حدیث نمبر: 10343
عَنْ جُنْدَبِ بْنِ مَكِيثٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَالِبَ بْنَ أَبْحَرَ الْكَلْبِيَّ كَلْبَ لَيْثٍ إِلَى بَنِي الْمُلَوَّحِ بِالْكَدِيدِ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُغِيرَ عَلَيْهِمْ ، فَخَرَجَ فَكُنْتُ فِي سَرِيَّتِهِ ، فَمَضَيْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِقُدَيْدٍ لَقِينَا الْحَارِثَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ ابْنُ الْبَرْصَاءِ اللِّيثِيُّ فَأَخَذْنَاهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا جِئْتُ لِأُسْلِمَ ، فَقَالَ غَالِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : إِنْ كُنْتَ إِنَّمَا جِئْتَ لِتُسْلِمَ فَلَنْ يَضُرَّكَ رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ اسْتَوْثَقْنَا مِنْكَ . قَالَ : فَأَوْثَقَهُ رِبَاطًا ثُمَّ خَلَّفَ عَلَيْهِ رَجُلًا أَسْوَدَ كَانَ مَعَنَا ، قَالَ : امْكُثْ مَعَهُ حَتَّى نَمُرَّ عَلَيْكَ ، فَإِنْ نَازَعَكَ فَاحْتَزَّ رَأْسَهُ . ¤ قَالَ : ثُمَّ مَضَيْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بَطْنَ الْكَدِيدِ فَنَزَلْنَاهُ عَشِيَّةً بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَبَعَثَنِي أَصْحَابِي رَبِيئَةً ، فَعَمَدْتُ إِلَى تَلٍّ يُطْلِعُنِي عَلَى الْحَاضِرِ فَانْبَطَحْتُ عَلَيْهِ ، وَذَلِكَ قُبَيْلَ الْمَغْرِبِ ، فَخَرَجَ [ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَنَظَرَ ] فَرَآنِي مُنْبَطِحًا عَلَى التَّلِّ ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : وَاللَّهِ لَأَرَى عَلَى هَذَا التَّلِّ سَوَادًا مَا رَأَيْتُهُ أَوَّلَ النَّهَارِ ، فَانْظُرِي لَا تَكُونُ الْكِلَابُ اجْتَرَّتْ بَعْضَ أَوْعِيَتِكِ ، قَالَ : فَنَظَرَتْ ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ ، مَا أَفْقِدُ شَيْئًا . ¤ قَالَ : فَنَاوِلِينِي قَوْسًا وَسَهْمَيْنِ مِنْ نَبْلِي ، قَالَ : فَنَاوَلَتْهُ فَرَمَانِي بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِي جَنْبِي ، قَالَ : فَنَزَعْتُهُ فَوَضَعْتُهُ وَلَمْ أَتَحَرَّكْ ، ثُمَّ رَمَانِي بِآخَرَ فَوَضَعَهُ فِي رَأْسِ مَنْكِبِي فَنَزَعْتُهُ وَلَمْ أَتَحَرَّكْ ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : وَاللَّهِ لَقَدْ خَالَطَهُ سَهْمَايَ ، وَلَوْ كَانَ زَائِلَةً لَتَحَرَّكَ ، فَإِذَا أَصْبَحْتِ فَابْتَغِي سَهْمَيَّ فَخُذِيهِمَا لَا يَمْضُغُهُمَا عَلَيَّ الْكِلَابُ . قَالَ : وَأَمْهَلْنَاهُمْ حَتَّى رَاحَتْ رَائِحَتُهُمْ حَتَّى إِذَا احْتَلَبُوا وَغَطَّوْا أَوْ سَكَنُوا ، وَذَهَبَتْ عَتَمَةٌ مِنَ اللَّيْلِ شَنَنَّا عَلَيْهِمُ الْغَارَةَ فَقَتَلْنَا مَنْ قَتَلْنَا مِنْهُمْ ، وَاسْتَقْنَا