کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس صورتحال کا بیان جس میں خون رائیگاں جاتا ہے
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " السَّائِبَةُ جُبَارٌ ، وَالْجُبُّ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " السَّائِمَةُ " مَكَانَ : " السَّائِبَةُ " . وَنَقَلَهَا الْإِمَامُ أَحْمَدُ عَنْ خَلَفٍ وَلَمْ يَرْوِهَا ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سائبہ ( جانور کے مارنے سے مرنے والا ) رائیگاں جاتا ہے گڑھے میں گر کر مرنے والا رائیگاں جاتا ہے معدنیات میں گر کر مرنے والا رائیگاں جاتا ہے ، اور مدفون مال میں خمس کی ادائیگی لازم ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے لفظ سائبہ کی جگہ لفظ سائمہ نقل کیا ہے
یہ روایت امام أحمد نے خلف کے حوالے سے نقل کی ہے حالانکہ انہوں نے
یہ روایت نقل نہیں کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10803
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2134) اخرجه ابو يعلى فى المسند (2134) اخرجه احمد فى المسند (353/3)»