مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا﴾ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو “
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى إِضَمٍ ، فَخَرَجْتُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِيٍّ وَمُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ بْنِ قَيْسٍ ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَطْنِ إِضَمٍ مَرَّ بِنَا عَامِرُ بْنُ الْأَضْبَطِ الْأَشْجَعِيُّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ ، مَعَهُ مَتِيعٌ وَوَطْبٌ مِنْ لَبَنٍ ، فَلَمْا مَرَّ بِنَا سَلَّمَ عَلَيْنَا فَأَمْسَكْنَا عَنْهُ ، وَحَمَلَ عَلَيْهِ مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ فَقَتَلَهُ بِشَيْءٍ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ ، وَأَخَذَ بِعِيرَهُ وَمَتِيعَهُ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ نَزَلَ فِينَا الْقُرْآنُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن حدرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول نے ہمیں ” اضم “ کی طرف بھیجا میں کچھ مسلمانوں سمیت روانہ ہوا ان لوگوں میں سیدنا ابوقتادہ حارث بن ربعی رضی اللہ عنہ اور سیدنا محلم بن جثامہ بن قیس رضی اللہ عنہ بھی تھے ہم لوگ نکلے جب ہم ” اضم “ کے نشیبی حصے میں پہنچے تو عامر بن اضبط اشجعی ہمارے پاس سے گزرا وہ اپنی سواری پر سوار تھا اور اس کے پاس سامان تھا اور دودھ کا برتن تھا جب وہ ہمارے پاس سے گزرا تو اس نے ہمیں سلام کیا ہم اس سے رک گئے لیکن محلم بن جثامہ نے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا جو کسی ایسی چیز کی وجہ سے تھا ، جو ان دونوں کے درمیان تھی انہوں نے اس شخص کا اونٹ اور اس کا ساز و سامان لے لیا جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو اس بارے میں بتایا ہمارے بارے میں قرآن کا یہ حکم نازل ہوا : ” اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو اور جس شخص نے تمہیں سلام کیا ہو تم اس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ یہ مومن نہیں ہے تم دنیاوی زندگی کا سامان حاصل کرنا چاہتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ کے پاس بہت زیادہ غنیمت ہے پہلے تم بھی اسی طرح تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا تو تم تحقیق کر لیا کرو بے شک تم لوگ جو عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان سے باخبر ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