کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ضاحیہ مضر کی طرف بھیجی جانے والی مہم
حدیث نمبر: 10354
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ بَعْثًا إِلَى ضَاحِيَةِ مُضَرَ ، فَذَكَرُوا أَنَّهُمْ نَزَلُوا فِي أَرْضٍ صَحْرَاءَ ، فَأَصْبَحُوا فَإِذَا هُمْ بِرَجُلٍ فِي قُبَّةٍ بِفِنَائِهِ غَنَمٌ فَجَاءُوهُ حَتَّى وَقَفُوا عَلَيْهِ ، فَقَالُوا : أَجْزِرْنَا فَأَجْزَرَهُمْ شَاةً ، فَطَبَخُوا مِنْهَا ثُمَّ أُخْرَى فَسَخِطُوهَا ، فَقَالَ : مَا بَقِيَ فِي غَنَمِي مِنْ شَاةِ لَحْمٍ إِلَّا شَاةٌ مَاخِضٌ أَوْ فَحْلٌ ، فَسَطَوْا فَأَخَذُوا مِنْهَا شَاةً . فَلَمَّا أَظْهَرُوا وَاحْتَرَقُوا وَهُمْ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ لَا ظِلَّ مَعَهُمْ ، قَالُوا : غَنَمُهُ فِي مِظَلَّتِهِ ، فَقَالُوا : نَحْنُ أَحَقُّ بِالظِّلِّ مِنْ هَذِهِ الْغَنَمِ ، فَجَاءُوا فَقَالُوا : أَخْرِجْ عَنَّا غَنَمَكَ نَسْتَظِلُّ ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ مَتَى تُخْرِجُونَهَا تَهْلِكُ فَتَطْرَحْ أَوْلَادَهَا ، وَإِنِّي قَدْ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَقَدْ صَلَّيْتُ وَزَكَّيْتُ ، فَأَخْرَجُوا غَنَمَهُ فَلَمْ تَلْبَثْ إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ حَتَّى تَنَاغَرَتْ فَطَرَحَتْ أَوْلَادَهَا . ¤ فَانْطَلَقَ سَرِيعًا حَتَّى قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ خَبَرَهُ ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضَبًا شَدِيدًا ، ثُمَّ قَالَ : " اجْلِسْ حَتَّى يَرْجِعَ الْقَوْمُ " . فَلَمَّا رَجَعُوا جَمَعَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ ، فَتَوَاتَرُوا عَلَى : كَذَبَ كَذَبَ ، فَسُرِّيَ عَنِ النَّبِيِّ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَلَمَّا رَأَى الْأَعْرَابِيُّ ذَلِكَ ، قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ لَيَعْلَمُ أَنِّي صَادِقٌ ، وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ وَلَعَلَّ اللَّهَ يُخْبِرُكَ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ صَادِقٌ ، فَدَعَاهُمْ رَجُلًا رَجُلًا يُنَاشِدُ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ بِنَشْدِهِ ، فَلَمْ يَنْشُدْ رَجُلًا مِنْهُمْ إِلَّا قَالَ كَمَا قَالَ الْأَعْرَابِيُّ . ¤ فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا يَحْمِلُكُمْ أَنْ تَتَابَعُوا فِي الْكَذِبِ كَمَا يَتَتَابَعُ الْفَرَاشُ فِي النَّارِ ، الْكَذِبُ يُكْتَبُ عَلَى ابْنِ آدَمَ إِلَّا ثَلَاثَ خِصَالٍ : رَجُلٌ كَذَبَ عَلَى امْرَأَتِهِ لِتَرْضَى عَنْهُ ، وَرَجُلٌ يَكْذِبُ فِي خُدْعَةِ الْحَرْبِ ، وَرَجُلٌ يَكْذِبُ بَيْنَ امْرَأَيْنِ مُسْلِمَيْنِ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمَا " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ طَرَفًا مِنْ آخِرِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضاحیہ مضر کی طرف ایک جنگی مہم بھیجی ان لوگوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ وہ لوگ صحرائی سرزمین پر پڑاؤ کیے ہوئے تھے صبح ہوئی ، تو وہاں ایک شخص موجود تھا جس کے خیمے میں بکریاں موجود تھیں وہ لوگ اس کے پاس آئے ، اور اس کے پاس ٹھہر گئے انہوں نے کہا: ہمیں ایک بکری دے دو تاکہ ہم اسے ذبح کر لیں اس نے انہیں ایک بکری ذبح کرنے کے لئے دے دی ان لوگوں نے اس بکری کو پکا لیا پھر انہوں نے دوسری بکری لی اور اسے تیزی سے ذبح کیا اس نے کہا: اب میری بکریوں میں کوئی ایسی بکری نہیں رہی جس کا گوشت استعمال کیا جا سکتا ہو صرف ایک حاملہ بکری ہے یا نر بکرا ہے ، تو ان لوگوں نے آگے بڑھ کر ، اس سے بکری لے لی جب ان لوگوں نے غلبہ حاصل کر لیا اور دشمن کے علاقے کو جلا دیا ، تو یہ ایک گرم دن تھا ان لوگوں کے پاس سائے کی کوئی چیز نہیں تھی ان لوگوں نے کہا: اس شخص کی بکریاں تو سائے میں ہیں پھر انہوں نے کہا: ہم ان بکریوں سے زیادہ سائے کے حق دار ہیں وہ لوگ آئے ، اور انہوں نے کہا: اپنی بکریاں یہاں سے نکال دو تاکہ ہم سائے میں آ جائیں تو اس شخص نے کہا: جب تم انہیں نکال دو گے ، تو یہ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گی اور بچوں کو جنم دینا شروع کر دیں گی جبکہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں ۔ میں نے نماز ادا کی ہے میں نے زکوٰۃ ادا کی ہے ان لوگوں نے اس کی بکریاں نکال دیں دن کا تھوڑا حصہ گزرنے کے بعد ان بکریوں کا خون نکلنا شروع ہوا اور انہوں نے بچوں کو جنم دینا شروع کر دیا وہ شخص تیزی سے چلتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اپنی صورت حال کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شدید غصے میں آ گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بیٹھے رہو جب تک وہ لوگ واپس نہیں آ جاتے جب وہ لوگ واپس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اور اس شخص کو جمع کیا ، تو ان لوگوں نے یکے بعد دیگرے غلط بیانی شروع کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ کم ہوا جب دیہاتی نے یہ صورت حال دیکھی تو اس نے کہا: اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ میں نے سچ کہا: ہے ، اور یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں اے اللہ کے نبی ! ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو اس بارے میں بتا دے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندازہ ہو گیا کہ یہ شخص سچا ہے آپ نے ان لوگوں کو ایک ایک کر کے بلانا شروع کیا اور ان میں سے ہر ایک شخص کو واسطہ دیا جب آپ نے ہر ایک شخص کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کیا : تو اس نے وہی بات بیان کی جو اس دیہاتی نے بیان کی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اور فرمایا : تمہیں کسی چیز نے اس بات کی ترغیب دی کہ تم یکے بعد دیگرے جھوٹ بولو جس طرح پتنگے یکے بعد دیگرے آگ میں گرتے ہیں انسان کے لئے جھوٹ کو نوٹ کر لیا جاتا ہے البتہ تین صورتوں کا معاملہ مختلف ہے جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ غلط بیانی کرے تاکہ وہ عورت اس سے راضی ہو جائے یا کوئی شخص جنگ میں دھوکہ دینے کے لئے غلط بیانی کرے یا کوئی شخص دو مسلمانوں کے درمیان صلح کروانے کے لئے غلط بیانی کرے “ ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے اس روایت کا آخری حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10354
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (164/24) اخرجه احمد فى المسند (459/6)»