کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ذوثدیہ اور اہل نہروان کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 10438
عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَذَكَرَ - يَعْنِي ذَا الثُّدَيَّةِ - الَّذِي يُوجَدُ مَعَ أَهْلِ النَّهْرَوَانِ - فَقَالَ : " شَيْطَانُ الرَّدْهَةِ ، يَحْتَدِرُهُ رَجُلٌ مِنْ بُجَيْلَةَ ، يُقَالُ لَهُ : الْأَشْهَبُ أَوِ ابْنُ الْأَشْهَبِ ، عَلَامَةٌ فِي قَوْمٍ ظَلَمَةٍ " . قَالَ سُفْيَانُ : قَالَ عَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ حِينَ حَدَّثَ : جَاءَ بِهِ رَجُلٌ مِنَّا مِنْ بُجَيْلَةَ . فَقَالَ : أَرَاهُ مَنْ دُهْنٍ . يُقَالُ لَهُ : الْأَشْهَبُ أَوِ ابْنُ الْأَشْهَبِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ یعنی سیدنا سعد بن ابی وقاص صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر کیا یعنی ذوثدیہ کا ذکر کیا جو اہل نہروان کے ساتھ پایا گیا تھا آپ نے ارشاد فرمایا : پہاڑ کی کھوہ میں موجود شیطان ، جسے بجیلہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اوپر سے نیچے کی طرف سے لے کر آئے گا اس شخص کا نام اشہب ہو گا ( راوی کو شک شاید یہ الفاظ ہیں : ) ابن اشہب ہو گا اور وہ تاریک قوم میں علامت ہو گا ۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں : عمار دہنی نے جب یہ بات بیان کی تو یہ بتایا : ہمارے بجیلہ قبیلے میں سے ایک شخص اسے لے کر آیا تھا راوی کہتا ہے میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : وہ دہن سے تھا ، اُسے اشہب یا ابن اشہب کہا: جاتا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10439
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ وَهُوَ يُقَسِّمُ ، قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : ¤ " عَلَامَتُهُمْ رَجُلٌ يَدُهُ كَثَدْيِ الْمَرْأَةِ ، كَالْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ فِيهَا شَعَرَاتٌ ، كَأَنَّهَا سَبَلَةُ سَبُعٍ " . ¤ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَحَضَرْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ ، وَحَضَرْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ قَتَلَهُمْ بِنَهْرَوَانَ . ¤ قَالَ : فَالْتَمَسَهُ عَلِيٌّ فَلَمْ يَجِدْهُ . ¤ قَالَ : ثُمَّ وَجَدَهُ بَعْدَ ذَلِكَ تَحْتَ جِدَارٍ عَلَى هَذَا النَّعْتِ . فَقَالَ عَلِيٌّ : أَيُّكُمْ يَعْرِفُ هَذَا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : نَحْنُ نَعْرِفُهُ ، هَذَا حَرْقُوسُ ، وَأُمُّهُ هَاهُنَا . قَالَ : فَأَرْسَلَ عَلِيٌّ إِلَى أُمِّهِ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَتْ : مَا أَدْرِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أَرْعَى غَنَمًا لِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِالرَّبَذَةِ فَغَشِيَنِي شَيْءٌ كَهَيْئَةِ الظُّلْمَةِ ، فَحَمَلْتُ مِنْهُ فَوَلَدْتُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مُطَوَّلًا ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ ( غزوہ حنین کا مال غنیمت ) تقسیم کر رہے تھے راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث بیان کی ہے آگے چل کر انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ان لوگوں کی مخصوص نشانی ایک شخص ہو گا جس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی مانند ہو گا وہ گوشت کا ایک ٹکڑا ہو گا اور اس میں کچھ بال ہوں گے ، جیسے وہ کسی درندے کا اگلا حصہ ہوتا ہے “ ۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر اس دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، اور پھر میں اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی موجود تھا جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو نہروان کے مقام پر قتل کیا تھا راوی کہتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو تلاش کیا وہ انہیں نہیں ملا اس کے بعد وہ انہیں ایک دیوار کے نیچے مل گیا اس کا حلیہ اسی طرح کا تھا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میں کون شخص اسے جانتا ہے ، تو حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : ہم اسے جانتے ہیں یہ حرقوس ہے اس کی ماں یہاں موجود ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی ماں کو پیغام بھیج کر دریافت کیا : یہ کون ہے اس نے بتایا : مجھے نہیں معلوم اے امیر المؤمنین میں زمانہ جاہلیت میں ایک مرتبہ بکریاں چرا رہی تھی یہ ربذہ کے مقام کی بات ہے ، تو تاریکی کی طرح کی کوئی چیز مجھ پر چھا گئی اور میں اس بچے سے حاملہ ہو گئی اور پھر میں نے اس بچے کو جنم دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 10440
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي صَالِحٍ أَنَّ أَبَا الْوَضِيءِ عَبَّادًا حَدَّثَهُ ، قَالَ : كُنَّا عَامِدِينَ إِلَى الْكُوفَةِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمُخْدَجِ ، قَالَ عَلِيٌّ : فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ، ثَلَاثًا ، فَقَالَ عَلِيٌّ : ¤ أَمَا إِنَّ خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَنِي بِثَلَاثَةِ إِخْوَةٍ مِنَ الْجِنِّ ، هَذَا أَكْبَرُهُمْ ، وَالثَّانِي لَهُ جَمْعٌ كَثِيرٌ ، وَالثَّالِثُ فِيهِ ضَعْفٌ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن ابوصالح بیان کرتے ہیں : ابووضی عباد نے انہیں یہ بات بتائی ہے ہم لوگ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ جا رہے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے مخدج والی روایت ذکر کی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا : اللہ کی قسم ! نہ تو میں نے غلط بیانی کی ہے ، اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے ۔ انہوں نے تین مرتبہ یہ بات کہی پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ تین لوگ جنات کے بھائی ہیں ، اور یہ ان میں سب سے بڑا ہے ان میں سے دوسرا وہ ہے ، جس کے ساتھ بڑا لشکر ہو گا اور تیسرا وہ ہو گا جس میں کچھ کمزوری پائی جاتی ہو گی “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10441
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ ، قَالَ لِسَعِيدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ : مَا لَكَ لَا تَخْرُجُ مَعَ عَلِيٍّ ؟ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ مَا قَالَ فِيهِ ؟ قَالَ : ¤ " يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، يَقْتُلُهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ " قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . قَالَ : إِي وَاللَّهِ ، لَقَدْ سَمِعْتُهُ ، وَلَكِنِّي أَحْبَبْتُ الْعُزْلَةَ حَتَّى أَجِدَ سَيْفًا يَقْطَعُ الْكَافِرَ ، وَيَنْبُو عَنِ الْمُؤْمِنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ ، وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ . ¤
محمد محی الدین
عامر بن سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں : سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نہیں نکلتے ہیں ؟ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے آپ نے ارشاد فرمایا تھا : ” میری امت میں ایک قوم نکلے گی جو دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے ، اور علی بن ابوطالب ان کے ساتھ جنگ کرے گا ( یا ان کو قتل کرے گا ) “ ۔ آپ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں اللہ کی قسم میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے لیکن مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اس وقت تک الگ تھلگ رہوں جب تک میں یہ صورت حال نہیں پاتا کہ تلوار صرف کافر کو کاٹے گی اور مومن سے الگ رہے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوعائشہ ہے ذہبی نے اس کا ذکر میزان الاعتدال میں کیا ہے ، اور انہوں نے اس کے حوالے سے
یہ روایت ذکر کی ہے ، اور یہ بات کہی ہے کہ یہ حدیث منکر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوعائشہ ہے ذہبی نے اس کا ذکر میزان الاعتدال میں کیا ہے ، اور انہوں نے اس کے حوالے سے
یہ روایت ذکر کی ہے ، اور یہ بات کہی ہے کہ یہ حدیث منکر ہے ۔
حدیث نمبر: 10442
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : ¤ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ وَالْقَاسِطِينَ وَالْمَارِقِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ، ( عہد یا بیعت ) کو توڑنے والوں ، ہم پلہ ہونے کا دعوی کرنے والوں اور خروج ( یا بغاوت ) کرنے والوں کے ساتھ ، جنگ کرنے کا حکم دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 10443
وَعَنْ مُحَنَّفِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ : ¤ أَتَيْنَا أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ يَعْلِفُ خَيْلًا لَهُ بِصَعْنَبَى ، فَقِلْنَا عِنْدَهُ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَا أَيُّوبَ ، قَاتَلْتَ الْمُشْرِكِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ جِئْتَ تُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ ؟ . قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي بِقِتَالِ ثَلَاثَةٍ : النَّاكِثِينَ ، وَالْقَاسِطِينَ ، وَالْمَارِقِينَ ، فَقَدْ قَاتَلْتُ النَّاكِثِينَ ، وَقَاتَلْتُ الْقَاسِطِينَ ، وَأَنَا مُقَاتِلٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ الْمَارِقِينَ بِالسَّعَفَاتِ بِالطُّرُقَاتِ بِالنَّهْرَوَانَاتِ ، وَمَا أَدْرِي أَيْنَ هُمْ ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
