْفَ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ غَدًا ؟ " . قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ ) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْمِقْدَادِ : " كَانَ رَجُلًا مُؤْمِنًا يُخْفِي إِيمَانَهُ مَعَ قَوْمٍ كُفَّارٍ ، فَأَظْهَرَ إِيمَانَهُ فَقَتَلْتَهُ ، وَكَذَلِكَ كُنْتَ تُخْفِي إِيمَانَكَ بِمَكَّةَ مِنْ قَبْلُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی اس میں سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے جب وہ دشمن تک پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ لوگ ادھر ادھر بکھر چکے ہیں ، اور ایک شخص باقی رہ گیا ہے جس کے پاس بہت زیادہ مال ہے وہ نہیں گیا تھا اس شخص نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ اس کی طرف بڑھے اور انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔ ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے ان سے کہا: کیا تم نے ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا ہے جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے میں اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ضرور کروں گا جب وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک شخص نے اس بات کی گواہی دی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور پھر بھی سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مقداد کو میرے پاس بلا کے لاؤ ! اے مقداد ! کیا تم نے ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا جو «لا اله الا الله» پڑھ رہا تھا کل «لا اله الا الله» کے مقابلے میں تمہاری دلیل کیا ہو گی ؟
راوی کہتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو اور جو شخص تمہیں سلام کہے تو تم ( اس کو ) یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو تم لوگ دنیاوی زندگی کا ساز و سامان حاصل کرنا چاہتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ کے پاس بہت زیادہ غنیمت ہے پہلے تم بھی اسی طرح تھے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : وہ ایک مومن شخص تھا ، جو کفار کی قوم کے ساتھ رہتے ہوئے اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا پھر اس نے اپنے ایمان کا اظہار کر دیا تم نے پھر بھی اسے قتل کر دیا حالانکہ اس سے پہلے تم بھی مکہ میں اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے رہتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10943
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2202) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12379)»