کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خوارج سے محبت کرنے اور ان کی طرف جھکاؤ رکھنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 10456
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ أَنَّ رَجُلًا وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ بِبَشَرَةِ جَبْهَتِهِ ، وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ ، فَنَبَتَتْ شَعْرَةٌ فِي جَبْهَتِهِ كَهْلَبَةُ الْفَرَسِ . وَشَبَّ الْغُلَامُ ، فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ الْخَوَارِجِ أَحَبَّهُمْ ; فَسَقَطَتِ الشَّعْرَةُ عَنْ جَبْهَتِهِ ، فَأَخَذَهُ أَبُوهُ فَقَيَّدَهُ وَحَبَسَهُ مَخَافَةَ أَنْ يَلْحَقَ بِهِمْ ، قَالَ : فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ ، فَوَعَظْنَاهُ وَقُلْنَا لَهُ فِيمَا نَقُولُ : أَلَمْ تَرَ إِلَى بَرَكَةِ دَعْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ وَقَعَتْ عَنْ جَبْهَتِكَ ؟ فَمَا زِلْنَا بِهِ حَتَّى رَجَعَ عَنْ رَأْيِهِمْ ، فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الشَّعْرَةَ بَعْدُ فِي جَبْهَتِهِ وَتَابَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوطفیل بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کا بیٹا پیدا ہوا وہ اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیشانی کی جلد کو پکڑا اور پھر اس کے لئے دعائے برکت کی تو اس کی پیشانی پر کچھ بال یوں اگ گئے جیسے گھوڑے کی گردن پر ہوتے ہیں پھر وہ لڑکا بڑا ہو گیا جب خوارج کا زمانہ آیا تو وہ خوارج سے محبت رکھنے لگا ، تو اس کی پیشانی سے وہ بال گر گئے اس کے باپ نے اسے پکڑا اور اسے قید کر دیا اسے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ لڑکا خوارج کے ساتھ جا کے نہ ملے راوی کہتے ہیں : ہم اس کے پاس گئے ہم نے اسے وعظ ونصیحت کی ہم نے جو اسے باتیں کیں اس میں ہم نے یہ بھی کہا: کہ کیا تم نے اس بات پے غور نہیں کیا کہ اللہ کے رسول کی دعا کی برکت تمہارے چہرے سے گر گئی ہے ہم مسلسل اسے تلقین کرتے رہے ، یہاں تک کہ اس نے خوارج کی رائے سے رجوع کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے بعد میں اس کی پیشانی پر دوبارہ بال لوٹا دیے جب اس نے توبہ کر لی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10456
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (456/5)»
حدیث نمبر: 10457
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ الْحَسَنِ وَجَارِيَةٌ تَحُتُّ شَيْئًا مِنْ حِنَّاءٍ عَنْ أَظَافِرِهِ فَجَاءَتْهُ أَضْبَارَةٌ مِنْ كُتُبٍ ، فَقَالَ : يَا جَارِيَةُ ، هَاتِي الْمِخْضَبَ ، فَصَبَّ فِيهِ مَاءً ، وَأَلْقَى الْكُتُبَ فِي الْمَاءِ ، فَلَمْ يَفْتَحْ مِنْهَا شَيْئًا وَلَمْ يَنْظُرْ إِلَيْهِ . فَقُلْتُ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، مِمَّنْ هَذِهِ الْكُتُبُ ؟ قَالَ : مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ قَوْمٍ لَا يَرْجِعُونَ إِلَى حَقٍّ ، وَلَا يَقْصُرُونَ عَنْ بَاطِلٍ ، أَمَا إِنِّي لَسْتُ أَخْشَاهُمْ عَلَى نَفْسِي ، وَلَكِنِّي أَخْشَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ ، وَأَشَارَ إِلَى الْحُسَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن اصم بیان کرتے ہیں : میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نکلا اس وقت ایک لڑکی ان کے ناخنوں سے مہندی کھرچ رہی تھی ان کے پاس تحریروں کا ایک گٹھہ آیا تو انہوں نے فرمایا : اے لڑکی بڑا برتن لاؤ اور اس میں پانی ڈال کے لاؤ پھر انہوں نے وہ تحریریں پانی میں ڈلوا دیں انہوں نے اس میں سے کسی کو کھولا بھی نہیں ، اور اس کو دیکھا بھی نہیں میں نے کہا: اے ابومحمد یہ تحریریں کن کی طرف سے ہیں انہوں نے جواب دیا : اہل عراق کی طرف سے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اہل حق کی طرف رجوع نہیں کرتے ہیں ، اور باطل میں کمی نہیں کرتے ہیں مجھے اپنی ذات کے حوالے سے ان کی طرف سے اندیشہ نہیں ہے لیکن مجھے اس کے حوالے سے ان لوگوں سے اندیشہ ہے ۔ امام حسن نے امام حسین کی طرف سے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن حکیم بن ابوزیاد کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10457
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2691)»