کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو دونوں پاؤں اور دونوں ہاتھ کاٹے جانے کے بعد چوری کرے
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ - أَوِ الْحَارِثِ - قَالَ : ذَكَرَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَقَالَ : طَالَمَا حَرَصَ عَلَى الْإِمَارَةِ ، قُلْتُ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلِصٍّ ، فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ ، فَقِيلَ : إِنَّهُ سَرَقَ ، فَقَالَ : " اقْطَعُوهُ " . ¤ ثُمَّ جِيءَ بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، وَقَدْ قُطِعَتْ قَوَائِمُهُ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَا أَجِدُ لَكَ شَيْئًا إِلَّا مَا قَضَى فِيكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أَمَرَ بِقَتْلِكَ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْلَمَ بِكَ ، فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ أُغَيْلِمَةً مِنْ أَبْنَاءِ الْمُهَاجِرِينَ أَنَا فِيهِمْ ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : أَمِّرُونِي عَلَيْكُمْ . فَأَمَّرْنَاهُ عَلَيْنَا فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ فَقَتَلْنَاهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ لِيُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ سَمَاعًا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ . ¤
محمد محی الدین
محمد حاطب یا شاید محمد بن حارث بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات ذکر کی کہ انہیں طویل عرصے سے حکمرانی کی خواہش تھی ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا اس کی وجہ کیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک چور کو لایا گیا آپ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا عرض کی گئی : اس نے چوری کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹ دو پھر اس چور کو اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اس کے تمام اعضا کاٹے جا چکے تھے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارے لئے مجھے کوئی چیز نہیں ملتی صرف وہ چیز ملتی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے بارے میں اس دن فیصلہ دیا تھا جب آپ نے تمہیں قتل کرنے کا حکم دیا تھا ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے بارے میں زیادہ بہتر جانتے تھے پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین کے بیٹوں میں سے تعلق رکھنے والے کچھ نو جوانوں کو اس کو قتل کرنے کا حکم دیا میں ان لوگوں میں شامل تھا سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے کہا: تم اپنے پر مجھے امیر بنا دو تو ہم نے انہیں اپنے پر امیر بنا لیا پھر اس چور کو لے کر بقیع کی طرف گئے اور ہم نے اسے قتل کر دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ میں نے یوسف بن یعقوب کے صحابہ کرام میں سے کسی سے سماع کی روایت نہیں پائی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10663
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5150) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3409)»