کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بسم اللہ الرحمن الرحیم اور سورت فاتحہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 10806
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَعْرِفُ خَاتِمَةَ السُّورَةِ حَتَّى تَنْزِلَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، فَإِذَا نَزَلَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ عَلِمَ أَنَّ السُّورَةَ قَدْ خُتِمَتْ ، وَاسْتُقْبِلَتْ وَابْتُدِئَتْ سُورَةٌ أُخْرَى . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ : لَا يَعْرِفُ خَاتِمَةَ السُّورَةِ حَتَّى تَنْزِلَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَطْ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ هَذَا الْبَابِ فِي الصَّلَاةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورت کے ختم ہونے کا اس وقت تک پتہ نہیں چلتا تھا جب تک «بسم الله الرحمن الرحيم» نازل نہیں ہو گئی جب «بسم الله الرحمن الرحيم» نازل ہو جاتی تو آپ کو یہ پتہ چل جاتا کہ سورت ختم ہو گئی ہے ، اور اب نئے سرے سے اگلی سورت شروع ہو گی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے : ” سورت کے خاتمے کا پتہ نہیں چلتا تھا یہاں تک کہ «بسم الله الرحمن الرحيم» نازل ہو گئی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس موضوع سے متعلق کچھ احادیث کتاب الصلوٰۃ میں گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10806
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2187)»
حدیث نمبر: 10807
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ أَهَرَاقَ الْمَاءَ ، فَقُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَقُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَقُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي وَأَنَا خَلْفَهُ حَتَّى دَخَلَ رَحْلَهُ ، وَدَخَلْتُ أَنَا فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ كَئِيبًا حَزِينًا ، فَخَرَجَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ تَطَهَّرَ ، فَقَالَ : " عَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، عَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، عَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَابِرٍ بِأَخْيَرِ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ ؟ " . قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " اقْرَأْ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " حَتَّى خَتَمَهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے پانی بہایا تھا ( یعنی آپ قضائے حاجت کر کے آئے تھے ) میں نے عرض کی : السلام علیک یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے جواب نہیں دیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ پر سلام ہو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ پر سلام ہو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چلتے ہوئے تشریف لے گئے میں آپ کے پیچھے تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پلان میں داخل ہوئے میں مسجد میں داخل ہو گیا ۔ پریشان اور غمگین بیٹھا ہوا تھا اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے آپ وضو کر چکے تھے آپ نے فرمایا : تم پر بھی سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں ہوں تم پر بھی سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں ہوں اور تم پر بھی سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں ہوں پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے عبداللہ بن جابر کیا میں تمہیں قرآن میں موجود سب سے زیادہ بہتر سورت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم «الحمد لله رب العالمين» پڑھو ! یہاں تک کہ آپ نے پوری سورت کو پڑھ لیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10807
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (177/4)»
حدیث نمبر: 10808
وَعَنْ أَبِي زَيْدٍ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ فِجَاجِ الْمَدِينَةِ ، فَسَمِعَ رَجُلًا يَتَهَجَّدُ وَيَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَمَعَ حَتَّى خَتَمَهَا ، قَالَ : " مَا فِي الْقُرْآنِ مِثْلُهَا " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوزید رضی اللہ عنہ جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کی کسی گلی سے گزر رہا تھا آپ نے ایک شخص کو تہجد کی نماز میں «سورة الفاتحة» کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے ، آپ غور سے تلاوت سنتے رہے ، اس شخص نے اس سورت کو مکمل پڑھ لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرآن میں اس جیسی کوئی اور سورت نہیں ہے “ ۔
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن دینار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10808
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10809
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى ، وَهُوَ عَلَى فَرَسِهِ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ بُلْقِينَ ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : " هَؤُلَاءِ الْمَغْضُوبُ عَلَيْهِمْ " وَأَشَارَ إِلَى الْيَهُودِ . فَقَالَ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : " الضَّالُّونَ " يَعْنِي النَّصَارَى . ¤ وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : اسْتُشْهِدَ مَوْلَاكَ - أَوْ غُلَامُكَ - فُلَانٌ ، قَالَ : " بَلْ يُجَرُّ إِلَى النَّارِ فِي عَبَاءَةٍ غَلَّهَا " . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں : انہیں ان صاحب نے یہ بات بتائی ہے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : آپ اس وقت وادی قری میں موجود تھے ، آپ اس وقت اپنے گھوڑے پر سوار تھے ، بلقین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے آپ سے سوال کیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جن پر غضب نازل ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کی طرف اشارہ کیا ، اس نے دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ گمراہ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عیسائی لوگ تھے ، پھر ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : آپ کے فلاں غلام نے جام شہادت نوش کر لیا ہے ، یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے لیکن مفہوم یہی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ اسے اس کی وجہ سے گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا جو عباء اس نے خیانت کے طور پر حاصل کی تھی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10809
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (32/5)»
حدیث نمبر: 10810
وَفِي رِوَايَةٍ بِسَنَدِهِ : وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ بُلْقِينَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هَؤُلَاءِ الْمَغْضُوبُ عَلَيْهِمْ ؟ فَأَشَارَ إِلَى الْيَهُودِ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت جو اسی سند کے ساتھ منقول ہے اس میں یہ مذکور ہے : بلقین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے آپ سے سوال کیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کون لوگ ہیں جن پر غضب نازل کیا گیا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کی طرف اشارہ کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ پوری روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10810
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (77/5)»
حدیث نمبر: 10811
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ - بِالْأَلِفِ - غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ، خَفْضٍ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَيَّاضُ بْنُ غَزْوَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَجَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لفظ «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» یعنی الف کے ساتھ اسے پڑھا اور «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِم» پڑھا ، یعنی یہ زیر کے ساتھ ہے ۔
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فیاض بن غزوان ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کے علاوہ راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10811
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10067)»
حدیث نمبر: 10812
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي قَالَ : هِيَ أُمُّ الْكِتَابِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الْبَقَّالُ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ارشاد باری تعالی ہے : «وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ» ، تحقیق ہم نے تمہیں دو مرتبہ پڑھی جانے والی سات آیات عطا کی ہیں ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد «سورة الفاتحة» ہے ۔
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسعید بقال ہے اور وہ مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10812
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11700)»
حدیث نمبر: 10813
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ إِبْلِيسَ رَنَّ حِينَ أُنْزِلَتْ فَاتِحَةُ الْكِتَابِ ، وَأُنْزِلَتْ بِالْمَدِينَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ شَبِيهَ الْمَرْفُوعِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب سورت فاتحہ نازل ہوئی تھی اس وقت ابلیس رویا تھا یہ سورت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ مرفوع روایت کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10813
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 10814
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا وَهُوَ مَكْتُوبٌ فِي تَشْبِيكِ رَأْسِهِ خَمْسُ آيَاتٍ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَتَرَكَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے سر کے جوڑوں پر ، سورت فاتحہ کی پانچ آیات لکھی ہوئی ہوتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن ولید ہے ، جسے ابوحاتم اور ابن حبان نے قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے متروک قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10814
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1784)»
حدیث نمبر: 10815
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ أُمَّ الْقُرْآنِ ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَكَأَنَّمَا قَرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص سورت فاتحہ اور سورت اخلاص پڑھ لیتا ہے وہ گویا ایک تہائی قرآن پڑھ لیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن أحمد واسطی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10815
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً