کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: بھول کر کوئی کام کرنے والا اور جس سے زبردستی کچھ کروایا گیا ہو
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ - مَثَلُهُ مَثَلُ حَدِيثٍ قَبْلَهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " وُضِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْيَانُ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند نقل کرتے ہیں جو اس سے پہلے والی حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل ہوا ہے : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” میری امت سے خطا ، نسیان اور جس چیز پر انہیں مجبور کیا گیا ہو ، وہ اٹھا لی گئی ہیں ( یعنی ان کا گناہ نہیں ہو گا ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " تُجُوِّزَ لِأُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا ، مَا لَمْ تَكَلَّمُ بِهِ أَوْ تَعْمَلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری امت کے لئے ان چیزوں سے درگزر کیا گیا ہے ، جو وہ دل میں سوچتے ہیں جب تک وہ اس کے بارے میں بات نہیں کرتے یا عمل نہیں کرتے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي ثَلَاثَةً : الْخَطَأُ ، وَالنِّسْيَانُ ، وَمَا أُكْرِهُوا عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ : يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحْبِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت کی تین چیزوں سے درگزر کیا ہے خطاء ، نسیان اور جس پر انہیں مجبور کیا گیا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : ¤ اكْفُلُوا لِي بِالْعَمْدِ أَكْفُلْ لَكُمْ بِالْخَطَأِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم مجھے جان بوجھ کر کیے جانے والے کاموں کی ضمانت دو میں تمہیں غلطی کے طور پر ہونے والے کاموں کے حوالے سے ضمانت دیتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : . . . مِثْلُهُ . ¤ قُلْتُ : مِثْلُ حَدِيثٍ قَبْلَهُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وُضِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ ، وَالنِّسْيَانُ ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند حدیث گزری ہے ( آپ نے فرمایا : ) ” میری امت سے خطاء ، نسیان اور جس چیز پر انہیں مجبور کیا گیا ہو ، انہیں اٹھا لیا گیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مصفی ہے ۔ جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مصفی ہے ۔ جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