کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: باغیوں اور خارجیوں کے بارے میں ثالث مقرر کرنا اور ان کے ساتھ جنگ کرنا
حدیث نمبر: 10454
عَنْ كَثِيرِ بْنِ نَمِرٍ قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدَ الْكُوفَةِ عَشِيَّةَ جُمُعَةٍ وَعَلِيٌّ يَخْطُبُ النَّاسَ ، فَقَامُوا فِي نَوَاحِي الْمَسْجِدِ يَحْكُمُونَ ، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا ، ثُمَّ قَالَ : كَلِمَةُ حَقٍّ يُبْتَغَى بِهَا بَاطِلٌ ، حُكْمَ اللَّهِ أَنْتَظِرُ فِيكُمْ ، أَحْكُمُ فِيكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَقْسِمُ بَيْنَكُمْ بِالسَّوِيَّةِ ، وَلَا نَمْنَعُكُمْ مِنْ هَذَا الْمَسْجِدِ أَنْ تُصَلُّوا فِيهِ مَا كَانَتْ أَيْدِيكُمْ مَعَ أَيْدِينَا ، وَلَا نُقَاتِلُكُمْ حَتَّى تُقَاتِلُونَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
کثیر بن نمر بیان کرتے ہیں : جمعہ کی شام میں مسجد کوفہ میں داخل ہوا ، اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے ، اور لوگ مسجد کے نواحی حصوں میں بھی کھڑے ہوئے تھے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے یہ اشارہ کر کے ارشاد فرمایا : ” بات ٹھیک ہے ، لیکن اُس کے ذریعے باطل مراد لیا جا رہا ہے ، اللہ تعالیٰ کا حکم میں تمہارے درمیان جاری کرنا چاہتا ہوں ، اور میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق فیصلہ دوں گا ، اور میں تمہارے درمیان برابری کی بنیاد پر تقسیم کروں گا ، میں تم لوگوں کو اس مسجد میں نماز ادا کرنے سے نہیں روکوں گا ، جب تک تمہارے ہاتھ ہمارے ہاتھوں کے ساتھ رہیں گے ، اور ہم تمہارے ساتھ اُس وقت تک جنگ نہیں کریں گے ، جب تک تم ہمارے ساتھ جنگ نہیں کرو گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10455
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ، هَلْ تَدْرِي كَيْفَ حُكْمُ اللَّهِ فِي مَنْ بَغَى مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ ؟ " . قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " لَا يُجْهَزُ عَلَى جَرِيحِهَا ، وَلَا يُقْتَلُ أَسِيرُهَا ، وَلَا يُطْلَبُ هَارِبُهَا ، وَلَا يُطْلَبُ فَيْؤُهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ . قُلْتُ : وَفِيهِ كَوْثَرُ بْنُ حَكِيمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اے ابن ام عبد ! کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ اس امت میں سے جو بغاوت کرے گا ؟ اس کے بارے میں اللہ کا حکم کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُن کے زخمیوں کی تیار داری نہیں کی جائے گی اُن کے قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا ، اُن کے بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کیا جائے گا ، اور اُن کا مال غنیمت تقسیم نہیں کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی کوثر بن حکیم ہے ، اور وہ ضعیف اور متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی کوثر بن حکیم ہے ، اور وہ ضعیف اور متروک ہے ۔