کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ انہوں نے جس چیز کے بارے میں بخل کیا وہ عنقریب انہیں طوق کے طور پر پہنا دیا جائے گا “
حدیث نمبر: 10911
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - فِي قَوْلِهِ : سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ : يُطَوَّقُ شُجَاعًا أَقْرَعَ بِفِيهِ زَبِيبَتَانِ ، يَنْقُرُ رَأْسَهُ ، فَيَقُولُ : مَا لِي وَلَكَ ؟ ! فَيَقُولُ : أَنَا مَالُكَ الَّذِي بَخِلْتَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” انہوں نے جس چیز کے بارے میں بخل کیا اس چیز کو عنقریب قیامت کے دن ان کو طوق کے طور پر پہنا دیا جائے گا “ ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : انہیں گنجا سانپ طوق کے طور پر پہنایا جائے گا جس کے منہ پر دو نقطے ہوں گے وہ اس کے سر پر دانت مارے گا ، تو وہ شخص یہ کہے گا : میرا تمہارے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟ وہ جواب دے گا : میں تمہارا وہ مال ہوں جس کے بارے میں تم نے بخل کیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10911
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9122 و 9124)»
حدیث نمبر: 10912
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَيْضًا قَالَ : مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ ، طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَنْقُرُ رَأْسَهُ ، فَيَقُولُ : أَنَا مَالُكَ الَّذِي كُنْتَ تَبْخَلُ بِهِ ، سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت جو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ہی کے حوالے سے منقول ہے اس کے مطابق وہ بیان کرتے ہیں : جس شخص کا مال ہو اور وہ اس کی زکوۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اسے گنجے سانپ کی شکل میں اس کو طوق کے طور پر پہنا دیا جائے گا وہ اس کے سر پر دانت مارے گا اور یہ کہے گا ۔ میں تمہارا وہ مال ہوں جس کے حوالے سے تم بخل کیا کرتے تھے ۔ ( اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ) ” وہ جس چیز کے بارے میں بخل کرتے تھے قیامت کے دن وہ چیز انہیں طوق کے طور پر پہنا دی جائے گی “ ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، اور ان میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10912
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9123)»