کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خوارج کے بارے میں دیگر روایات
حدیث نمبر: 10432
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ . قَالَ : " هُمُ الْخَوَارِجُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ” اے ایمان والو ! تم اپنے علاوہ ( کسی اور مذہب کے پیروکار ) کو راز دار نہ بناؤ ، وہ تمہارے لیے فتنہ ( پیدا کرنے کی کوشش میں ) کوئی کوتاہی نہیں کریں گے ، وہ تمہیں تنگی میں مبتلا ( دیکھنا ) چاہتے ہیں ، ان کے مونہوں سے بغض ( یا دشمنی ) ظاہر ہو چکا ہے ، اور جس کو ان کے سینوں نے پوشیدہ رکھا ہے وہ بغض ) زیادہ بڑا ہے ، ہم نے تمہارے سامنے نشانیاں بیان کر دی ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو “ آپ نے ارشاد فرمایا : یہ خوارج ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10432
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8047)»
حدیث نمبر: 10433
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " إِذَا خَرَجَ عَلَيْكُمْ خَارِجٌ ، وَأَنْتُمْ مَعَ رَجُلٍ جَمِيعًا ، يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِينَ وَيُفَرِّقَ جَمْعَهُمْ ، فَاقْتُلُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمیر اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تمہارے سامنے کوئی شخص خروج کرے اور تم لوگ کسی حکمران کے پیچھے اکٹھے ہو ، اور وہ شخص یہ چاہتا ہو کہ مسلمانوں کے عصا کو چیر دے اور ان کی جمعیت کو منتشر کر دے تو تم اس شخص کو قتل کر دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10433
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10434
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صُرَيْحٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ ، وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سِتًّا أَوْ سَبْعًا ، لَظَنَنْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِذَا كُنْتُمْ عَلَى جَمَاعَةٍ فَجَاءَ مَنْ يُفَرِّقُ جَمَاعَتَكُمْ ، وَيَشُقُّ عَصَاكُمْ ، فَاقْتُلُوهُ كَائِنًا مَنْ كَانَ مِنَ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : الْعَبَّاسُ بْنُ عَوْسَجَةَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن صریح اشجعی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو وہ حدیث بیان نہ کروں جو میرے کانوں نے سنی اور میرے دل نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر محفوظ رکھا اگر میں نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ایک مرتبہ یا دو مرتبہ یا تین مرتبہ یا چار مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا چھ مرتبہ یا سات مرتبہ نہ سنی ہوتی تو میرا یہ اندازہ تھا کہ میں نے اس کو بیان نہیں کرنا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم ایک جماعت کی شکل میں ہو ، اور پھر وہ شخص آ جائے جو تمہاری جماعت کے درمیان تفرقہ ڈالنا چاہے ، اور تمہارے عصا کو چیرنا چاہئے ، تو تم اسے قتل کر دو ! خواہ وہ تم میں سے کوئی بھی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن عوسجہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10434
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10435
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " اقْتُلُوا الْفَذَّ مَنْ كَانَ مِنَ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُتَيَّمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” الگ ہونے والے کو قتل کر دو ! خواہ وہ جو بھی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن مقیم ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10435
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10436
وَعَنْ أَبِي غَالِبٍ قَالَ : ¤ كُنْتُ بِدِمَشْقَ زَمَنَ عَبْدِ الْمَلِكِ ، ، فَأُتِيَ بِرُءُوسِ الْخَوَارِجِ فَنُصِبَتْ عَلَى أَعْوَادٍ ، فَجِئْتُ لِأَنْظُرَ هَلْ فِيهَا أَحَدٌ أَعْرِفُهُ ؟ فَإِذَا أَبُو أُمَامَةَ عِنْدَهَا ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ ، فَنَظَرْتُ إِلَى الْأَعْوَادِ ، فَقَالَ : " كِلَابُ النَّارِ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ ، وَمَنْ قَتَلُوهُ خَيْرُ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ " قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ اسْتَبْكَى ، قُلْتُ : يَا أَبَا أُمَامَةَ ، مَا يُبْكِيكَ ؟ قَالَ : كَانُوا عَلَى دِينِنَا ، ثُمَّ ذَكَرْتُ مَا هُمْ صَائِرُونَ إِلَيْهِ غَدًا . ¤ قُلْتُ أَشَيْئًا تَقُولُهُ بِرَأْيِكَ أَمْ شَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : إِنِّي لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا إِلَى السَّبْعِ مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ ، أَمَا تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ فِي آلِ عِمْرَانَ : يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ : وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ . ¤ ثُمَّ قَالَ : اخْتَلَفَ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، سَبْعُونَ فِرْقَةً فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَاخْتَلَفَ النَّصَارَى عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، إِحْدَى وَسَبْعُونَ فِرْقَةً فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَتَخْتَلِفُ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثَةٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، اثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ فِرْقَةً فِي النَّارِ ، وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ . فَقُلْنَا : انْعَتْهُمْ لَنَا ، قَالَ : السَّوَادُ الْأَعْظَمُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ ، وَالتِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوغالب بیان کرتے ہیں : عبدالملک کے زمانے میں ، میں دمشق میں موجود تھا وہاں خوارج کے سر لائے گئے ، اور انہیں لکڑیوں پر لٹکا دیا گیا میں جائزہ لینے کے لئے آیا کہ کیا ان میں کوئی ایسا شخص ہے ، جس سے میں واقف ہوں تو ان کے پاس سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے میں ان کے قریب ہو گیا میں نے ان لکڑیوں کی طرف دیکھا تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ جہنم کے کتے ہیں انہوں نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور پھر کہا: یہ آسمان کے نیچے قتل ہونے والے بدترین لوگ ہیں ، اور جسے انہوں نے قتل کیا ہو وہ آسمان کے نیچے قتل ہونے والے سب سے بہتر لوگ ہیں یہ بات بھی انہوں نے تین مرتبہ کہی پھر وہ رونے لگے میں نے کہا: اے ابوامامہ آپ کیوں رو رہے ہیں انہوں نے فرمایا : یہ لوگ پہلے ہمارے دین پر تھے ، تو مجھے یہ خیال آ گیا کہ پھر یہ لوگ کس طرف چلے گئے میں نے کہا: کیا یہ کوئی ایسی بات ہے ، جو آپ اپنی رائے کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں یا یہ کوئی ایسی بات ہے ، جس کے بارے میں آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی بات سنی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات ایک مرتبہ یا دو مرتبہ یا تین مرتبہ یہاں تک کہ انہوں نے سات مرتبہ کا ذکر کر کے انہوں نے فرمایا : اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہ بات اتنی مرتبہ ) نہ سنی ہوتی تو میں نے تمہیں یہ بیان نہیں کرنی تھی کیا تم نے سورہ آل عمران میں موجود یہ آیت نہیں پڑھی ہے : ” اس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے ، اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے “ ۔ یہ آیت کے آخر تک ہے : ” جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جن کے چہرے سفید ہوں گے ، تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے ، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے “ ۔ پھر انہوں نے یہ بات بیان کی یہودیوں نے اختلاف کیا اور پھر وہ اکہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے جن میں سے ستر فرقے جہنم میں جائیں گے ، اور ایک جنت میں جائے گا عیسائیوں نے اختلاف کیا اور وہ بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے جن میں سے اکہتر فرقے جہنم میں جائیں گے ، اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا اور یہ امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی جن میں سے بہتر فرقے جہنم میں جائیں گے ، اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا ہم نے کہا: آپ ان کی صفت ہمارے سامنے بیان کریں تو انہوں نے جواب دیا : سواد اعظم ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، اور امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10436
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (33) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8051) أخرجه أحمد فى المسند (250/5)»
حدیث نمبر: 10437
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ قَالَ : كُنْتُ مَعَ الْفَرَزْدَقِ فِي السِّجْنِ ، فَقَالَ الْفَرَزْدَقُ : لَا أَنْجَاهُ اللَّهُ مِنْ يَدَيْ مَالِكِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَارُودِ إِنْ لَمْ أَكُنِ انْطَلَقْتُ أَمْشِي بِمَكَّةَ ، فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَسَأَلْتُهُمَا ، فَقُلْتُ : إِنِّي مِنْ أَهْلِ الْمَشْرِقِ ، وَإِنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ عَلَيْنَا يَقْتُلُونَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَيَأْمَنُ مَنْ سِوَاهُمْ . فَقَالَا لِي - وَإِلَّا لَا أَنْجَانِي اللَّهُ مِنْ مَالِكِ بْنِ الْمُنْذِرِ - : سَمِعْنَا خَلِيلَنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " مَنْ قَتَلَهُمْ فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ - أَوْ شَهِيدِينَ - وَمَنْ قَتَلُوهُ فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن یزید ہنائی بیان کرتے ہیں : میں قید میں فرزدق کے ساتھ تھا فرزدق نے کہا: اللہ تعالیٰ اس کو مالک بن منذر بن جارود سے نجات عطا نہ کرے اگر میں پیدل چل کر مکہ نہ گیا ہوتا ، میری ملاقات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان دونوں سے سوال کیا میں نے کہا: میں مشرقی علاقے سے تعلق رکھتا ہوں کچھ لوگ نکل کر ہمارے سامنے آئے ، اور انہوں نے لا الہ الا اللہ پڑھنے والوں کے ساتھ جنگ شروع کر دی اور ان کے علاوہ لوگوں کو محفوظ قرار دیا ، تو ان دونوں حضرات نے مجھے یہ بتایا : جی نہیں ! ( فرزدق نے کہا: ) اللہ تعالیٰ مجھے مالک بن منذر سے نجات عطا نہ کرے ( اگر میں نے یہ بات نہ سنی ہو ) ان دونوں نے بتایا : ہم نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص انہیں قتل کرے گا اسے ایک شہید ( راوی کو شک شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو شہیدوں کا اجر ملے گا اور جس شخص کو وہ لوگ قتل کریں گے اسے شہید کا اجر ملے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10437
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (904)»