النَّعَمَ فَوَجَّهْنَاهَا قَافِلِينَ . ¤ وَخَرَجَ صَرِيخُ الْقَوْمِ إِلَى قَوْمِهِمْ مُعَوِّيًا ، وَخَرَجْنَا سِرَاعًا حَتَّى نَمُرَّ بِالْحَارِثِ بْنِ الْبَرْصَاءِ وَصَاحِبِهِ ، فَانْطَلَقْنَا بِهِ مَعَنَا ، وَأَتَانَا صَرِيخُ النَّاسِ فَجَاءَ بِمَا لَا قِبَلَ لَنَا بِهِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ إِلَّا بَطْنُ الْوَادِي ، أَقْبَلَ سَيْلٌ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ بَعَثَهُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ شَاءَ ، مَا رَأَيْنَا قَبْلَ ذَلِكَ مَطَرًا وَلَا حَالًا فَجَاءَ بِمَا لَا يَقْدِرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنْ يُقْدِمَ عَلَيْهِ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وُقُوفًا يَنْظُرُونَ إِلَيْنَا مَا يَقْدِرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنْ يَقْدَمَ وَنَحْنُ نُجَوِّزُهَا سِرَاعًا حَتَّى أَسْنَدْنَاهَا فِي الْمَشْلَلِ ثُمَّ حَدَرْنَاهَا عَنَّا ، فَأَعْجَزْنَا الْقَوْمَ بِمَا فِي أَيْدِينَا . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ فَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقَ بِالسَّمَاعِ فِي رِوَايَةِ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جندب بن مکیث جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا غالب بن ابجر کا قلبی رضی اللہ عنہ کو جن کا تعلق کلب لیث سے ہے انہیں بنو ملوح کی طرف بھیجا جو کدید کے مقام پر رہتا تھا آپ نے انہیں یہ حکم دیا کہ ان پر حملہ کریں وہ نکلے میں بھی اس مہم میں شامل تھا ہم چلتے رہے یہاں تک کہ جب ہم کدید کے مقام پر پہنچے تو ہمارا سامنا حارث بن مالک بن برصاء لیثی سے ہوا ہم نے اسے پکڑ لیا تو اس نے کہا: کہ میں اسلام قبول کرنے کے لئے آیا ہوں تو سیدنا غالب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو تم اسلام قبول کرنے کے لئے آئے ہو ، تو اگر تمہیں ایک دن اور ایک رات کے لئے باندھ دیا جائے ، تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا اور اگر تمہارا مقصد اس کے علاوہ کچھ اور تھا تو اس کی ہم تحقیق کر لیں گے راوی کہتے ہیں : تو انہوں نے انہیں باندھ دیا ، اور ایک سیاہ فام شخص کو ان کا نگران مقرر کیا جو ہمارے ساتھ تھا ، اور یہ کہا: کہ تم اس کے ساتھ رہو ، یہاں تک کہ ہم تمہارے پاس سے واپسی پر گزریں گے اگر یہ تمہارے ساتھ جھگڑا کرنے کی کوشش کرے تو اس کا سر اڑا دینا راوی کہتے ہیں : ہم چلتے رہے ، یہاں تک کہ ہم کدید نامی جگہ کے نشیبی حصے میں آئے عصر کے بعد شام ہو جانے کے بعد ہم نے اس جگہ پر پڑاؤ کیا میرے ساتھیوں نے مجھے جاسوسی کرنے کے لئے بھیجا میں ایک ٹیلے کی طرف بڑھا تاکہ وہاں سے لوگوں کو دیکھ سکوں میں اس ٹیلے پر چڑھ گیا یہ مغرب سے تھوڑی دیر پہلے کی بات ہے