مخنف بن سلیم بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ اس وقت اپنے گھوڑے کو چارہ کھلا رہے تھے یہ بصعنبی نامی جگہ کی بات ہے ہم نے ان سے کہا: اے سیدنا ابوایوب ! آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر مشرکین کے ساتھ جنگ کی ہے ، پھر آپ مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے آ گئے ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین قسم کے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا تھا ، ( عہد یا بیعت کو ) توڑنے والوں ، ہم پلہ ہونے کا دعوی کرنے والوں ، اور خروج ( یا بغاوت کرنے والوں ) ۔ تو میں نے ( عہد یا بیعت کو ) توڑنے والوں کے ساتھ جنگ کی ، میں نے ہم پلہ ہونے کا دعوی کرنے کے ساتھ جنگ کی ، اور اب اگر اللہ نے چاہا ، تو میں ، خروج ( یا بغاوت کرنے والوں ) کے ساتھ جنگ کروں گا ، اور مجھے نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10444
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عِيَاضِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِئِ : أَنَّهُ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ، وَنَحْنُ عِنْدَهَا جُلُوسٌ ، مَرْجِعَهُ مِنَ الْعِرَاقِ لَيَالِيَ قَتْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَتْ لَهُ : يَا ابْنَ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ هَلْ أَنْتَ صَادِقِي عَمَّا أَسْأَلُكَ عَنْهُ ؟ حَدِّثْنِي عَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ؟ قَالَ : وَمَا لِي لَا أَصْدُقُكِ ، قَالَتْ : فَحَدِّثْنِي عَنْ قِصَّتِهِمْ . قَالَ : فَإِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَمَّا كَاتَبَ مُعَاوِيَةَ ، وَحَكَمَ الْحَكَمَانِ ، خَرَجَ عَلَيْهِ ثَمَانِيَةُ آلَافٍ مِنْ قُرَّاءِ النَّاسِ ، فَنَزَلُوا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا : حَرُورَاءُ - مِنْ جَانِبِ الْكُوفَةِ - وَإِنَّهُمْ عَتَبُوا عَلَيْهِ ، فَقَالُوا : انْسَلَخْتَ مِنْ قَمِيصٍ كَسَاكَهُ اللَّهُ ، اسْمٌ سَمَّاكَ اللَّهُ بِهِ ، ثُمَّ انْطَلَقْتَ فَحَكَّمْتَ فِي دِينِ اللَّهِ ، فَلَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ . فَلَمَّا بَلَغَ عَلِيًّا مَا عَتَبُوا عَلَيْهِ ، وَفَارَقُوهُ عَلَيْهِ ، فَأَمَرَ مُؤَذِّنًا فَأَذَّنَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَّا مَنْ قَدْ حَمَلَ الْقُرْآنَ ، فَلَمَّا امْتَلَأَتِ الدَّارُ مِنْ قُرَّاءِ النَّاسِ دَعَا بِمُصْحَفِ إِمَامٍ عَظِيمٍ ، فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَجَعَلَ يَصُكَّهُ بِيَدِهِ ، وَيَقُولُ : أَيُّهَا الْمُصْحَفُ ، حَدِّثِ النَّاسَ . فَنَادَاهُ النَّاسُ فَقَالُوا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا تَسْأَلُ عَنْهُ إِنَّمَا هُوَ مِدَادٌ فِي وَرَقٍ ، يَتَكَلَّمُ بِمَا رَأَيْنَا مِنْهُ ، فَمَا تُرِيدُ ؟ . قَالَ : أَصْحَابُكُمْ أُولَاءِ الَّذِينَ خَرَجُوا بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ كِتَابُ اللَّهِ ، يَقُولُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ فِي امْرَأَةٍ وَرَجُلٍ " : وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا . فَأُمَّةُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْظَمُ حُرْمَةً أَوْ ذِمَّةً مِنْ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ . وَنَقَمُوا عَلَيَّ أَنِّي لَمَّا كَاتَبْتُ مُعَاوِيَةَ كَتَبْتُ : عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَقَدْ جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " . قَالَ : لَا تَكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : " وَكَيْفَ نَكْتُبُ ؟ " قَالَ سُهَيْلٌ : اكْتُبْ : بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَاكْتُبْ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " فَقَالَ : لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ أُخَالِفْكَ ، فَكَتَبَ : " هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قُرَيْشًا " . يَقُولُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ . ¤ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، فَخَرَجْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا تَوَسَّطْنَا عَسْكَرَهُمْ ، قَامَ ابْنُ الْكَوَّاءِ ، فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : يَا حَمَلَةَ الْقُرْآنِ ، هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهُ فَلْيَعْرِفْهُ ، فَأَنَا أَعْرِفُهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ، هَذَا مِمَّنْ نَزَلَ فِيهِ وَفِي قَوْمِهِ : " قَوْمٌ خَصِمُونَ " . فَرُدُّوهُ إِلَى صَاحِبِهِ وَلَا تُوَاضِعُوهُ كِتَابَ اللَّهِ . ¤ قَالَ : فَقَامَ خُطَبَاؤُهُمْ فَقَالُوا : وَاللَّهِ لَنُوَاضِعَنَّهُ الْكِتَابَ ، فَإِنْ جَاءَ بِالْحَقِّ نَعْرِفُهُ لَنَتَّبِعَنَّهُ ، وَإِنْ جَاءَ بِبَاطِلٍ لَنُبَكِّتَنَّهُ بِبَاطِلٍ ، وَلَنَرُدَّنَّهُ إِلَى صَاحِبِهِ ، فَوَاضَعُوا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ الْكِتَابَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَرَجَعَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلَافٍ كُلُّهُمْ تَائِبٌ ، فِيهِمُ ابْنُ الْكَوَّاءِ حَتَّى أَدْخَلَهُمْ عَلِيٌّ عَلَى الْكُوفَةَ . فَبَعَثَ عَلِيٌّ إِلَى بَقِيَّتِهِمْ ، قَالَ : قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِنَا وَأَمْرِ النَّاسِ مَا قَدْ رَأَيْتُمْ ، فَقِفُوا حَيْثُ شِئْتُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ : أَنْ لَا تَسْفِكُوا دَمًا حَرَامًا ، أَوْ تَقْطَعُوا سَبِيلًا ، أَوْ تَظْلِمُوا ذِمَّةً ، فَإِنَّكُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ فَقَدْ نَبَذْنَا إِلَيْكُمُ الْحَرْبَ عَلَى سَوَاءٍ : إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ . ¤ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : يَا ابْنَ شَدَّادٍ ، فَقَدْ قَتَلَهُمْ ؟ قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا بَعَثَ إِلَيْهِمْ حَتَّى قَطَعُوا السَّبِيلَ ، وَسَفَكُوا الدِّمَاءَ ، وَاسْتَحَلُّوا الذِّمَّةَ . فَقَالَتْ : وَاللَّهِ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ كَانَ . ¤ قَالَتْ : فَمَا شَيْءٌ بَلَغَنِي عَنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ يَتَحَدَّثُونَهُ يَقُولُونَ : ذَا الثُّدَيَّةِ ؟ مَرَّتَيْنِ . قَالَ : قَدْ رَأَيْتُهُ ، وَقُمْتُ مَعَ عَلِيٍّ عَلَيْهِ فِي الْقَتْلَى فَدَعَا النَّاسَ ، فَقَالَ : أَتَعْرِفُونَ هَذَا ؟ فَمَا أَكْثَرَ مَنْ جَاءَ يَقُولُ : رَأَيْتُهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ يُصَلِّي . وَلَمْ يَأْتُوا فِيهِ بِثَبْتٍ يُعْرَفُ إِلَّا ذَاكَ . قَالَتْ : فَمَا قَوْلُ عَلِيٍّ حِينَ قَامَ عَلَيْهِ كَمَا يَزْعُمُ أَهْلُ الْعِرَاقِ ؟ قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، قَالَتْ : فَهَلْ رَأَيْتَهُ قَالَ غَيْرَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : اللَّهُمَّ لَا ، قَالَتْ : أَجَلْ ، صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، يَرْحَمُ اللَّهُ عَلِيًّا ، إِنَّهُ كَانَ مِنْ كَلَامِهِ لَا يَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ إِلَّا قَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَيَذْهَبُ أَهْلُ الْعِرَاقِ فَيَكْذِبُونَ عَلَيْهِ وَيَزِيدُونَ فِي الْحَدِيثِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبیداللہ بن عیاض بن عمرو القاری بیان کرتے ہیں : عبدالله بن شداد بن الہاد آئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھے ہوئے تھے یہ ان صاحب کے عراق سے واپسی کی بات ہے جن دنوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تھا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے دریافت کیا : اے شداد بن الہاد کے بیٹے میں تم سے جس چیز کے بارے میں دریافت کروں گی کیا تم اس کے بارے میں مجھے سچ بیان کرو گے مجھے ان لوگوں کے بارے میں بتاؤ جنہیں ۔ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے قتل کیا ، تو عبداللہ بن شداد نے کہا: میں کیوں آپ کے ساتھ سچ بیانی نہیں کروں گا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : پھر تم ان کے بارے میں بتاؤ تو عبدالله بن شداد نے بتایا : جب سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ طے کیا کہ دونوں طرف سے ثالثی مقرر ہو گی تو قرآن کے عالموں میں سے آٹھ ہزار افراد نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کر دی اور انہوں نے ایک ایسی جگہ پر پڑاؤ کیا جس کا نام حروراء تھا یہ کوفہ کے پاس ایک جگہ تھی وہ لوگ وہاں جم گئے ان لوگوں نے کہا: آپ نے وہ قمیص اتار دی ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہنائی تھی اور اس نام کو بھی چھوڑ دیا ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کا رکھا تھا ، اور پھر آپ نے آگے جا کے اللہ کے دین میں کسی کو ثالث بنا دیا ہے حالانکہ فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ کا ہوتا ہے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی جو اعتراض انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر کیا تھا ، اور جس کی بنیاد پر وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے الگ ہوئے تھے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مؤذن کو حکم دیا اس نے اذان دی ( یعنی اعلان کیا ) کہ امیر المؤمنین کے پاس صرف وہ شخص آئے جو قرآن کا عالم ہو جب قرآن کے عالموں سے گھر بھر گیا تو انہوں نے مصحف منگوایا اور ان لوگوں کے سامنے رکھ دیا ، اور پھر اپنے ہاتھ اس پر پھیر کر یہ کہنے لگے اے مصحف تم لوگوں کو بتاؤ تو لوگوں نے ان سے گزارش کرتے ہوئے کہا: اے امیر المؤمنین آپ اس سے کس کے بارے میں دریافت کر رہے ہیں ؟ یہ صرف سیاہی ہے ، جو ورق پر لگی ہوئی ہے ، اور اس کے جو الفاظ ہیں وہ ہم پڑھ لیتے ہیں آپ کیا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : تمہارے یہ ساتھی جنہوں نے خروج کیا ہے میرے اور ان کے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں میاں بیوی کے بارے میں یہ فرمایا ہے : ” اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان ناچاقی کا اندیشہ ہو ، تو ایک ثالث مرد کے گھر والوں کی طرف سے بھیج دو اور ایک ثالث عورت کے گھر والوں کی طرف سے بھیج دو اگر وہ دونوں اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا “ ۔ ( پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی امت کی حرمت زیادہ ہے یا ایک مرد اور عورت کے معاملے کا احترام زیادہ ہے وہ لوگ مجھ پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ میں نے معاہدہ تحریر کرتے ہوئے اس میں یہ لکھ دیا ہے کہ علی بن ابوطالب ( اس میں امیر المؤمنین نہیں لکھا ) تو ایک مرتبہ سہیل بن عمرو ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) آیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھوایا : بسم الله الرحمن الرحیم اس نے کہا: بسم الله الرحمن الرحیم نہ لکھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : پھر ہم کیا لکھیں سہیل نے کہا: آپ یہ لکھیں باسمك اللهم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لکھو محمد رسول اللہ اس نے کہا: اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، تو میں نے آپ کی مخالفت نہیں کرنی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھوایا یہ وہ معاہدہ ہے ، جو محمد بن عبداللہ قریشی کر رہے ہیں ( پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے : ” تمہارے لئے اللہ کے رسول کے طریقے میں بہترین نمونہ ہے یہ اس شخص کے لئے ہے ، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو “ ۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ان لوگوں کی طرف بھیجا میں بھی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ گیا ، یہاں تک کہ ہم ان کے لشکر کے درمیان میں پہنچ گئے ، تو ابن کواء کھڑا ہوا اس نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے کہا: اے قرآن کے عالمو ! یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں جو شخص ان کو نہیں جانتا تو وہ انہیں پہچان لے میں اللہ کی کتاب کے حوالے سے ان سے واقف ہوں یہ وہ فرد ہیں ، جن کے بارے میں اور جن کی قوم کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی : ” بلکہ وہ جھگڑالو ، لوگ ہیں “ تو تم انہیں ان کے آقا کے پاس واپس بھیج دو اور اللہ کی کتاب کے بارے میں ان کے ساتھ بحث نہ کرو ۔ راوی کہتے ہیں : پھر ان لوگوں کے خطیب کھڑے ہوئے ، اور انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! اللہ کی کتاب کی بنیاد پر ہم ان کے ساتھ مناظرہ کریں گے اگر یہ ایسا حق لے کر آئے ہوں جو ہمیں سمجھ آ گیا تو ہم ان کی پیروی کریں گے ، اور اگر یہ باطل لے کر آئے ہوں گے ، تو ہم ان کے باطل کے حوالے سے انہیں قبیح قرار دیں گے ، اور انہیں ان کے ساتھی کی طرف ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف ) واپس کر دیں گے پھر وہ تین دن تک سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ اللہ کی کتاب کی بنیاد پر بحث کرتے رہے ، اور ان میں سے چار ہزار افراد نے رجوع کر لیا ان سب نے توبہ کی تھی ان لوگوں میں ابن کواء بھی شامل بھی تھا ، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ انہیں لے کر کوفہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے باقی افراد کی طرف مہم روانہ کی اور فرمایا : ہمارا اور لوگوں کا جو معاملہ ہے وہ تم دیکھ رہے ہو تم جہاں چاہو ٹھہرے رہو ہمارے اور اپنے درمیان یہ طے کر لو کہ تم حرام طور پر کوئی خون نہیں بہاؤ گے راستہ نہیں لوٹو گے ذمہ کی خلاف ورزی نہیں کرو گے اگر تم نے ان میں سے کوئی کام کیا ، تو پھر ہم تم پر جنگ مسلط کر دیں گے بے شک اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن شداد سے کہا: اے ابن شداد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کر دیا تھا ؟ تو عبداللہ بن شداد نے بتایا اللہ کی قسم سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف جنگی مہم اس وقت تک نہیں بھیجی جب تک انہوں نے لوٹ مار شروع نہیں کر دی اور خون بہانا شروع نہیں کر دیا ، اور ذمہ کی خلاف ورزی نہیں شروع کر دی تو سیدہ عائشہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ایسا ہی ہوا تھا ؟ تو عبداللہ بن شداد نے کہا: اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ایسا ہی ہوا تھا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اہل عراق کے بارے میں مجھے ایک اور چیز پتہ چلی ہے کہ وہ آپس میں بات چیت کرتے ہیں ، اور یہ کہتے ہیں کہ کوئی ذوثدیہ نام کا شخص بھی تھا تو عبداللہ بن شداد نے بتایا میں نے اسے دیکھا ہے ، میں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقتولین میں اس کے پاس کھڑا ہوا تھا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بلایا اور دریافت کیا : کیا تم لوگ اسے پہچانتے ہو ، تو زیادہ سے زیادہ یہ بات بتائی گئی کہ ایک شخص نے کہا: میں نے اسے بنو فلاں کی مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تھا لوگ اس کے بارے میں کوئی مستند اطلاع نہیں دے سکے صرف یہی بات پتہ چل سکی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس کھڑے ہوئے تھے ، تو انہوں نے کیا کہا: تھا وہی جو اہل عراق بیان کرتے ہیں ، تو عبداللہ بن شداد نے کہا: میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا تم نے انہیں اس کے علاوہ کچھ اور کہتے ہوئے بھی دیکھا تو عبداللہ نے کہا: اللہ جانتا ہے جی نہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ٹھیک ہے اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر رحم کرے یہ ان کا تکیہ کلام تھا کہ جب بھی وہ کوئی حیران کن چیز دیکھتے تھے ، تو یہ کہتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، اور پھر اہل عراق نے ان کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا شروع کر دی اور اصل بات میں اضافہ شروع کر دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10445
وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : ¤ سَأَلْتُهُ عَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ عَلِيٌّ . قَالَ : قُلْتُ : فِيمَ فَارَقُوهُ ؟ وَفِيمَ اسْتَحَلُّوهُ ؟ وَفِيمَ دَعَاهُمْ ؟ وَبِمَ اسْتَحَلَّ دِمَاءَهُمْ ؟ قَالَ : إِنَّهُ لَمَّا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ فِي أَهْلِ الشَّامِ بِصِفِّينَ ، اعْتَصَمَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِجَبَلٍ ، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : أَرْسِلْ إِلَيْهِ بِالْمُصْحَفِ فَلَا وَاللَّهِ لَا نَرُدُّهُ عَلَيْكَ . قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ يَحْمِلُهُ يُنَادِي : بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ ، أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ . . . الْآيَةَ . قَالَ عَلِيٌّ : نَعَمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ ، أَنَا أَوْلَى بِهِ مِنْكُمْ . ¤ فَجَاءَتِ الْخَوَارِجُ ، وَكُنَّا نُسَمِّيهِمْ يَوْمَئِذٍ الْقُرَّاءَ ، وَجَاءُوا بِأَسْيَافِهِمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ ، فَقَالُوا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَلَا نَمْشِي إِلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ؟ . فَقَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ ، قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ ، لَقَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا قَاتَلْنَا ، وَذَلِكَ فِي الصُّلْحِ الَّذِي كَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ ؟ قَالَ : " بَلَى " . قَالَ : أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ ؟ قَالَ : " بَلَى " . قَالَ : فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا ، وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ؟ قَالَ : " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي أَبَدًا " . ¤ فَانْطَلَقَ عُمَرُ فَلَمْ يَصْبِرْ مُتَغَيِّظًا حَتَّى أَتَى أَبَا بَكْرٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ ، وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ ، وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ ؟ قَالَ : بَلَى . قَالَ : فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا ، وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ؟ قَالَ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا . ¤ قَالَ : فَنَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى مُحَمَّدٍ بِالْفَتْحِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ ، فَأَقْرَأَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَفَتْحٌ هُوَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَطَابَتْ نَفْسُهُ وَرَجَعَ ، وَرَجَعَ النَّاسُ ، ثُمَّ إِنَّهُمْ خَرَجُوا بِحَرُورَاءَ - أُولَئِكَ الْعِصَابَةُ مِنَ الْخَوَارِجِ بِضْعَةَ عَشَرَ أَلْفًا - فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ عَلِيٌّ يَنْشُدُهُمُ اللَّهَ ، فَأَبَوْا عَلَيْهِ . فَأَتَاهُمْ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ فَأَنْشَدَهُمْ ، وَقَالَ : عَلَامَ تُقَاتِلُونَ خَلِيفَتَكُمْ ؟ قَالُوا : مَخَافَةَ الْفِتْنَةِ . قَالَ : فَلَا تُعَجِّلُوا ضَلَالَةَ الْعَامِ مَخَافَةَ فِتْنَةِ عَامٍ قَابِلٍ . فَرَجَعُوا وَقَالُوا : نَسِيرُ عَلَى مَا جِئْنَا ، فَإِنْ قَبِلَ عَلِيٌّ الْقَضِيَّةَ قَاتَلْنَا عَلَى مَا قَاتَلْنَا يَوْمَ صِفِّينَ ، وَإِنْ نَقَضَهَا قَاتَلْنَا مَعَهُ . فَسَارُوا حَتَّى بَلَغُوا النَّهْرَوَانِ . فَافْتَرَقَتْ مِنْهُمْ فِرْقَةٌ ، فَجَعَلُوا يَهْدُونَ النَّاسَ لَيْلًا ، قَالَ أَصْحَابُهُمْ : وَيْلَكُمْ مَا عَلَى هَذَا فَارَقْنَا عَلِيًّا ، فَبَلَغَ عَلِيًّا أَمْرُهُمْ فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : مَا تَرَوْنَ ، نَسِيرُ إِلَى أَهْلِ الشَّامِ أَمْ نَرْجِعُ إِلَى هَؤُلَاءِ الَّذِينَ خُلِّفُوا إِلَى ذَرَارِيِّكُمْ ؟ قَالُوا : بَلْ نَرْجِعُ فَذَكَرَ أَمْرَهُمْ ، فَحَدَّثَ عَنْهُمْ بِمَا قَالَ فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِنَّ فَرِقَةً تَخْرُجُ عِنْدَ اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ ، تَقْتُلُهُمْ أَقْرَبُ الطَّائِفَتَيْنِ إِلَى الْحَقِّ ، عَلَامَتُهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ يَدُهُ كَثَدْيِ الْمَرْأَةِ " . ¤ فَسَارُوا حَتَّى الْتَقَوْا بِالنَّهْرَوَانِ ، فَاقْتَتَلُوا قِتَالًا شَدِيدًا ، فَجَعَلَتْ خَيْلُ عَلِيٍّ لَا تَقِفُ لَهُمْ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنْ كُنْتُمْ إِنَّمَا تُقَاتِلُونَ لِي فَوَاللَّهِ مَا عِنْدِي مَا أَجْزِيكُمْ ، وَإِنْ كُنْتُمْ إِنَّمَا تُقَاتِلُونَ لِلَّهِ ، فَلَا يَكُونَنَّ هَذَا فِعَالَكُمْ ، فَحَمَلَ النَّاسُ حَمْلَةً وَاحِدَةً ، فَانْجَلَتِ الْخَيْلُ عَنْهُمْ وَهُمْ مُنْكَبُّونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ . ¤ فَقَامَ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : اطْلُبُوا الرَّجُلَ الَّذِي فِيهِمْ ، فَطَلَبَ النَّاسُ الرَّجُلَ فَلَمْ يَجِدُوهُ ، حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ : غَرَّنَا ابْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ إِخْوَانِنَا حَتَّى قَتَلْنَاهُمْ . قَالَ : فَدَمَعَتْ عَيْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : فَدَعَا بِدَابَّتِهِ فَرَكِبَهَا فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى وَهْدَةً فِيهَا قَتْلَى بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، فَجَعَلَ يَجُرُّ بِأَرْجُلِهِمْ حَتَّى وَجَدَ الرَّجُلَ تَحْتَهُمْ ، فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : اللَّهُ أَكْبَرُ . وَفَرِحَ ، وَفَرِحَ النَّاسُ وَرَجَعُوا . وَقَالَ عَلِيٌّ : لَا أَغْزُو الْعَامَ . وَرَجَعَ إِلَى الْكُوفَةِ ، وَقُتِلَ رَحِمَهُ اللَّهُ ، وَاسْتُخْلِفَ الْحَسَنُ ، وَسَارَ سِيرَةَ أَبِيهِ ، ثُمَّ بَعَثَ بِالْبَيْعَةِ إِلَى مُعَاوِيَةَ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حبیب بن ابوثابت ابووائل کے بارے میں یہ بات ذکر کی ہے میں نے ان سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا : جنہیں ، سیدنا علی رضی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا میں نے دریافت کیا : وہ لوگ کس وجہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے الگ ہوئے تھے کس وجہ سے انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خون کو حلال قرار دیا تھا ، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں کس بات کی دعوت دی تھی اور کس بنیاد پر ان کے خون کو حلال قرار دیا تھا ، تو ابووائل نے بتایا : جب صفین کے مقام پر اہل شام کے ساتھ جنگ شدید ہو گئی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے ایک پہاڑ کی پناہ لی تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف مصحف کو بھیجیں اللہ کی قسم ہم اس کے علاوہ کسی اور صورت میں نہیں بچ سکتے راوی بیان کرتے ہیں : تو ایک شخص قرآن مجید کو اٹھا کر آیا اور اس نے پکار کر کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ دے گی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب میں سے حصہ دیا گیا “ ۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ٹھیک ہے ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی اور میں اس کی پیروی کرنے کا تم سے زیادہ حق رکھتا ہوں پھر خوارج آئے ہم انہیں قاری صاحبان کہا: کرتے تھے انہوں نے اپنی تلواریں اپنی گردنوں پر رکھی ہوئی تھیں انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین کیا ہم اس قوم کی طرف چل کر نہ جائیں تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ دیدے تو سہل بن حنیف کھڑے ہوئے ، اور بولے : اے لوگو تم اپنے آپ کو غلط قرار دو حدیبیہ کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اگر ہم جنگ کرنا چاہتے تو جنگ کر سکتے تھے اور یہ وہ صلح ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان ہوئی تھی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں ، اور وہ باطل پر نہیں ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیا ہمارے مقتولین جنت میں نہیں ہیں ، اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : پھر ہم کس بنیاد پر اپنے دین کے حوالے سے کمزوری ظاہر کریں ہم واپس جاتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ دیدے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! میں اللہ کا رسول ہوں ، اور وہ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چلے گئے لیکن انہیں غصے پر ق ابونہیں آیا تو وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور بولے : اے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیا ہمارے مقتولین جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر ہم کس بنیاد پر اپنے دین کے معاملے میں کمزوری دکھائیں ہمیں تو یہ کرنا چاہیے ( کہ جنگ کریں ) تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ دیدے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے خطاب کے صاحبزادے ! وہ اللہ کے رسول ہیں ، اور اللہ تعالیٰ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ فتح نازل ہو گئی آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلوایا اور ان کے سامنے یہ سورت پڑھی انہوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا یہ فتح ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں تو اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تسلی ہوئی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس چلے گئے ، اور لوگ بھی واپس چلے گئے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں ) ان خوارج نے حروراء کے مقام پر پڑاؤ کیا یہ دس ہزار سے کچھ زیادہ لوگ تھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا اور انہیں اللہ کا واسطہ دیا لیکن انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بات نہیں مانی پھر صعصعہ بن صوحان گئے ، اور انہیں واسطہ دیا ، اور یہ کہا: کہ تم لوگ کس بنیاد پر اپنے خلیفہ کے ساتھ لڑنا چاہ رہے ہو انہوں نے جواب دیا : فتنے کے اندیشے کی وجہ سے تو صعصعہ نے کہا: اگلے سال پیش آنے والے فتنے کے اندیشے کی وجہ سے تم اس سال گمراہی کا شکار نہ ہو ، تو وہ لوگ واپس چلے گئے انہوں نے کہا: ہم جس بنیاد پر آئے ہیں اس پر چلتے رہیں گے اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ قبول کر لیا تو ہم اس اصول پر جنگ کریں گے ، جس پر ہم نے جنگ صفین میں جنگ کی تھی اور اگر انہوں نے اسے توڑ دیا ، تو ہم ان کے ساتھ مل کر لڑائی کریں گے پھر وہ لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ نہروان پہنچ گئے وہاں وہ مختلف حصوں میں تقسیم ہو گئے ، اور انہوں نے رات کے وقت لوگوں کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا ان کے کچھ ساتھیوں نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ہم اس کام کے لئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے الگ نہیں ہوئے تھے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : تم لوگ کیا سمجھتے ہو ہمیں اہل شام کی طرف جانا چاہیے یا ان لوگوں کی طرف جانا چاہیے جنہیں تم اپنے بال بچوں میں اپنے پیچھے چھوڑ جاؤ گے ، تو لوگوں نے کہا: ہمیں واپس چلے جانا چاہیے پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کا معاملہ ذکر کیا ان کے بارے میں حدیث بیان کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا : ” لوگوں کے درمیان اختلاف کے وقت ایک فرقہ ظہور پذیر ہو گا جسے وہ گروہ قتل کرے گا ، جو دونوں گروہوں میں سے حق کے زیادہ قریب ہو گا اور ان لوگوں کی مخصوص علامت ان میں موجود ایک فرد ہو گا جس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی مانند ہو گا “ ۔ پھر وہ لوگ وہاں سے روانہ ہوئے ، اور نہروان کے مقام پر ان کی خوارج کے ساتھ جنگ ہوئی شدید لڑائی ہوئی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا لشکر مسلسل پیش قدمی کرتا رہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو اگر تم میری خاطر جنگ کر رہے ہو ، تو اللہ کی قسم میرے پاس تمہیں جزا کے طور پر دینے کے لئے کچھ نہیں ہے ، اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی خاطر جنگ کر رہے ہو ، تو پھر تمہارا یہ طرز عمل نہیں ہونا چاہیے پھر لوگوں نے ایک ہی مرتبہ حملہ کیا اور ان لوگوں کے گھڑسوار پسپا ہو گئے ، اور وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، اور انہوں نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کے درمیان اس شخص کو تلاش کرو لوگوں نے اس شخص کو تلاش کیا لیکن انہیں وہ نہیں ملا یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے یہ کہا: کہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں دھوکہ دیا ہے ، جو ہمارے بھائیوں کے حوالے سے ہے ، جس کی وجہ سے ہم نے انہیں قتل کر دیا ہے ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے انہوں نے اپنی سواری منگوائی اس پر سوار ہوئے ، اور روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ وہ ایک نشیبی جگہ پر آئے جہاں مقتولین پڑے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کے اوپر پڑے ہوئے تھے ان کی ٹانگیں کھینچی جانے لگیں ، یہاں تک کہ ان کے نیچے سے وہ شخص مل گیا لوگوں نے اس بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بتایا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ اکبر سیدنا علی رضی اللہ عنہ خوش ہو گئے ، اور لوگ بھی خوش ہو گئے ، اور لوگوں نے رجوع کر لیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس سال میں جنگ نہیں کروں گا ، پھر وہ واپس کوفہ آ گئے ، اور پھر وہاں وہ شہید ہو گئے اس کے بعد سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بن گئے انہوں نے بھی اپنے والد کا طرز عمل اختیار کیا اور پھر انہوں نے خلافت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10446
وَعَنْ كُلَيْبِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ ، وَهُوَ فِي بَعْضِ أَمْرِ النَّاسِ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابُ السَّفَرِ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَشَغَلَ عَلِيًّا مَا كَانَ فِيهِ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ ، فَقَالَ كُلَيْبٌ : قُلْتُ : مَا شَأْنُكَ ؟ فَقَالَ : كُنْتُ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا - قَالَ : لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَ - فَمَرَرْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ خَرَجُوا قِبَلَكُمْ يُقَالُ لَهُمْ : الْحَرُورِيَّةُ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : فِي مَكَانٍ يُقَالُ لَهُ حَرُورَاءُ ؟ قَالَ : قَالَ : فَسُمُّوا بِذَلِكَ الْحَرُورِيَّةَ . فَقَالَتْ : طُوبَى لِمَنْ شَهِدَ هَلَكَتَهُمْ . قَالَتْ : أَمَا وَاللَّهِ لَوْ شَاءَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ لَأَخْبَرَكُمْ خَبَرَهُمْ . ¤ فَمِنْ ثَمَّ جِئْتُ أَسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ ، قَالَ : وَفَرَغَ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : أَيْنَ الْمُسْتَأْذِنُ ؟ فَقَامَ عَلَيْهِ فَقَصَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا قَصَّ عَلَيَّ ، قَالَ : فَأَهَلَّ عَلِيٌّ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَيْسَ عِنْدَهُ أَحَدٌ إِلَّا عَائِشَةُ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : ¤ " يَا عَلِيُّ ، كَيْفَ أَنْتَ وَقَوْمٌ يَخْرُجُونَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا " . وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ : " وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ - أَوْ تَرَاقِيَهُمْ - يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ ، كَأَنَّ يَدَهُ ثَدْيُ حَبَشِيَّةٍ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : أَنْشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، أَحَدَّثَكُمْ أَنَّهُ فِيهِمْ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . فَذَهَبْتُمْ فَالْتَمَسْتُمُوهُ حَتَّى جِئْتُمْ بِهِ تَسْحَبُونَهُ كَمَا نَعَتَ لَكُمْ ؟ قَالَ : ثُمَّ قَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ، رِجَالٌ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
کلیب بن شہاب بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ لوگوں کے معاملات میں مصروف تھے اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا جس کے جسم پر سفر کا لباس تھا اس نے کہا: اے امیر المؤمنین لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ دیگر امور کی طرف متوجہ رہے ، اور اس کی طرف توجہ نہیں دی کلیب بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے ، تو اس نے بتایا : میں حج کے سلسلے میں یا عمرے کے سلسلے میں گیا ہوا تھا راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں سمجھ آئی کہ اس نے کیا کہا: ہے اس نے بتایا : میرا گزر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے ہوا تو انہوں نے دریافت کیا : وہ لوگ کون ہیں ، جنہوں نے تمہاری طرف خروج کیا ہے جنہیں حروریہ کہا: جاتا ہے ، تو میں نے بتایا : وہ ایک جگہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کا نام حروراء ہے ، اور اس حوالے سے ان کا نام حروریہ رکھا گیا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ، جو انہیں ہلاک کرنے میں شریک ہوتا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی فرمایا اللہ کی قسم اگر ابن ابوطالب چاہیں ، تو میں تم لوگوں کو ان کے حالات کے بارے میں بتا سکتی ہوں ۔ ( اس شخص نے کہا: ) تو اسی وجہ سے میں اس بارے میں دریافت کرنے کے لئے آیا ہوں راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے ، تو انہوں نے دریافت کیا : اجازت لینے والا شخص کہاں ہے وہ شخص ان کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے پورا واقعہ بیان کیا جو اس نے میرے سامنے بیان کیا تھا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھا اور پھر یہ کہا: کہ میں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی اور آپ کے پاس موجود نہیں تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اے علی ! اس وقت تم کیا کرو گے کہ جب فلاں جگہ پر کچھ لوگ نکلیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے یہ فرمایا وہ لوگ قرآن کی تلاوت کریں گے ، لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) اور وہ اسلام سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے ان لوگوں میں ایک شخص ہو گا جس کا ایک ہاتھ نامکمل ہو گا اس کا ہاتھ حبشی عورت کی چھاتی کی مانند ہو گا “ ۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے میں نے تم لوگوں سے یہ حدیث بیان کی تھی کہ وہ شخص ان لوگوں میں ہو گا لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر تم لوگ گئے تھے تم نے اسے تلاش کیا تھا پھر تم اسے گھسیٹتے ہوئے لے کر آئے تھے اور وہ ویسا ہی تھا جیسے میں نے تمہارے سامنے بیان کیا تھا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ یہ کہا: کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں امام بزار نے
یہ روایت اس کی مانند نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں امام بزار نے
یہ روایت اس کی مانند نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 10447
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ذَكَرَتِ الْخَوَارِجَ ، وَسَأَلَتْ مَنْ قَتَلَهُمْ - يَعْنِي أَصْحَابَ النَّهْرِ - فَقَالُوا : عَلِيٌّ ، فَقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " يَقْتُلُهُمْ خِيَارُ أُمَّتِي ، وَهُمْ شِرَارُ أُمَّتِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ قِصَّةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے خوارج کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے دریافت کیا : کس نے انہیں قتل کیا ہے ، تو لوگوں نے بتایا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ان لوگوں کو میری امت کے بہترین لوگ قتل کریں گے ، اور وہ لوگ ( یعنی خوارج ) میری امت کے بدترین لوگ ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، جس میں پورا واقعہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، جس میں پورا واقعہ منقول ہے ۔
حدیث نمبر: 10448
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : مَنْ قَتَلَ ذَا الثُّدَيَّةِ ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ؟ قَالُوا : نَعَمْ . قَالَتْ : أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " يَخْرُجُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، عَلَامَتُهُمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : ذوثدیہ کو کس نے قتل کیا تھا ؟ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کچھ لوگ نکلیں گے ، جو قرآن پڑھیں گے ، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے ، اور ان کی مخصوص نشانی ایک شخص ہو گا جس کا ایک ہاتھ نا مکمل ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 10449
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : ¤ لَقَدْ عَلِمَ أُولُو الْعِلْمِ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ ، وَعَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ . فَسَأَلُوهَا أَنَّ أَصْحَابَ ذِي الثُّدَيَّةِ مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي رِوَايَةٍ : إِنَّ أَصْحَابَ النَّهْرَوَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آل سے تعلق رکھنے والے صاحبان علم اور سیدہ عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما یہ بات جانتے ہیں کہ ذوثدیہ کے ساتھیوں کو نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ملعون قرار دیا گیا ہے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نہروان والے لوگوں کو ( امی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ملعون قرار دیا گیا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10450
