حدیث نمبر: 10816
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْبَقَرَةُ سَنَامُ الْقُرْآنِ وَذُرْوَتُهُ ، نَزَلَ مَعَ كُلِّ آيَةٍ مِنْهَا ثَمَانُونَ مَلَكًا ، وَاسْتُخْرِجَتْ : " اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ " مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ ، فَوُصِلَتْ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ . ¤ وَ " يس " قَلْبُ الْقُرْآنِ لَا يَقْرَؤُهَا أَحَدٌ يُرِيدُ اللَّهَ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ ، فَاقْرَؤُوهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ " . ¤ قُلْتُ : فِي سُنَنِ أَبِي دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَسْقَطَ الْمُبْهَمَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سورت بقرہ قرآن کی کوہان اور اس کی چوٹی ہے اس کی ہر ایک آیت کے ساتھ اسی فرشتے نازل ہوئے اور آیت الکرسی کو عرش کے نیچے سے نکالا گیا اور سورت بقرہ کے ساتھ ملا دیا گیا اور سورت یسین قرآن کا دل ہے جو بھی شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے ( اجر و ثواب ) حصول کے لئے اس کی تلاوت کرے گا اس کی مغفرت ہو جائے گی تم اپنے مرحومین پر ( یا قریب المرگ افراد پر ) اس کی تلاوت کرو “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سنن ابوداؤد میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، اور انہوں نے مبہم راوی کا ذکر ساقط کیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سنن ابوداؤد میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، اور انہوں نے مبہم راوی کا ذکر ساقط کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 10817
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامًا ، وَإِنَّ سَنَامَ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ، وَمَنْ قَرَأَهَا فِي بَيْتِهِ لَيْلَةً ، لَمْ يَدْخُلْهُ الشَّيْطَانُ ثَلَاثَ لَيَالٍ ، وَمَنْ قَرَأَهَا فِي بَيْتِهِ نَهَارًا لَمْ يَدْخُلْهُ الشَّيْطَانُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ الْمَدَنِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر چیز کی ایک کوہان ہوتی ہے ، اور قرآن کی کوہان سورت بقرہ ہے جو شخص اپنے گھر میں رات کے وقت اسے پڑھ لے گا ، تو شیطان تین راتوں تک اس گھر میں داخل نہیں ہو گا اور جو شخص اپنے گھر میں دن کے وقت اسے پڑھ لے گا ، تو شیطان تین دن تک اس گھر میں داخل نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن خالد خزاعی مدنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن خالد خزاعی مدنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10818
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْبَيْتُ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ لَا يَدْخُلُهُ الشَّيْطَانُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ گھر جس میں سورت بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے اس رات میں شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عدی بن فضل ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عدی بن فضل ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10819
وَعَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " أُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے سورت بقرہ کی آخری آیات ، عرش کے نیچے موجود خزانے سے عطا کی گئی ہیں یہ مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئی ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10820
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اقْرَأِ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ; فَإِنِّي أُعْطِيتُهُمَا مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ” سورت بقرہ کی آخری دو آیات تلاوت کرو کیونکہ یہ دونوں مجھے عرش کے نیچے سے عطا کی گئی ہیں “ ۔
حدیث نمبر: 10821
وَفِي رِوَايَةٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : " اقْرَؤُوا الْآيَتَيْنِ . . . . " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَقَدْ تَابَعَهُ ابْنُ لَهِيعَةَ فَالْحَدِيثُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” تم دو آیات تلاوت کرو “ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن فضل ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ابن لہیعہ نے اس کی متابعت کی ہے ، تو یہ حدیث حسن ہو گی ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن فضل ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ابن لہیعہ نے اس کی متابعت کی ہے ، تو یہ حدیث حسن ہو گی ۔
حدیث نمبر: 10822
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " آيَتَيْنِ أُوتِيتُهُمَا مِنْ كَنْزٍ مِنْ بَيْتٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ ، وَلَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبَلِي " - يَعْنِي الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ - . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو آیات ہیں جو مجھے عرش کے نیچے موجود ایک گھر کے خزانے سے عطا کی گئی ہیں ، اور یہ دونوں مجھ سے پہلے کسی ( اور ) نبی کو عطا نہیں کی گئی ہیں “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سورت بقرہ کی آخری دو آیات تھیں ۔
حدیث نمبر: 10823
