کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اس وقت کیا عالم ہو گا کہ جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کو لے کر آئیں گے “
حدیث نمبر: 10926
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَالَةَ الظَّفَرِيِّ ، وَكَانَ مِمَّنْ صَحِبَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُمْ فِي مَسْجِدِ بَنِي ظَفَرٍ ، فَجَلَسَ عَلَى الصَّخْرَةِ الَّتِي فِي مَسْجِدِ بَنِي ظَفَرٍ الْيَوْمَ وَمَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، وَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَارِئًا فَقَرَأَ حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ : ( فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا ) فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى اضْطَرَبَ لَحْيَاهُ ، فَقَالَ : " أَيْ رَبِّ ، شَهِدْتُ عَلَى مَنْ أَنَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِ ، فَكَيْفَ بِمَنْ لَمْ أَرَ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن فضالہ ظفری رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنوظفر کی مسجد میں ان لوگوں کے پاس آئے آپ بنوظفر کی مسجد میں موجود اس پتھر پر تشریف فرما ہوئے جو آج بھی موجود ہے آپ کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاری کو حکم دیا اس نے تلاوت کرنی شروع کی یہاں تک کہ وہ اس آیت پر پہنچا : ” اس وقت کیا عالم ہو گا کہ جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کو لے کر آئیں گے اور تمہیں ان سب پر گواہ کے طور پر لے آئیں گے “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے یہاں تک کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہو گئی آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں ان پر اس وقت تک گواہ ہوں جب تک میں ان کے درمیان موجود ہوں ، میں ان کا گواہ کیسے بنوں گا جنہیں میں نے دیکھا ہی نہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10926
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (243/19)»
حدیث نمبر: 10927
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ : ( فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا ) بَكَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " يَا رَبِّ هَذَا شَهِدْتُ عَلَى مَنْ أَنَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِ ، فَكَيْفَ بِمَنْ لَمْ أَرَ ؟ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ لَبِيبَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن عبدالرحمن بن لبیبہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” اس وقت کیا عالم ہو گا کہ جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کو لے کر آئیں گے اور تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لے آئیں گے “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے میرے پروردگار ! میں ان لوگوں پر گواہ ہوؤں گا جن کے درمیان میں موجود ہوں تو ان کا گواہ کیسے بنوں گا جنہیں میں نے دیکھا ہی نہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے عبدالرحمن بن لبیبہ سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10927
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (221/19)»