کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم پر ان کی ہدایت لازم نہیں ہے “
حدیث نمبر: 10882
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانُوا أَنْ يَرْضَخُوا لِأَنْسَابِهِمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَسَأَلُوا فَرُخِّصَ لَهُمْ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنْفُسِكُمْ ، إِلَى قَوْلِهِ : وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ اس بات کو مکروہ سمجھتے تھے کہ اپنے نسب مشرکین کے ساتھ ملائیں ان لوگوں نے اس بارے میں دریافت کیا انہیں اس بارے میں رخصت دے دی گئی اور یہ آیت نازل ہوئی : ان کو ہدایت دینا تمہارے ذمہ نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اسے ہدایت دے دیتا ہے ، اور تم جو بھی بھلائی کرو گے تو اپنی ذات کے لئے کرو گے “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10882
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح, وأخرجه البزار في « كشف الأستار » 3 / 42 برقم (2193) ، والطبري في التفسير 3 / 95 من طرق : حدثنا أبو أحمد الزبيري ، وأخرجه الطبري في التفسير أيضاً 3 / 94 ، 95 من طريق أبي داود ، ووكيع ، وابن المبارك ، جميعاً : حدثنا سفيان ، بالإسناد السابق ، وهذا إسناد صحيح .
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2193) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12453)»