وَفِي رِوَايَةٍ : " أُعْطِيتُ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ بَيْتٍ " . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سورت بقرہ کی اختتامی آیات مجھے ایک گھر سے عطا کی گئی ہیں “ ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10824
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ آخِرَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، فَقَدْ أَكْثَرَ وَأَطَابَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص سورت بقرہ کی آخری آیات رات کے وقت تلاوت کر لیتا ہے ، تو وہ بکثرت ( تلاوت کرتا ہے ) اور اچھا کام کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 10825
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ كِتَابًا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِأَلْفَيْ عَامٍ ، فَأَنْزَلَ مِنْهُ آيَتَيْنِ خَتَمَ بِهِمَا سُورَةَ الْبَقَرَةِ ، لَا يُقْرَآنِ فِي دَارٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ ، فَيَقْرَبُهَا شَيْطَانٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب تحریر کی اور اس میں سے دو آیات نازل کیں جن کے ذریعے سورت بقرہ ختم ہوتی ہے یہ دونوں آیات جس گھر میں تلاوت کی جائیں گی تو تین راتوں تک وہاں شیطان نہیں آئے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10826
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : تَرَدَّدُوا فِي الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ : آمَنَ الرَّسُولُ " إِلَى خَاتِمَتِهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى بِهَا مُحَمَّدًا ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَاسِبُ الْمُهْرِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سورت بقرہ کی آخری دو آیات یعنی «آمَنَ الرَّسُولُ» [البقرة: 285] سے لے کر اس کے ختم ہونے تک ، انہیں بار بار پڑھو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بطور خاص سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حارث بن سوید حاسب مہری ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حارث بن سوید حاسب مہری ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10827
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا أَلْفَيَنَّ أَحَدَكُمْ يَضَعُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى ثُمَّ يَتَغَنَّى ، وَيَدَعُ أَنْ يَقْرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ - وَهُوَ مُدَلِّسٌ - وَمَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تم میں سے کسی ایک شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ اس نے اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھا ہوا ہو اور پھر وہ گنگنا رہا ہو اور اس نے سورت بقرہ کو پڑھنا ترک کر دیا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اور ایسے راوی بھی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اور ایسے راوی بھی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 10828
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعَلَّمُوا الزَّهْرَاوَيْنِ : الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ ، فَإِنَّهُمَا تَجِيئَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ - أَوْ : كَأَنَّهُمَا غَيَابَتَانِ ، أَوْ : كَأَنَّهُمَا فَرْقَانِ - مِنْ طَيْرٍ صَوَافٍّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا ، تَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ ; فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ ، وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ هِلَالٍ الْبَارِقِيُّ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ ، وَعَمْرُو بْنُ مُخَلَّدٍ اللَّيْثِيُّ ، لَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو چمک دار چیزوں سورت بقرہ اور سورت آل عمران کا علم حاصل کرو کیونکہ قیامت کے دن یہ دونوں یوں آئیں گی جیسے یہ دونوں دو بادل ہیں ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی شک ہے ) یا یہ پرندوں کی دو قطاریں ہیں ، اور یہ دونوں اپنے پڑھنے والے کی طرف سے بحث کریں گی ، تم لوگ سورت بقرہ سیکھو کیونکہ اس کو حاصل کرنا برکت ہے ، اور اسے ترک کر دینا حسرت ہے ، اور باطل لوگ ( یعنی جادوگر اس کو سیکھنے کی ) استطاعت نہیں رکھتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ہلال بارقی ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اور ایک راوی عبدالرحمن بن خلاد ہے ، اور ایک راوی عمرو بن مخلد لیثی ہے میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ہلال بارقی ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اور ایک راوی عبدالرحمن بن خلاد ہے ، اور ایک راوی عمرو بن مخلد لیثی ہے میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 10829
- وَقَدْ رَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ أَنَسٍ نَحْوَهُ . وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور اس روایت میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 10830
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَضَعُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى يَتَغَنَّى ، وَيَدَعُ أَنْ يَقْرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تم میں سے کسی ایک شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ اس نے اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھا ہوا ہو اور وہ گنگنا رہا ہو اور اس نے سورت بقرہ پڑھنی چھوڑ دی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