ان میں سے ایک شخص آبادی سے باہر آیا اس نے دیکھا کہ ٹیلے پر ایک شخص موجود ہے ، تو اس نے اپنی بیوی سے کہا: اللہ کی قسم مجھے اس ٹیلے پر ایک سیاہ چیز نظر آ رہی ہے ، جو میں نے دن کے ابتدائی حصے میں یہاں نہیں دیکھی تھی تم اس بات کا دھیان رکھنا کہ کہیں کتے تمہارے کسی برتن کو نقصان نہ پہنچا دیں اس عورت نے کہا: جی نہیں اللہ کی قسم مجھے تو کوئی چیز غیر محسوس نہیں ہوئی اس شخص نے کہا: پھر تم مجھے کمان اور دو تیر پکڑاؤ اس عورت نے وہ انہیں پکڑا دیے اس شخص نے مجھے ایک تیر مارا جو میرے پہلو پر آ کر لگا میں نے وہ نکال دیا ، اور اسے رکھ دیا لیکن میں نے حرکت نہیں کی پھر اس نے مجھے دوسرا تیر مارا جو میرے کندھے کے سرے پر لگا میں نے وہ بھی نکال دیا ، اور حرکت نہیں کی اس نے اپنی بیوی سے کہا: اللہ کی قسم اسے میرے دونوں تیر لگے ہیں اگر کوئی ہلنے والی چیز ہوتی تو وہ حرکت کرتی جب صبح ہو گی تو تم میرے دونوں تیر تلاش کرنا اور انہیں لے لینا ایسا نہ ہو کہ کتے انہیں چبا کے خراب کر دیں راوی کہتے ہیں : ہم نے ان لوگوں کو مہلت دی ، یہاں تک کہ جب شام ہو گئی ان لوگوں نے دودھ دوہ لیا اور جانوروں کو بٹھا دیا ، اور پرسکون ہو گئے ، اور رات کا ایک حصہ گزر گیا تو ہم نے ان پر حملہ کر دیا ان میں سے کچھ لوگوں کو ہم نے قتل کر دیا ، اور ان کے جانوروں کو اپنے ساتھ ہانک لیا ہم نے ان کا رخ جب واپسی کے وقت کیا ، تو ان میں سے کوئی شخص لوگوں کو چیخ کر بلانے کے لئے نکلا وہ مدد مانگنا چاہ رہا تھا ہم بھی تیزی سے وہاں سے نکلے ہمارا گزر حارث بن برصاء اور اس کے ساتھی کے پاس سے ہوا تو ہم نے انہیں بھی ساتھ لے لیا پھر چیخنے والا شخص ہمارے پاس آیا اور وہ ایسی چیز لے کے آیا ، جس کا سامنا کرنے کی ہم میں طاقت نہیں تھی ، یہاں تک کہ جب ہمارے اور ان کے درمیان وادی کا نشیبی حصہ رہ گیا تو اسی دوران سیلاب آیا تو ہمارے اور ان کے درمیان رکاوٹ بن گیا اللہ تعالیٰ نے جہاں سے چاہا تھا اس سیلاب کو بھیج دیا تھا حالانکہ ہم نے اس سے پہلے یا اس وقت کوئی بارش نہیں دیکھی تھی تو ایک ایسی چیز آ گئی کہ ان میں سے کوئی بھی یہ قدرت نہیں رکھتا تھا کہ اسے پار کر سکے مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم ٹھہرے ہوئے تھے اور وہ لوگ ہماری طرف دیکھ رہے تھے ان میں سے کوئی بھی آگے بڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا ، اور ہم تیزی سے ان سے دور ہوتے چلے جا رہے تھے ، یہاں تک کہ ہم مشلل ( نامی ٹیلے ) پر چڑھ گئے پھر ہم اس سے نیچے اتر آئے ، تو جو کچھ ہمارے قبضے میں تھا ہم نے اس کے حوالے سے دشمن کو عاجز کر دیا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا ابتدائی حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے ، جو طبرانی کی روایت میں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے ، جو طبرانی کی روایت میں ہے ۔