کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم لوگ راعنا نہ کہو “
حدیث نمبر: 10928
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ لَا تَقُولُوا رَاعِنَا قَالَ : كَانُوا يَقُولُونَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَاعِنَا سَمْعَكَ ، وَإِنَّمَا رَاعِنَا كَقَوْلِكَ عَاطِنَا ( وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ ) لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : يَقُولُونَ لَا سَمِعْتَ ، وَاسْمَعْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا سَمِعْتَ . قَالَ : ( وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تم لوگ راعنا نہ کہو “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا: کرتے تھے : آپ ہمیں اپنی بات سننے کا موقع دیں اس وقت لفظ راعنا اس طرح ہی تھا ، جس طرح آپ یہ کہیں : عاطنا ” آپ سنیں آپ کو سنوایا نہ جائے “ ۔ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے تھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : وہ ( یعنی یہودی ) یہ کہتے تھے آپ نہ سنیں اور وہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا: کرتے تھے کہ آپ نہ سنیں تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” اگر وہ لوگ یہ کہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور آپ سنیئے اور ہم پر نظر کیجئے تو یہ بات تم لوگوں کے لئے زیادہ بہتر ہونی تھی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حارث ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10928
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12659)»