کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے “
حدیث نمبر: 10929
عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : كُنَّا نُمْسِكُ عَنِ الِاسْتِغْفَارِ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ حَتَّى سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ( إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ) . قَالَ : " إِنِّي ادَّخَرْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي " ، فَأَمْسَكْنَا عَنْ كَثِيرٍ مِمَّا كَانَ فِي أَنْفُسِنَا ، ثُمَّ نَطَقْنَا بَعْدُ وَرَجَوْنَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَرْبِ بْنِ سُرَيْجٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے ہم کبیرہ گناہوں کے مرتکبین کے لئے دعائے مغفرت کرنے سے رکے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا : ” بے شک اللہ اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے اور وہ اس کے علاوہ جس کی چاہے گا مغفرت کر دے گا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ” میں نے اپنی مخصوص دعا کو اپنی امت سے تعلق رکھنے والے کبیرہ گناہوں کے مرتکبین افراد کی شفاعت کے لئے سنبھال کے رکھ لیا ہے “ ۔ ( سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ) تو پہلے ہم بہت سے امور کے حوالے سے رکے رہتے تھے ، بعد میں ہم نے ان کے بارے میں بات چیت کرنا شروع کر دی اور یہ امید رکھی ( کہ ان کی مغفرت ہو جائے گی ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حرب بن سریج کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10929
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5813)»
حدیث نمبر: 10930
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ لِي ابْنَ أَخٍ لَا يَنْتَهِي عَنْ حَرَامٍ ، قَالَ : " مَا دِينُهُ ؟ " . قَالَ : يُوَحِّدُ اللَّهَ وَيُصَلِّي . قَالَ : " فَاسْتَوْهِبْ مِنْهُ دِينَهُ ، فَإِنْ أَبَى فَابْتَعْهُ مِنْهُ " . فَطَلَبَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْهُ دِينَهُ فَأَبَى عَلَيْهِ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : وَجَدْتُهُ شَحِيحًا عَلَى دِينِهِ ، فَنَزَلَتْ : ( إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میرا ایک بھتیجا ہے جو کسی حرام کام کے ارتکاب سے باز نہیں آتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا اس کا دین کیا ہے اس شخص نے بتایا وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کرتا ہے ، اور نماز ادا کرتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم اس سے اس کا دین طلب کرو اگر وہ نہ مانے تو تم وہ اس سے خرید لینا اس شخص نے اپنے بھتیجے سے اس کا دین مانگا اس نے انکار کر دیا وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا اس نے عرض کی : میں نے اس کو پایا ہے کہ وہ اپنے دین کے بارے میں لگاؤ رکھتا ہے ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے اور وہ اس کے علاوہ جس کی چاہے گا مغفرت کر دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10930
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4063)»