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا اعْتَزَلَتِ الْحَرُورِيَّةُ وَكَانُوا عَلَى حِدَتِهِمْ ، قُلْتُ لِعَلِيٍّ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَبْرِدْ عَنِ الصَّلَاةِ لَعَلِّي آتِي هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ ، فَأُكَلِّمُهُمْ ، قَالَ : إِنِّي أَتَخَوَّفُهُمْ عَلَيْكَ . قُلْتُ : كَلَّا إِنَّ شَاءَ اللَّهُ ، فَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا قَدَرْتُ عَلَيْهِ مِنْ هَذِهِ الْيَمَانِيَّةِ ، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهِمْ وَهُمْ قَائِلُونَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ ، فَدَخَلْتُ عَلَى قَوْمٍ لَمْ أَرَ قَوْمًا أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنْهُمْ ، أَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا ثِفَنُ الْإِبِلِ ، وَوُجُوهُهُمْ مُعْلَنَةٌ مِنْ آثَارِ السُّجُودِ ، فَدَخَلْتُ فَقَالُوا : مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، مَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ : جِئْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْ أَصْحَابِ رِسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَزَلَ الْوَحْيُ وَهُمْ أَعْلَمُ بِتَأْوِيلِهِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا تُحَدِّثُوهُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَنُحَدِّثَنَّهُ . ¤ قَالَ : قُلْتُ : أَخْبِرُونِي مَا تَنْقِمُونَ عَلَى ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَتَنِهِ ، وَأَوَّلِ مَنْ آمَنَ بِهِ ، وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُ ؟ قَالُوا : نَنْقِمُ عَلَيْهِ ثَلَاثًا ، قُلْتُ : مَا هُنَّ ؟ قَالُوا : أَوَّلُهُنَّ أَنَّهُ حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي دِينِ اللَّهِ ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ . ¤ قُلْتُ : وَمَاذَا ؟ قَالُوا : قَاتَلَ وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ ، لَئِنْ كَانُوا كُفَّارًا لَقَدْ حَلَّتْ أَمْوَالُهُمْ ، وَإِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ لَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْهِ دِمَاؤُهُمْ . ¤ قَالَ : قُلْتُ : وَمَاذَا ؟ قَالُوا : وَمَحَا نَفْسَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَهُوَ أَمِيرُ الْكَافِرِينَ . ¤ قَالَ : قُلْتُ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَرَأْتُ عَلَيْكُمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ الْمُحْكَمِ ، وَحَدَّثْتُكُمْ مِنْ سُنَّةِ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَا تُنْكِرُونَ أَتَرْجِعُونَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . ¤ قَالَ : قُلْتُ : أَمَّا قَوْلُكُمْ : إِنَّهُ حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي دِينِ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ تَعَالَى يَقُولُ : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ . إِلَى قَوْلِهِ : يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ ، وَقَالَ فِي الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا : وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا . أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ ، أَفَحُكْمُ الرِّجَالِ فِي دِمَائِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَصَلَاحِ ذَاتِ بَيْنِهِمْ أَحَقُّ أَمْ فِي أَرْنَبٍ ثَمَنُهَا رُبُعُ دِرْهَمٍ ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ فِي حَقْنِ دِمَائِهِمْ ، وَصَلَاحِ ذَاتِ بَيْنِهِمْ . قَالَ : أَخَرَجَتْ مِنْ هَذِهِ ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ . ¤ وَأَمَّا قَوْلُكُمْ : إِنَّهُ قَتَلَ وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ ، أَتَسْبُونَ أُمَّكُمْ ؟ أَمْ تَسْتَحِلُّونَ مِنْهَا مَا تَسْتَحِلُّونَ مِنْ غَيْرِهَا ؟ فَقَدْ كَفَرْتُمْ . وَإِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّهَا لَيْسَتْ بِأُمِّكُمْ فَقَدْ كَفَرْتُمْ ، وَخَرَجْتُمْ مِنَ الْإِسْلَامِ ; إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ : النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ وَأَنْتُمْ تَتَرَدَّدُونَ بَيْنَ ضَلَالَتَيْنِ ، فَاخْتَارُوا أَيَّهُمَا شِئْتُمْ ، أَخَرَجَتْ مِنْ هَذِهِ ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ . ¤ وَأَمَّا قَوْلُكُمْ : مَحَا نَفْسَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا قُرَيْشًا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَنْ يَكْتُبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ كِتَابًا ، فَقَالَ : " اكْتُبْ : هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " فَقَالُوا : وَاللَّهِ لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ وَلَا قَاتَلْنَاكَ ، وَلَكِنِ اكْتُبْ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . فَقَالَ : " وَاللَّهِ إِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ ، وَإِنْ كَذَّبْتُمُونِي ، اكْتُبْ يَا عَلِيُّ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ " . وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ أَفْضَلَ مِنْ عَلِيٍّ ، أَخَرَجَتْ مِنْ هَذِهِ ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ . ¤ فَرَجَعَ مِنْهُمْ عِشْرُونَ أَلْفًا ، وَبَقِيَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلَافٍ فَقُتِلُوا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بِبَعْضِهِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب حروریہ نے علیحدگی اختیار کی اور وہ الگ ہو گئے ، تو میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المؤمنین آپ نماز میں ذرا تاخیر کریں تاکہ میں ان لوگوں کے پاس سے ہو آؤں اور ان سے بات چیت کروں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ تمہیں نقصان نہ پہنچا دیں میں نے کہا: اگر اللہ نے چاہا تو ایسا نہیں ہو گا پھر میں نے اپنے پاس موجود سب سے عمدہ یمانی لباس پہنا اور میں ان لوگوں کے پاس گیا اس وقت وہ لوگ دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے میں ان لوگوں کے پاس آیا میں نے اس طرح کے محنتی لوگ کبھی نہیں دیکھے ان کے ہاتھ ، اونٹ کے سخت نشان کی طرح تھے ، اور ان کے چہروں پر سجدوں کے نشانات تھے میں داخل ہوا تو انہوں نے کہا: اے ابن عباس آپ کو خوش آمدید ہے آپ کس سلسلے میں آئے ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں تمہارے ساتھ اللہ کے رسول کے اصحاب کے بارے میں بات چیت کرنے کے لئے آیا ہوں وحی نازل ہو چکی ہے ، اور اس کے مفہوم کے بارے میں یہ لوگ زیادہ بہتر جانتے ہیں ان لوگوں میں سے کچھ نے یہ کہا: کہ تم لوگ ان کے ساتھ بات نہ کرو اور کچھ نے کہا: ہم ان کے ساتھ ضرور بات کریں گے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے کہا: تم لوگ مجھے بتاؤ کہ تمہیں اللہ کے رسول کے چچازاد اور ان کے داماد پر کیا اعتراض ہے ، جو سب سے پہلے ان پر ایمان لائے تھے اور پھر اللہ کے رسول کے اصحاب بھی ان کے ساتھ ہیں ؟ ان لوگوں نے کہا: ہمیں ان پر تین اعتراضات ہیں میں نے دریافت کیا : وہ کیا ہیں ؟ انہوں نے کہا: پہلی بات تو یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے دین کے بارے میں انسانوں کو ثالث مقرر کیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” حکم صرف اللہ کا ہو گا “ ۔ میں نے دریافت کیا : اور کیا ہے ؟ انہوں نے کہا: انہوں نے جنگ کی لیکن دشمن کو قیدی نہیں بنایا اور اس کے مال کو غنیمت شمار نہیں کیا اگر دوسرے گروہ کے لوگ کافر تھے ، تو ان کے اموال بھی حلال ہونے چاہیے تھے اور اگر وہ مومن تھے ، تو ان کے خون بھی ان پر حرام ہونے چاہیے تھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے دریافت کیا : اور کیا اعتراض ہے ؟ انہوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی ذات سے امیر المؤمنین کا لفظ مٹا دیا تھا اگر وہ امیر المؤمنین نہیں ہیں ، تو پھر وہ امیرالکافرین ہوں گے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے کہا: اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر میں تمہارے سامنے اللہ کی محکم کتاب کی آیات تلاوت کروں اور تمہیں تمہارے نبی کی وہ سنت بیان کروں ، جس کا تم انکار نہ کر سکو ، تو کیا تم رجوع کر لو گے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے کہا: جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ انہوں نے اللہ کے دین کے بارے میں انسانوں کو حکم مقرر کیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اے ایمان والو جب تم احرام کی حالت میں ہو ، تو تم شکار کو نہ مارو “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اس کے بارے میں تم میں سے دو عادل لوگ فیصلہ دیں “ ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عورت اور اس کے شوہر کے بارے میں یہ فرمایا ہے : ” اگر تم لوگوں کو ان کے درمیان ناچاقی کا اندیشہ ہو ، تو ایک ثالث مرد کے گھر والوں کی طرف سے اور ایک ثالث عورت کے گھر والوں کی طرف سے بھیج دو “ ۔ ( پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ) میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ لوگوں کی جانوں اور خون کے بارے میں انسانوں کو ثالث مقرر کرنا تاکہ لوگوں کے درمیان بہتری ہو یہ زیادہ حق رکھتا ہے یا ایک خرگوش کے بارے میں ثالث مقرر کرنا زیادہ حق رکھتا ہے ، جس کی قیمت چار درہم ہو گی لوگوں نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ لوگوں کی جان کو محفوظ کرنا اور ان کے درمیان صلح کرنا یہ زیادہ حق رکھتا ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں نے اس اعتراض کا جواب پیش کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہے جی ہاں ۔ ( سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ انہوں نے قتل کیا اور قیدی نہیں بنایا اور مال کو غنیمت قرار نہیں دیا ، تو کیا تم لوگ اپنی ماں کو قیدی بناؤ گے یا ان کے حوالے سے اس چیز کو حلال قرار دو گے ، جس چیز کو تم ان کے علاوہ دیگر خواتین کے حوالے سے حلال قرار دیتے ہو اگر تم ایسا کرو گے ، تو تم کفر کے مرتکب ہو گے ، اور اگر تم یہ گمان کرتے ہو کہ وہ تمہاری ماں نہیں ہے ، تو بھی تم کفر کے مرتکب ہو گے ، اور اسلام سے نکل جاؤ گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” نبی ، مومنین کے نزدیک ان کی جان سے زیادہ قریب ہیں ، اور نبی کی ازواج ان کی مائیں ہیں “ ۔ تو تم لوگ دو قسم کی گمراہیوں کے درمیان لڑھکتے پھرو گے ان دونوں میں سے جسے تم چاہو اختیار کر لو کیا میں نے اس اعتراض کا جواب دے دیا : انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہے ۔ جی ہاں ! ( سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ) جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ انہوں نے اپنی ذات کے لئے لفظ امیر المؤمنین مٹوا دیا تھا تو حدیبیہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو یہ دعوت دی کہ آپ ان کے اور اپنے درمیان معاہدہ تحریر کر لیتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا : تم یہ تحریر کرو کہ یہ وہ معاہدہ ہے ، جو اللہ کے رسول سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کر رہے ہیں تو مشرکین نے کہا: اللہ کی قسم اگر ہمیں یہ علم ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، تو ہم نے آپ کو بیت اللہ تک جانے سے نہیں روکنا تھا ، اور آپ کے ساتھ جنگ نہیں کرنی تھی اور آپ یہ لکھیں کہ محمد بن عبداللہ ( یہ معاہدہ کر رہے ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم میں اللہ کا رسول ہوں اگرچہ تم لوگ مجھے جھٹلاتے ہو : اے علی ! تم یہ لکھو محمد بن عبدالله ( سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا : ) کیا اللہ کے رسول سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتے تھے ؟ کیا میں نے اس اعتراض کا جواب بھی دے دیا ؟ ان لوگوں نے کہا: اللہ جانتا ہے جی ہاں راوی بیان کرتے ہیں : تو ان میں سے بیس ہزار افراد نے رجوع کر لیا اور چار ہزار افراد اپنے مسلک پر باقی رہے ، اور پھر وہ قتل ہوئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10451
وَعَنْ جُنْدَبٍ قَالَ : ¤ لَمَّا فَارَقَتِ الْخَوَارِجُ عَلِيًّا خَرَجَ فِي طَلَبِهِمْ ، وَخَرَجْنَا مَعَهُ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى عَسْكَرِ الْقَوْمِ ، وَإِذَا لَهُمْ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ ، وَإِذَا فِيهِمْ أَصْحَابُ الثَّفِنَاتِ ، وَأَصْحَابُ الْبَرَانِسِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ دَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ شِدَّةٌ ، فَتَنَحَّيْتُ فَرَكَزْتُ رُمْحِي ، وَنَزَلْتُ عَنْ فَرَسِي ، وَوَضَعْتُ بُرْنُسِي ، فَنَثَرْتُ عَلَيْهِ دِرْعِي ، وَأَخَذْتُ بِمِقْوَدِ فَرَسِي ، فَقُمْتُ أُصَلِّي إِلَى رُمْحِي ، وَأَنَا أَقُولُ فِي صَلَاتِي : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ قِتَالُ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَكَ طَاعَةً فَأْذَنْ لِي فِيهِ ، وَإِنْ كَانَ مَعْصِيَةً فَأَرِنِي بَرَاءَتَكَ . قَالَ : فَإِنَّا كَذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا حَاذَانِي ، قَالَ : تَعَوَّذْ بِاللَّهِ ، تَعَوَّذْ بِاللَّهِ يَا جُنْدَبُ مِنْ شَرِّ الشَّكِّ ، فَجِئْتُ أَسْعَى إِلَيْهِ ، وَنَزَلَ فَقَامَ يُصَلِّي ، إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَى بِرْذَوْنٍ يَقْرُبُ بِهِ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : أَلَكَ حَاجَةٌ فِي الْقَوْمِ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : قَدْ قَطَعُوا النَّهْرَ . قَالَ : مَا قَطَعُوهُ ؟ قُلْتُ : سُبْحَانَ اللَّهِ . ثُمَّ جَاءَ آخَرُ أَرْفَعُ مِنْهُ فِي الْجَرْيِ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : مَا تَشَاءُ ؟ قَالَ : أَلَكَ حَاجَةٌ فِي الْقَوْمِ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : قَدْ قَطَعُوا النَّهْرَ ، فَذَهَبُوا ، قُلْتُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، قَالَ عَلِيٌّ : مَا قَطَعُوهُ . ¤ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ يَسْتَحْضِرُ بِفَرَسِهِ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : مَا تَشَاءُ ؟ قَالَ : أَلَكَ حَاجَةٌ فِي الْقَوْمِ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : قَدْ قَطَعُوا النَّهْرَ ، قَالَ : مَا قَطَعُوهُ وَلَا يَقْطَعُوهُ ، وَلَيُقْتَلُنَّ دُونَهُ ، عَهْدٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ . ¤ قُلْتُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ قُمْتُ فَأَمْسَكْتُ لَهُ بِالرِّكَابِ ، فَرَكِبَ فَرَسَهُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى دِرْعِي فَلَبِسْتُهَا ، وَإِلَى قَوْسِي فَعَلَّقْتُهَا ، وَخَرَجْتُ أُسَايِرُهُ . فَقَالَ لِي : يَا جُنْدَبُ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : أَمَّا أَنَا ، فَأَبْعَثُ إِلَيْهِمْ رَجُلًا يَقْرَأُ الْمُصْحَفَ ، يَدْعُو إِلَى كِتَابِ اللَّهِ رَبِّهِمْ ، وَسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ ، فَلَا يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ حَتَّى يَرْشُقُوهُ بِالنَّبْلِ ، يَا جُنْدَبُ ، أَمَا إِنَّهُ لَا يُقْتَلُ مِنَّا عَشَرَةٌ ، وَلَا يَنْجُو مِنْهُمْ عَشَرَةٌ . ¤ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَهُمْ فِي مُعَسْكَرِهِمُ الَّذِي كَانُوا فِيهِ لَمْ يَبْرَحُوا ، فَنَادَى عَلِيٌّ فِي أَصْحَابِهِ فَصَفَّهُمْ ، ثُمَّ أَتَى الصَّفَّ مِنْ رَأْسِهِ ذَا إِلَى رَأْسِهِ ذَا مَرَّتَيْنِ ، وَهُوَ يَقُولُ : مَنْ يَأْخُذُ هَذَا الْمُصْحَفَ ، فَيَمْشِي بِهِ إِلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ فَيَدْعُوهُمْ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ رَبِّهِمْ ، وَسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ ، وَهُوَ مَقْتُولٌ وَلَهُ الْجَنَّةُ ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ إِلَّا شَابٌّ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، فَلَمَّا رَأَى عَلِيٌّ حَدَاثَةَ سِنِّهِ ، قَالَ لَهُ : ارْجِعْ إِلَى مَوْقِفِكَ . ¤ ثُمَّ نَادَى الثَّانِيَةَ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِ إِلَّا ذَلِكَ الشَّابُّ . ¤ ثُمَّ نَادَى الثَّالِثَةَ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِ إِلَّا ذَلِكَ الشَّابُّ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : خُذْ ، فَأَخَذَ الْمُصْحَفَ ، فَقَالَ لَهُ : أَمَا إِنَّكَ مَقْتُولٌ ، وَلَسْتَ مُقْبِلًا عَلَيْنَا بِوَجْهِكَ حَتَّى يَرْشُقُوكَ بِالنَّبْلِ . ¤ فَخَرَجَ الشَّابُّ بِالْمُصْحَفِ إِلَى الْقَوْمِ ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهُمْ حَيْثُ يَسْمَعُونَ قَامُوا وَنَشَّبُوا الْفَتَى قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ ، قَالَ : فَرَمَاهُ إِنْسَانٌ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَعَدَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : دُونَكُمُ الْقَوْمُ ، قَالَ جُنْدَبٌ : فَقَتَلْتُ بِكَفِّي هَذِهِ بَعْدَ مَا دَخَلَنِي مَا كَانَ دَخَلَنِي ثَمَانِيَةً ، قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ الظُّهْرَ ، وَمَا قُتِلَ مِنَّا عَشَرَةٌ ، وَلَا نَجَا مِنْهُمْ عَشَرَةٌ كَمَا قَالَ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ أَبِي السابِعَةِ ، عَنْ جُنْدَبٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْ أَبَا السَّابِعَةِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب خوارج نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے علیحدگی اختیار کی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کا پیچھا کرتے ہوئے نکلے ان کے ساتھ ہم بھی روانہ ہوئے ہم دشمن کے لشکر کے پاس پہنچ گئے قرآن کی تلاوت کی آواز یوں آ رہی تھی جس طرح شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے ان کے درمیان وہ لوگ بھی تھے جن کی جلد پر سخت نشان ( یا گٹھے ) تھے ، کچھ برانس والے ( یعنی عبادت گزار ) تھے ، جب میں نے ان لوگوں کو دیکھا تو مجھے اس حوالے سے الجھن کا احساس ہوا میں ایک طرف ہٹ گیا میں نے اپنا نیزہ زمین میں گاڑ دیا اپنے گھوڑے سے اتر آیا اور اپنی ٹوپی اتار دی اس پر اپنی ذرہ رکھ دی میں نے اپنے گھوڑے کی چھڑی کو پکڑا اور نیزے کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنے لگا میں نماز کے دوران یہ دعا کر رہا تھا : اے اللہ اگر ان لوگوں کے ساتھ قتال کرنا تیری اطاعت ہے ، تو مجھے اس کی اجازت دے اور اگر یہ معصیت ہے ، تو مجھے لاتعلقی موقع فراہم کر راوی کہتے ہیں : ابھی میں اسی حالت میں تھا کہ اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر پر سوار ہو کر تشریف لائے جب وہ میرے مد مقابل آئے ، تو انہوں نے فرمایا : تم اللہ کی پناہ مانگو تم اللہ کی پناہ مانگو اے جندب شک کے شر سے ( پناہ مانگو ) میں دوڑتا ہوا ان کی طرف گیا وہ سواری سے نیچے اترے اور کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے اسی دوران ایک شخص گھوڑے پر سوار ہو کر آیا اور بولا: اے امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا بات ہے اس نے کہا: آپ دشمن کی طرف توجہ نہیں دیں گے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہوا اس نے کہا: انہوں نے نہر کاٹ دی ہے ( یا پار کر لی ہے ) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا ۔ انہوں نے اسے پار کر لیا ہے میں نے کہا: سبحان اللہ پھر اس کے بعد ایک اور شخص آیا جس کی آواز زیادہ اونچی تھی اس نے کہا: اے امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کیا چاہتے ہو ۔ اس نے کہا: کیا آپ دشمن کی طرف توجہ نہیں دیں گے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے اس نے بتایا : ان لوگوں نے نہر پار کر لی ہے ، اور وہ چلے گئے ہیں میں نے کہا: اللہ اکبر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ اسے پار نہیں کر سکتے پھر ایک اور شخص اپنے گھوڑے کو دوڑاتا ہوا آیا اور بولا: اے امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا ہوا اس نے کہا: آپ دشمن کی طرف توجہ نہیں دیں گے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا ہوا اس نے بتایا : ان لوگوں نے نہر پار کر لی ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ اسے پار نہیں کر سکتے ہیں ، اور نہ ہی اسے آگے کر سکیں گے وہ اس سے پہلے ہی قتل ہو جائیں گے یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے عہد ہے میں نے کہا: اللہ اکبر پھر میں اٹھا میں نے ان کے لئے رکاب کو پکڑا وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوے میں اپنی ذرہ کی طرف واپس آیا میں نے اسے پہنا میں نے اپنی کمان لی اور اسے لٹکایا اور پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتا ہوا نکلا انہوں نے مجھ سے فرمایا : اے جندب میں نے کہا: اے امیر المؤمنین میں حاضر ہوں ۔ انہوں نے فرمایا : جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے ، تو ان کی طرف ایک شخص کو بھیجوں گا ، جو قرآن پڑھے گا اور انہیں اللہ کی کتاب کی طرف دعوت دے گا ، جو ان کا پروردگار اور ان کے نبی کی سنت کی طرف دعوت دے گا اور وہ ہماری طرف رخ نہیں کریں گے ، یہاں تک کہ اس شخص کو نیزوں کے ذریعے زخمی کر دیں گے ۔ اے جندب ! ہماری طرف سے دس آدمی بھی قتل نہیں ہوں گے ، اور ان کی طرف سے دس آدمی بھی نہیں بچیں گے راوی کہتے ہیں : ہم لوگ ان تک پہنچ گئے وہ لوگ اپنے لشکر میں موجود تھے جس میں پہلے تھے اور وہ اسی حالت میں تھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب میں آواز بلند کی اور ان لوگوں کی صفیں بنوائیں پھر وہ صف کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک آئے ایسا انہوں نے دو مرتبہ کیا وہ یہ کہہ رہے تھے کون شخص یہ قرآن لے کر ان لوگوں کی طرف جائے گا اور انہیں اللہ کی کتاب کی طرف جو ان کا پروردگار ہے ، اور ان کے نبی کی سنت کی طرف دعوت دے گا وہ شخص قتل ہو جائے گا اور اسے جنت مل جائے گی کسی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو جواب نہیں دیا بنو عامر بن صعصعہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے انہیں جواب دیا : جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی کم عمری ملاحظہ کی تو اس سے فرمایا : تم اپنی جگہ پر واپس چلے جاؤ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دوسری مرتبہ یہی اعلان کیا ، تو کوئی نکل کر ان کی طرف نہیں آیا صرف وہی نوجوان آیا پھر انہوں نے تیسری مرتبہ اعلان کیا ، تو صرف وہی نوجوان نکل کر ان کی طرف آیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم یہ لو ! اس نے مصحف لیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم قتل ہو جاؤ گے ، اور تم ہمارے پاس واپس نہیں آؤ گے وہ لوگ تمہیں نیزوں کے ذریعے زخمی کر دیں گے ( یا قتل کر دیں گے ) وہ نوجوان قرآن مجید لے کر دشمن کی طرف گیا جب وہ ان کے اتنا قریب ہوا جہاں وہ اس کی آواز سن سکتے تھے ، تو وہ کھڑا ہوا اس نوجوان کے واپس آنے سے پہلے ان لوگوں نے اس پر تیر اندازی کی ایک شخص نے اسے تیر مارا اس نوجوان نے ہماری طرف رخ کیا اور بیٹھ گیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم ان پر حملہ کر دو سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پہلے ان لوگوں کے بارے میں میرے ذہن میں جو بھی خیال آیا تھا اس کے بعد یہ حال ہوا کہ میں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے آٹھ لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھنے سے پہلے قتل کر دیا ، اور ہم میں سے دس آدمی بھی قتل نہیں ہوئے ، اور ان میں سے دس آدمی بھی نہیں بچے جیسا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ابوسابعہ کے حوالے سے سیدنا جندب سے نقل کی ہے میں ابوسابعہ سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ابوسابعہ کے حوالے سے سیدنا جندب سے نقل کی ہے میں ابوسابعہ سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10452
وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْفَرَّاءِ مَوْلَى عَلِيٍّ قَالَ : ¤ شَهِدْتُ مَعَ عَلِيٍّ عَلَى النَّهْرِ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَتْلِهِمْ ، قَالَ : اطْلُبُوا الْمُخْدَجَ ، فَطَلَبُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ ، وَأَمَرَ أَنْ يُوضَعَ عَلَى كُلِّ قَتِيلٍ قَصَبَةٌ ، فَوَجَدُوهُ فِي وَهْدَةٍ فِي مُنْتَقَعِ مَاءٍ ، رَجُلٌ أَسْوَدُ مُنْتِنُ الرِّيحِ ، فِي مَوْضِعِ يَدِهِ كَهَيْئَةِ الثَّدْيِ عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ . فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ قَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَسَمِعَ أَحَدَ ابْنَيْهِ - إِمَّا الْحَسَنَ أَوِ الْحُسَيْنَ - يَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَرَاحَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ هَذِهِ الْعِصَابَةِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا ثَلَاثَةٌ ، لَكَانَ أَحَدُهُمْ عَلَى رَأْيِ هَؤُلَاءِ ، إِنَّهُمْ لَفِي أَصْلَابِ الرِّجَالِ ، وَأَرْحَامِ النِّسَاءِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے غلام ابوجعفر فراء بیان کرتے ہیں : میں نہر کے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا جب وہ ان لوگوں کو قتل کر کے فارغ ہوئے ، تو انہوں نے فرمایا : اس شخص کو تلاش کرو جس کا ایک ہاتھ نا مکمل ہو لوگوں نے انہیں تلاش کیا ، تو وہ انہیں ملا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ حکم دیا کہ ہر مقتول پر چھری رکھی جائے ، تو وہ شخص انہیں ایک نشیبی جگہ پر پانی کے قریب انہیں مل گیا وہ ایک سیاہ فام شخص تھا جس کی ظاہری حالت بدبودار تھی اور اس کے ایک ہاتھ کی جگہ چھاتی کی مانند تھی جس پر کچھ بال تھے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف دیکھا تو ارشاد فرمایا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں صاحبزادوں میں سے کسی شاید سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کو یا شاید سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے سنا ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی امت کو اس گروہ سے نجات عطا کر دی ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اگر سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی امت میں سے صرف تین افراد باقی رہ جائیں تو ان میں سے کوئی ایک شخص ان لوگوں کے مسلک پر ہو گا اور یہ لوگ ابھی مردوں کی پشتوں میں اور عورتوں کے رحموں میں ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 10453
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُدَيْسٍ الْبَلَوِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " يَخْرُجُ أُنَاسٌ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، يُقْتَلُونَ بِجَبَلِ لُبْنَانَ أَوْ بِجَبَلِ الْخَلِيلِ " . ¤ قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ : فَقُتِلَ ابْنُ عُدَيْسٍ بِجَبَلِ لُبْنَانَ أَوْ بِجَبَلِ الْخَلِيلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ ، وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَالِ ، وَقَدْ ضُعِّفَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ أَوْ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عدیس بلوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کچھ لوگ نکلیں گے ، جو دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے انہیں جبل لبان ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جبل خلیل کے پاس قتل کیا جائے گا “ ۔ ابن لہیعہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن عدیس کو جبل لبان یا شاید جبل کے خلیل کے پاس شہید کیا گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد بکر بن سہل کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ مقارب الحال ہے اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث یا صحیح ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد بکر بن سہل کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ مقارب الحال ہے اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث یا صحیح ہوتی ہے ۔