کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں “
حدیث نمبر: 10913
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَتَتْ قُرَيْشٌ الْيَهُودَ ، فَقَالُوا : بِمَا جَاءَكُمْ مُوسَى ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالُوا : عَصَاهُ وَيَدُهُ بَيْضَاءُ لِلنَّاظِرِينَ . ¤ وَأَتَوُا النَّصَارَى فَقَالُوا : كَيْفَ كَانَ عِيسَى ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالُوا : كَانَ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَيُحْيِي الْمَوْتَى . ¤ فَأَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : ادْعُ لَنَا رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَ لَنَا الصَّفَا ذَهَبًا ، [ فَدَعَا رَبَّهُ ] فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ . " فَلْيَتَفَكَّرُوا فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قریش یہودیوں کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: سیدنا موسیٰ علیہ السلام تمہارے پاس کیا چیز ( یعنی معجزات ) لے کر آئے تھے ؟ یہودیوں نے بتایا ان کا عصا تھا اور ان کا روشن ہاتھ تھا ، جو دیکھنے والے کو روشن لگتا تھا پھر قریش عیسائیوں کے پاس آئے اور ان سے دریافت کیا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا کیا عالم تھا انہوں نے بتایا کہ وہ پیدائشی اندھے اور برص کے مریض کو ٹھیک کر دیتے تھے اور مردے کو زندہ کر دیتے تھے پھر قریش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : آپ اپنے پروردگار سے ہمارے لئے یہ دعا کریں کہ وہ صفا پہاڑ کو ہمارے لئے سونے کا بنا دے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے دعا کی تو یہ آیت نازل ہوئی : ” بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے اختلاف میں عقل مند لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں “ ۔ ( سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ) یعنی ان لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس میں غور و فکر کریں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10913
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12322)»