کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب میں سے حصہ عطا کیا گیا کہ وہ لوگ بتوں اور طاغوت ( یعنی شیطان ) پر ایمان رکھتے ہیں ، اور جن لوگوں نے کفر کیا ان سے یہ کہتے ہیں : یہ ایمان والوں کے مقابلے میں زیادہ سیدھی راہ پر ہیں “
حدیث نمبر: 10931
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَدِمَ حُيَيُّ بْنُ أَخْطَبَ وَكَعْبُ بْنُ الْأَشْرَفِ مَكَّةَ ، فَحَالَفُوهُمْ عَلَى قِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا لَهُمْ : أَنْتُمْ أَهْلُ الْعِلْمِ الْقَدِيمِ وَالْكِتَابِ الْأَوَّلِ فَأَخْبِرُونَا عَنَّا وَعَنْ مُحَمَّدٍ ؟ فَقَالُوا : وَمَا أَنْتُمْ وَمَا مُحَمَّدٌ ؟ قَالُوا : نَحْنُ نَنْحَرُ الْكَوْمَاءَ ، وَنَسْقِي اللَّبَنَ عَلَى الْمَاءِ ، وَنَفُكُّ الْعُنَاةَ ، وَنَسْقِي الْحَجِيجَ ، وَنَصِلُ الْأَرْحَامَ ، قَالُوا : فَمَا مُحَمَّدٌ ؟ قَالُوا : صُنْبُورٌ قَطَّعَ أَرْحَامَنَا ، وَاتَّبَعَهُ سُرَّاقُ الْحَجِيجِ بَنُو غِفَارَ ، قَالُوا : بَلْ أَنْتُمْ خَيْرٌ مِنْهُ وَأَهْدَى سَبِيلًا . فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : ( أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ ) الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجَمَّالُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف ، مکہ میں قریش کے پاس آئے اور ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کرنے کے بارے میں حلیف ہونے کا معاہدہ کیا اہل مکہ نے ان سے کہا: تم لوگ قدیم علم رکھتے ہو اور کتاب بھی رکھتے ہو جو پہلے والی ہے ، تو تم ہمارے بارے میں اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں بتاؤ ان لوگوں نے دریافت کیا تم لوگ کیا ہو اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا ہیں اہل مکہ نے کہا: ہم لوگ اونچی کوہان والی اونٹنی ذبح کرتے ہیں ، اور دودھ کو پانی میں ملا کے لوگوں کو پلاتے ہیں ، اور قیدیوں کو آزاد کرواتے ہیں ، اور حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں ، اور صلہ رحمی کرتے ہیں ان لوگوں نے دریافت کیا سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا کرتے ہیں قریش مکہ نے بتایا کہ ان کی اولاد باقی نہیں رہی اور انہوں نے رشتے داری کے حقوق کو پامال کیا ہے ، اور حاجیوں کے چوروں بنو غفار نے ان کی پیروی کر لی ہے ، تو حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف نے یہ کہا: ہے کہ تم لوگ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہو اور زیادہ ہدایت والے راستے پر ہو تو اس بارے میں اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی : ” کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب میں سے حصہ عطا کیا گیا کہ وہ لوگ بتوں اور طاغوت ( یعنی شیطان ) پر ایمان رکھتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یونس بن سلیمان جمال ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یونس بن سلیمان جمال ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