حدیث نمبر: 10355
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ سَرِيَّةً فَغَنِمُوا وَفِيهِمْ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنِّي لَسْتُ مِنْهُمْ ، عَشِقْتُ مِنْهُمُ امْرَأَةً فَلَحِقْتُهَا ، فَدَعُونِي أَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ اصْنَعُوا بِي مَا بَدَا لَكُمْ . فَأَتَى امْرَأَةً طَوِيلَةً أَدْمَاءَ فَقَالَ لَهَا : أَسْلِمِي حُبَيْشُ قَبْلَ نَفَادِ الْعَيْشِ . ¤ أَرَأَيْتِ لَوْ تَبِعْتُكُمْ فَلَحِقْتُكُمْ بِحَلْبَةٍ أَوْ أَلْفَيْتُكُمْ بِالْخَوَانِقْ أَمَا كَانَ حَقًّا أَنْ يَنُولَ عَاشِقٌ ¤ تَكَلَّفَ إِدْلَاجَ السَّرَى وَالْوَدَائِقْ قَالَتْ : نَعَمْ فَدَيْتُكَ . ¤ فَقَدَّمُوهُ فَضَرَبُوا عُنُقَهُ ، فَجَاءَتِ الْمَرْأَةُ فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ فَشَهِقَتْ شَهْقَةً أَوْ شَهْقَتَيْنِ ثُمَّ مَاتَتْ ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَحِيمٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی ان لوگوں کو مال غنیمت حاصل ہوا ان میں ایک شخص موجود تھا اس نے کہا: میں ان میں سے نہیں ہوں میں ان میں سے ایک عورت کے ساتھ عشق کرتا تھا تو میں اس سے جا ملا آپ لوگ مجھے موقع دیں کہ میں اسے دیکھ لوں پھر آپ میرے ساتھ جو مناسب ہو گا ؤہ کر لیجئے گا پھر وہ ایک طویل القامت گندمی رنگ کی عورت کے پاس آیا اور اس سے کہا: حبیش تم اسلام قبول کر لو اس سے پہلے کہ زندگی ختم ہو جائے ۔ ( اس کے بعد یہ اشعار کہے : ) ” کیا تمہیں یہ بات یاد ہے کہ جب میں نے تمہیں تلاش کیا تھا تو ہے حلیہ کے مقام پر پایا تھا یا خوانق کے مقام پر میں تم تک پہنچا تھا کیا یہ حق نہیں ہے کہ عاشق کو یہ چیز نصیب ہو کہ وہ رات کا زیادہ تر حصہ اور دن چڑھے کا وقت سفر کرتا رہے “ ۔ اس عورت نے کہا: ٹھیک ہے میں تم پر فدا ہو جاؤں پھر ان لوگوں نے اسے آگے کیا اور اس کی گردن اڑا دی پھر وہ عورت آئی اور اس پر گر گئی اس نے ایک یا دو مرتبہ جھر جھری لی اور پھر مر گئی جب وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تمہارے درمیان کوئی رحم دل شخص نہیں تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 10356
وَعَنْ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا بَعَثَ جَيْشًا أَوْ سَرِيَّةً يَقُولُ لَهُمْ : " إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا " . فَبَعَثَنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ وَأَمَرَنَا بِذَلِكَ ، فَخَرَجْنَا نَسِيرُ بِأَرْضِ تِهَامَةَ ، فَأَدْرَكْنَا رَجُلًا يَسُوقُ ظَعَائِنَ فَعَرَضْنَا عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ ، فَقُلْنَا : أَمُسْلِمٌ أَنْتَ ؟ ، فَقَالَ : وَمَا الْإِسْلَامُ ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ ، فَإِذَا هُوَ لَا يَعْرِفُهُ ، قَالَ : إِنْ لَمْ أَفْعَلْ فَمَا أَنْتُمْ صَانِعُونَ ؟ قُلْنَا : نَقْتُلُكَ . ¤ قَالَ : هَلْ أَنْتُمْ مُنْظِرِيَّ حَتَّى أُدْرِكَ الظَّعَائِنَ ؟ فَقُلْنَا : نَعَمْ ، وَنَحْنُ مُدْرِكُوهُ ، فَخَرَجَ فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي هَوْدَجِهَا ، فَقَالَ : أَسْلِمِي حُبَيْشُ قَبْلَ انْقِطَاعِ الْعَيْشِ . فَقَالَتْ : أُسْلِمُ عَشْرًا وَتِسْعًا تَتْرَى . ثُمَّ قَالَ : ¤ أَتَذْكُرُ إِذْ طَالَبْتُكُمْ فَوَجَدْتُكُمْ بِحَلْبَةٍ أَوْ أَدْرَكْتُكُمْ بِالْخَوَانِقِ فَلَمْ يَكُ حَقًّا أَنْ يَنُولَ عَاشِقٌ ¤ تَكَلَّفَ إِدْلَاجَ السُّرَى وَالْوَدَائِقِ فَلَا ذَنْبَ لِي إِذْ قُلْتُ إِذْ أَهْلُنَا مَعًا ¤ أَثِيبِي بِوِدٍّ قَبْلَ إِحْدَى الْمَضَائِقِ أَثِيبِي بِوِدٍّ قَبْلَ أَنْ يُشْحِطَ النَّوَى ¤ وَيَنْأَى الْأَمِيرُ بِالْحَبِيبِ الْمُفَارِقِ ثُمَّ أَتَانَا فَقَالَ : شَأْنُكُمْ . فَقَدَّمْنَاهُ فَضَرَبْنَا عُنُقَهُ ، وَنَزَلَتِ الْأُخْرَى مِنْ هَوْدَجِهَا فَجَثَتْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَتْ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عصام مزنی رضی اللہ عنہ جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر یا ایک جنگی مہم روانہ کی آپ نے ان سے فرمایا جب تم لوگ کوئی مسجد دیکھو یا کہیں سے مؤذن کو سنو تو کسی کو قتل نہ کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک جنگی مہم میں بھیج دیا ، اور ہمیں یہ حکم دیا ، تو ہم لوگ تہامہ کی سرزمین پر سفر کرتے ہوئے جا رہے تھے ہمیں ایک شخص ملا جو کچھ عورتوں کے اونٹوں کو لے کے جا رہا تھا ہم نے اسے اسلام کی پیشکش کی ہم نے دریافت کیا : کیا تم مسلمان ہو ۔ اس نے کہا: اسلام کیا ہوتا ہے ہم نے اسے اس بارے میں بتایا تو وہ اس سے واقف نہیں تھا اس نے دریافت کیا : اگر میں ایسا نہیں کرتا تو تم لوگ کیا کرو گے ہم نے کہا: ہم تمہیں قتل کر دیں گے اس نے کہا: کیا تم مجھے موقع دو گے کہ میں ان خواتین کے پاس چلا جاؤں ہم نے کہا: ٹھیک ہے ہم اس تک پہنچ سکتے تھے وہ شخص گیا وہاں ایک عورت اپنے ہودج میں موجود تھی اس شخص نے کہا: اے حبیش تم اسلام قبول کر لو اس سے پہلے کہ زندگی ختم ہو جائے ، تو اس عورت نے کہا: میں دسویں عورت مسلمان ہو جاؤں اور باقی نو بکھری رہیں ۔ پھر اس نے یہ اشعار کہے : ” کیا تمہیں یہ بات یاد ہے کہ جب میں نے تمہیں تلاش کیا تھا تو ہے حلیہ کے مقام پر پایا تھا یا خوانق کے مقام پر میں تم تک پہنچا تھا کیا یہ حق نہیں ہے کہ عاشق کو یہ چیز نصیب ہو کہ وہ رات کا زیادہ تر حصہ اور دن چڑھے کا وقت سفر کرتا رہے تو میرا کوئی گناہ نہیں ہے اگر میں نے یہ کہا: کہ جب ہم اکٹھے ہوں تو وہ میرے پاس ایسی محبت لے کر آئے جو کسی قسم کی تنگی سے پہلے ہو وہ میرے پاس ایسے وصل کے ہمراہ آئے جو دوری سے پہلے ہو اور امیر جدا ہونے والے محبوب سے دور ہو جائے “ ۔ پھر وہ ہمارے پاس آیا اس نے کہا: اب تم نے جو کرنا ہے کر لو ہم نے اسے آگے کر کے اس کی گردن اڑا دی پھر دوسری عورت ہودج سے اتری اور اس پر آ کر گر گئی ، یہاں تک کہ وہ مر گئی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا ابتدائی حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 10357
وَعَنْ عُرْوَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ الْعُمْرَةِ مِنْ نَجْدٍ ، أَمِيرُهُمْ ثَابِتُ بْنُ أَقْرَمَ فَأُصِيبَ بِهَا ثَابِتُ بْنُ أَقْرَمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کے علاقے عمرہ کی طرف ایک جنگی مہم روانہ کی ان لوگوں کے امیر سیدنا ثابت بنا قرم رضی اللہ عنہ تھے تو اس مہم میں سیدنا ثابت بن اقرم رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 10358
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ فَهُزِمْنَا ، فَاتَّبَعَ سَعْدٌ رَاكِبًا مِنْهُمْ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَرَأَى سَاقَهُ خَارِجَةً مِنَ الْغَرْزِ ، فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ ، فَرَأَيْتُ الدَّمَ يَسِيلُ كَأَنَّهُ شِرَاكٌ فَأَنَاخَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک جنگی مہم میں بھیجا ہم پسپا ہو گئے ان دشمنوں میں سے سعد نام کا ایک سوار آیا میں نے اس کی طرف مڑ کے دیکھا تو اس کی پنڈلی کو دیکھا کہ وہ رکاب سے باہر نظر آ رہی تھی میں نے اس کی پنڈلی پر تیر مارا تو میں نے دیکھا اس کا خون یوں بہہ رہا تھا جیسے وہ ایک تسمہ ہو ، اس نے اپنے جانور کو بٹھا لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10359
وَعَنْ خَبَّابٍ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ فَأَصَابَنَا الْعَطَشُ وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ ، فَتَنَوَّخَتْ نَاقَةٌ لِبَعْضِنَا وَإِذَا بَيْنَ رِجْلَيْهَا مِثْلُ السِّقَاءِ فَشَرِبْنَا مِنْ لَبَنِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک جنگی مہم میں بھیجا ہمیں پیاس لاحق ہو گئی ہمارے پاس پانی موجود نہیں تھا ہم نے اپنے میں سے کسی ایک شخص کی اونٹنی کو کھڑا کیا ، تو اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان مشکیزے کی طرح تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے ) تو ہم نے اس کا دودھ پی لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن بشار رمادی ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن بشار رمادی ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 10360
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْيَمَنِ ، وَاسْتَعْمَلَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ - عَلَى الْمُهَاجِرِينَ وَاسْتَعْمَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْأَعْرَابِ ، قَالَ : " وَإِنْ كَانَ قِتَالٌ فَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى جَمَاعَةِ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو شَيْبَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا آپ نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو مہاجرین کا امیر مقرر کیا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دیہاتیوں کا امیر مقرر کیا آپ نے ارشاد فرمایا : ” اگر لڑائی ہو ، تو علی بن ابوطالب سب لوگوں کا امیر ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